ہندی فلموں کی بدلتی زبان

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 ستمبر 2012 ,‭ 08:58 GMT 13:58 PST
فلمیں

حال میں آنے والی ہندی فلموں میں کافی مختلف قسم کی زبان کا استعمال ہوا ہے۔

حال ہی میں ہندوستانی سینما کے سو سال پورے ہو رہے ہیں اور ان سو سالوں میں فلموں میں بے شمار تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور وقت کے ساتھ سینما کی تصویر بھی بدلتی چلی گئی۔

زبان کی سطح پر بھی یہ تبدیلیاں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔

جہاں ہندی سینما کی شروعات سنہ انیس سو تیرہ میں ریلیز ہونے وال خاموش فلم ’راجہ ہریش چندر‘ سے مانا جاتا ہے وہیں انیس سو اکتیس میں بھارت میں پہلی گویا فلم ’عالم آرا‘ بنتی ہے۔

اگر فلم میں مکالمے کی بات کی جائے تو اس کا آغاز ’عالم آرا‘ سے ہی ہوتا ہے۔جہاں ابتدائی دور میں زبان صاف اور سادہ تھی، وہیں جدید دور کی زبان کے بہت سے رنگ ہیں۔ آج ’سلینگ‘یا غیر فصیح، یا غلط زبان یا پھر ہندوستانی انگریزی کا دھڑلے سے استعمال ہو رہا ہے۔

نغمہ نگار گلزار کے معروف گیت ’مورا گورا رنگ لئی لے‘ سے لے کر امیتابھ بھٹاچاریہ کے گیت ’ڈی کے بوس‘ تک زبان کے استعمال میں کتنا فرق آ گیا ہے اس کا اندازہ فلم بین از خود لگا سکتے ہیں۔

گالیاں سماج کا حصہ

"کیا گالیاں ہمارے سماج کا حصہ نہیں ہیں؟ لیکن جب میں فلم کے نغمے یا ڈائیلاگ لکھتا ہوں تو میں غلط زبان یا گالم گلوچ کا استعمال کرنا پسند نہیں کرتا، ذاتی زندگی میں بھی مجھے ایسی زبان سے سخت اعتراض ہے"

نغمہ نگار جاوید اختر

ہندی فلموں میں استعمال ہونے والی ہندی زبان کے خالص پن میں دن بدن کمی دیکھی جا رہی ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

’دیو ڈی‘،’پرواز‘ اور ’ڈیلی بیلي‘ جیسی فلموں کے لیے گیت لکھنے والے امیتابھ بھٹاچاریہ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہاکہ ’آج ہندوستان میں جو زبان بولی جاتی ہے اس میں سب سے کم تناسب ہندی کا ہی ہے۔ ستر فیصد انگریزی ہے، 20 فیصد اردو ہے اور باقی جو بچتا ہے دس فیصد وہ ہندی کے الفاظ ہیں۔ فلم تو سماج کا آئینہ ہوتی ہے، جب اصل زندگی میں ہی ہندی کا استعمال کم ہوتاجا رہا ہے تو فلموں کی کیا بات ہے۔‘

امیتابھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلموں میں زبان کے استعمال کا انحصار بہت حد تک فلموں کی کہانی پر بھی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ’فلم کس موضوع پر بن رہی ہے، فلم کے کردار کس طرح کے ہیں انہی باتوں کو ذہن میں رکھ کر گیت لکھنے پڑتے ہیں۔‘

فلم اور سماج کے درمیان گہرا رشتہ ہوتا ہے. جہاں فلمیں سماج سے موضوعات کا انتخاب کرتی ہیں وہیں سماج پر اپنا اثر بھی ڈالتی ہیں۔

جاوید اختر

ایک زمانے میں ہندی فلموں کے گیتوں میں زبان کا اعلیٰ معیار ہوتا تھا۔

نغمہ نگار اور مصنف جاوید اختر بھی اس خیال سے اتفاق رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندی کو پھیلانے میں، اسے لوگوں کی اپنی زبان بنانے میں ہندی فلموں کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل ہندی کو ہندی فلموں کے ذریعے ہی جانتی ہے۔ ہمارے ملک میں ہی کیوں دوسرے ملکوں میں بھی ہندی کی پروموشن کا کریڈٹ ہندی فلموں کو ہی جاتا ہے۔‘

لیکن اگر جاوید صاحب سے یہ پوچھا جائے کہ جس طرح کی زبان کا استعمال ’ڈیلی بیلی‘ اور ’گینگز آف واسع پور‘ میں ہوا ہے کیا اس سے ہندی کے معیار میں کمی نہیں آئی ہے؟

جاوید صاحب کہتے ہیں کہ’میں اس معاملے میں کوئی رائے نہیں دینا چاہتا۔ کیا گالیاں ہمارے سماج کا حصہ نہیں ہیں؟ لیکن جب میں فلم کے نغمے یا مکالمے لکھتا ہوں تو میں غلط زبان یا گالم گلوچ کا استعمال کرنا پسند نہیں کرتا، ذاتی زندگی میں بھی مجھے ایسی زبان سے سخت اعتراض ہے۔‘

جاوید اختر کا کہنا ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ انہوں نے بھی اپنی گیت لکھنے کی زبان کو تبدیل کیا ہے۔

ان کے بقول ’برسوں پہلے ہم اپنے گاؤں میں انگریزی الفاظ کے استعمال کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔‘

میرے اپنے گیت، ’دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے‘ یا پھر ’یہ کہاں آ گئے ہم‘ میں شاعرانہ انداز نظر آتا ہے، مگر فلم ’کل ہو نہ ہو‘ میں گانے میں ایک آدھ لائن جیسے، ’وئیر از دی پارٹی ٹونائٹ‘ بھی لکھا ہے، یہ تو سچ ہے کہ گیتوں میں، نظموں کی زبان میں تبدیلی آئی ہے۔‘

بی بی سی سے کی گئی ایک خاص بات چیت میں ساٹھ اور ستر کی دہائی کی مشہور اداکارہ آشا پاریکھ نے اپنی رائے رکھتے ہوئے کہاکہ’میں نے اپنی تعلیم ایک پارسی سکول سے کی اور میں بھی زیادہ تر انگریزی ہی بولتی تھی، لیکن فلموں میں آنے کے بعد میں نے اپنی زبان کو صاف اور شستہ بنانے کے لیے ایک اردو ٹیچر رکھا اور اردو سیکھی۔‘

آشا پاریکھ بھی مانتی ہیں کہ بدلتے زمانے کے ساتھ ہندی زبان نے بھی اپنا رنگ بدلا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔