’کہانی انسانیت کی ہے، سیاست کی نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 ستمبر 2012 ,‭ 18:27 GMT 23:27 PST

’موسون ویڈنگ‘ اور ’سلام بمبئی‘ کی ہدایتکار، چوّن سالہ میرا نائر کئی دہائیوں سے نیو یارک میں مقیم ہیں

پاکستانی مصنف محسن حامد کی کتاب پر مبنی میرا نائر کی فلم ’دی ریلکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ‘ میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات کے بعد مشرق اور مغرب کے درمیان پیدا ہونے والا شدید ثقافتی تصادم ابھر کر سامنے آتا ہے۔ گزشتہ ہفتے اس فلم کی وینس فلمی میلے میں نمائش کی گئی۔

برطانوی اداکار رِض احمد نے فلم کا مرکزی کردار ادا کیا ہے جو کہ ایک پاکستانی نژاد امریکی نوجوان کا ہے جو نیویورک میں ہونے والے حملوں کے بعد اپنی شناخت پر نظرثانی کرتا ہے۔

یہ پاکستان اور بھارت کی پہلی مشترکہ فلمی پیشکش ہے جس میں ہالی وڈ کے اداکار لیو شرائیبر اور کیٹ ہڈسن نے بھی کام کیا ہے۔

’مونسون ویڈنگ‘ اور ’سلام بمبئی‘ کی ہدایتکار، چوّن سالہ میرا نائر کئی دہائیوں سے نیو یارک میں مقیم ہیں۔ ان کے خیال میں اگرچہ وہ حال ہی میں پہلی بار پاکستان گئی ہیں تاہم وہ محسن حامد کی کہانی کو بڑی سکیرین پر لانے کے لیے بہترین پوزیشن میں تھیں۔

’میں اس کتاب کو اپنے لیے ایک تحفہ سمجھتی ہوں۔ چند سال قبل میں پہلی بار پاکستان گئی۔ بھارت میں پلتے بڑھتے ہم آسانی سے سرحد پار نہیں جاتے اور وہاں کے دورے نے مجھ پر گہرے اثرات چھوڑے۔ لاہور بالکل ویسا نہیں جسیا کہ پاکستان کو بتایا جاتا ہے ۔۔۔ یعنی بدعنوانی اور ڈرون حملوں کا گڑھ بلکہ مجھے تو وہ مشرق کا وینس لگا، خوبصورتی اور نفاست کا شہر۔‘

انہوں نے مزید کہا ’تو اس کے بعد میں جدید پاکستان کے بارے میں فلم بنانا چاہتی تھی اور یہ کتاب میرے لیے بہانہ بن گئی۔ اس فلم سے میں آج کی دنیا کے لیے کچھ کر سکتی تھی اور پاکستان، بھارت اور مغرب کے درمیان بات چیت کو فروغ دے سکتی تھی۔ گزشتہ دہائی میں ہم نے ان ثقافتوں کے بیچ انتہائی احتیاط سے چلنا پڑا ہے۔‘

میرا نائر کی فلم میں اداکار لیو شرائیبر ایک امریکی صحافی کا کردار ادا کر رہے ہیں جو کہ لاہور میں ایک یونیورسٹی پروفیسر چنگیز خان کا انٹرویو کرنے جاتا ہے۔ چنگیز خان پر مغرب مخالف جذبات اکسانے کا الزام تھا۔

’آپ کو اس قدر نازک مضمون سے نمٹنے کے لیے ایک انتہائی نازک توازن کو قائم کرنا پڑتا ہے‘۔ کیٹ ہڈسن

کہانی میں بتایا جاتا ہے کہ چنگیز خان نے ماضی میں پرنسٹن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور امریکی کاروباری دنیا میں کافی کامیاب بھی تھے۔ مگر جب انہوں نے ان ٹاوروں کو ٹی وی پر گرتے دیکھا تو وہ اپنے اندر کے ابتدائی ردِ عمل کو بھول نہ سکے جو کہ تھا دہشتگردوں کے مغربی سرمایہ کارانہ نظام کے خلاف حملہ کرنے کی ہمت کے لیے پسندیدگی۔

اداکار رِض احمد کا ماننا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہالی وڈ نے ان واقعات کو غیر امریکی نظر سے دکھایا ہے۔

میرا نائر کا کہنا ہے یہ فلم بنیادی طور پر انسانیت کے بارے میں ہے۔

’یہ ایک انسانی کہانی ہے ۔۔۔ ایک پاکستانی نوجوان کی جو کہ امریکہ کے خواب دیکھتا ہے، امریکہ سے پیار کرتا ہے اور اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے ۔۔۔ مگر ایک دم سے اس کی دنیا بدل جاتی ہے اور اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘

فلم کے اداکاروں کا کہنا ہے کہ مغربی ناظرین کے لیے یہ فلم دیکھنا آسان نہیں ہو گا۔

"گیارہ ستمبر کے بعد ہم جیسے بہت سے لوگ جو کہ نیو یارک کو اپنا گھر سمجھتے تھے، ہم جیسے دکھتے تھے، ایک دم سے الگ تصور ہونے لگے۔ اس کہانی کے بارے میں مجھے جو بات پسند آئی وہ یہ کہ اس میں تمام انداز فکر نظر آتے ہیں۔"

فلم ساز میرا نائر

کیٹ ہڈسن کہتی ہیں ’آپ کو اس قدر نازک مضمون سے نمٹنے کے لیے ایک انتہائی نازک توازن کو قائم کرنا پڑتا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں اس فلم میں کام کرنے کے لیے رضامند ہوتی میرے لیے میرا نائر سے خود ملنا اور ان کا مجھے اس کہانی کو سمجھانا ضروری تھا۔‘

تاہم میرا نائر کہتی ہیں کہ ان کو وہ مشکلات یاد ہیں جو انہیں اور ان کے خاندان کو گیارہ ستمبر اور افغانستان میں امریکی حملے کے واقعات کے دوران جھیلنا پڑیں۔

’گیارہ ستمبر کے بعد ہم جیسے بہت سے لوگ جو کہ نیو یارک کو اپنا گھر سمجھتے تھے، ہم جیسے دکھتے تھے، ایک دم سے الگ تصور ہونے لگے۔ اس کہانی کے بارے میں مجھے جو بات پسند آئی وہ یہ کہ اس میں تمام انداز فکر نظر آتے ہیں۔‘

دی ریلکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ پر منظرِ عام پر آنے کے بعد سے مختلف قسم کے تبصرے کیے جا چکے ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈیئن نے اسے طاقتور کہانی سازی کہا اور مرکزی اداکار رض احمد کی کارکردگی کو سراہا مگر اس میں اسلامی قدامت پسندی اور امریکی سرمایہ کاری نظام کو مدِ مقابل لانے میں کسی خامی کے احساس کا بھی ذکر کیا۔

اخبار دی ٹیلی گراف نے تعریف کے ساتھ کہا کہ فلم دی ’فور لائنز‘ نے ایسے ہی مشکل موضوعات کو شاید بہتر انداز میں پیش کیا تھا۔

ہالی وڈ رپوٹر نے اس بات کی نشادہی کی کہ ان حملوں سے تین روز قبل میرا نائر کو ان کی فلم مونسون ویڈنگ کے لیے وینس گولڈن لائن ایوارڈ ملا تھا اور شاید یہ فلم ثقافت میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔

میرا نائر کہتی ہیں کہ سیاست اس فلم کا محور نہیں ہے۔

’میں نے صرف پاکستان یا امریکہ کے بارے میں فلم نہیں بنائی ہے۔ یہ انسانیت کے بارے میں ہے اور ان فیصلوں کے بارے میں جو ہمیں روز کرنا پڑتے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔