بھارتی فلمی دنیا کے خودغرض رشتے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 ستمبر 2012 ,‭ 12:02 GMT 17:02 PST
اے کے ہنگل

اے کے ہنگل نے آخری وقت میں معاشی تنگی دیکھی

پروین بابی ہوں یا راجش کھنہ یا پھر حال ہی اس دنیا کو الوداع کہنے والے اداکار اے کے ہنگل، فلمی دنیا نے اپنے ان ستاروں کو ان کے آخری وقت میں یاد نہیں رکھا اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا تھا۔

اے کے ہنگل گزشتہ مہینے کی چھبیس تاریخ کو انتقال کرگئے تھے۔ ڈھائی سو سے زائد فلموں میں کام کر چکے اے کے ہنگل کی آخری رسومات ممبئی کے جوہو ورسووا علاقے میں ہوئی جہاں سے کچھ ہی فاصلے پر بیشتر فلمی ہستیاں رہتی ہیں لیکن بہت کم فنکاروں نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔

لیکن تقریباً دو ماہ قبل بالی وڈ کے پہلے سپر سٹار کہے جانے والے راجیش کھنہ کا انتقال ہوا تھا اور ان کی آخری رسومات میں سبھی چھوٹے بڑے اداکار اور فلمی ہستیوں نے شرکت کی تھی یہ الگ بات ہے کہ جب وہ فلموں میں کام نہیں کر رہے تھے تو ان کے دوستوں کی فہرست مختصر ہوگئی تھی۔

گزشتہ کچھ برس قبل ستر اور اسی کی دہائی کے مشہور اداکار پروین بابی ممبئی میں واقع اپنے فلیٹ میں مردہ پائی گئی تھیں۔ انتقال سے کئی برس پہلے ہی انہوں نے ہندی فلم انڈسٹری سے کنارہ کر لیا تھا۔

چوبیس فروری انیس سو اٹھانوے کو ہندی فلموں کی شاید سب سے غیر مقبول ساس یعنی اداکارہ للتا پوار پونے میں واقع اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔ مرتے وقت ان کے پاس کوئی نہیں تھا اور جب ان کی لاش ملی تو اس سے بدبو آ رہی تھی۔

یہ فہرست اور طویل ہو سکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ فلم انڈسٹری اتنی خود غرض جگہ ہے جہاں لوگ آسانی سے اپنے سپرسٹارز اور اداکاروں کو بھول جاتے ہیں؟

اے کے ہنگل نے آخری وقت میں معاشی تنگی دیکھی اور حالات یہ ہوگئے تھے کہ ان کے بیٹوں نے ان کے علاج کے لیے بالی وڈ سے مالی امداد کی اپیل کی تھی۔

راجیش کھنہ کی آخری رسومات کی تصویر

راجیش کھنہ کی آخری رسومات میں سبھی چھوٹے بڑے اداکار اور فلمی ہستیوں نے شرکت کی تھی

اے کے ہنگل کو خراجِ عقیدت پیش کرنے پہنچے اداکار رضا مراد انڈسٹری کے اس ’چلن‘ سے بے حد خفا ہیں اور بی بی سی کے پرباتھ پانڈے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی ناراضگی کا کھل کر اظہار کیا۔

رضا مراد کا کہنا ہے ’بہت شرم کی بات ہے کہ جس اداکار نے انڈسٹری کی پچاس سال خدمت کی اسے یہ بڑے ستارے آخری وقت میں پچاس منٹ بھی نہیں دے پائے۔ ہنگل صاحب طویل عرصے سے بیمار تھے۔ ان کو دیکھنے بھی کوئی بڑا ستارہ نہیں پہنچا تھا۔ صرف ائرکنڈیشنڈ کمرے سے ٹوئٹر کے ذریعے افسوس ظاہر کرنا کافی نہیں ہوتا‘۔

فلم ناقد جے پرکاش چوكسے کہتے ہیں کہ جب کوئی فنکار اپنی موت سے کافی پہلے فلموں میں کام کرنا بند کر چکا ہوتا ہے تو عام طور پر اس کی موت گمنامی میں ہی ہوتی ہے۔

لیکن راجیش کھنہ نے بھی تو بہت پہلے اداکاری چھوڑ دی تھی تو پھر ان کی آخری رسومات میں اتنی بھیڑ کیوں؟

جے پرکاش کہتے ہیں کہ ’راجیش کھنہ ہندی فلموں کے پہلے سپر سٹار تھے جبکہ ہنگل صاحب نے زیادہ تر ثانوی کردار ہی کیے۔ راجیش کھنہ سے ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ ان کی فلموں کے ذریعے جڑا تھا لیکن ہنگل صاحب کے ساتھ وہ بات نہیں تھی ساتھ ہی ان کی نسل کے زیادہ تر فنکار اب اس دنیا میں نہیں‘۔

پروین بابی

پروین بابی اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں

فلم ناقد نمرتا جوشی کہتی ہیں کہ انڈسٹری میں چڑھتے سورج کو سلام کرنے کی پرانی روایت ہے۔

ان کا کہنا ہے ’پرانی نسل کے فنکار اپنے پیسوں کو اچھی طرح سے انویسٹ نہیں کرتے تھے۔ آج کی نسل اس معاملے میں ہوشیار ہوگئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پرانے زمانے کے اداکار اپنے آخری وقت میں معاشی تنگی کا شکار ہوتے ہیں‘۔

رضا مراد پروین بابی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں ’پروین نے خود ہی اپنے آپ کو انڈسٹری سے دور کر لیا تھا۔ان کے معاملے میں فلم انڈسٹری کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ وہ ذہنی بیماری کا شکار رہی تھیں۔ ان سے کوئی ملنے بھی جاتا تو وہ ملنے سے انکار کر دیتی‘۔

نمرتا جوشی کہتی ہیں کہ فلمی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ ’دا شو مسٹ گو آن‘ اور فلم انڈسٹری اس کہاوت کو واقعی بہت سنجیدگی سے لیتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔