عورتیں، جنگ اور قیامِ بنگلہ دیش

آخری وقت اشاعت:  پير 10 ستمبر 2012 ,‭ 09:09 GMT 14:09 PST

اس کتاب میں مذکورہ تشدد کا نشانہ بننے والی ان عورتوں کے انٹرویو بھی ہیں جو صرف بنگالی نہیں

نام کتاب: ویمن، وار اینڈ دا میکنگ آف بنگلہ دیش

مصنف: یاسمین سائیکیا

صفحات: 320

قیمت: 675 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

پاکستان میں 1970 کے انتخابات کے بعد فوجی حکومت نے اقتدار طے شدہ طریقے کے مطابق اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کو نہیں دیا۔

اس رویّے کے خلاف مشرقی حصے میں احتجاج شروع ہوا جسے دبانے کے لیے انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والی سیاسی پارٹی کی ملی بھگت سے، مشرقی پاکستان اضافی فوجی قوت بھیج کر آپریشن کیا گیا۔ بالکل اُسی طرح جیسے نوآبادکار نوآبادیات کی بغاوتوں کو کچلنے کے لیے کیا کرتا تھا۔ یہ پس منظر ایک الگ تفصیل اور بحث کا تقاضا کرتا ہے لیکن پوری ایک جنگ تھی جو برائے نام مسلح یا نہتے مقامی لوگوں کے خلاف ایسی غیرمقامی فوج کر رہی تھی جو پوری طرح مسلح تھی اور اس میں اُسے اس سیاسی جماعت اور گروہوں کی حمایت بھی حاصل تھی جنھیں پورے مشرقی حصے کی حمایت حاصل کرنے والی پارٹی سے بہت ہی بری شکست ہوئی تھی۔

اس جنگ کو 1971 کی جنگ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں آخر مغربی پاکستان کی فوج کو شکست ہوئی۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس جنگ میں ہندوستان کی فوجی مداخلت بھی ایک اہم عنصر تھی۔ اسی ہندوستانی فوج کے سامنے پاکستان کے لگ بھگ ایک لاکھ فوجیوں اور افسروں نے ہتھیار ڈالے اور جنگی قیدی بنے۔

اس جنگ کے بارے میں طویل عرصے تک صرف ایسی تفصیلات سامنے آتی رہیں جو یک طرفہ ہوتی تھی۔ بنگالی اگر اس جنگ میں، جس کے لیے وہ جد وجہد آزادی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، اپنی فتح، مغربی پاکستانی فوج کی شرمناک شکست اور قربانیاں دینے والے جنگی شہیدوں کے گن گاتے ہیں تو مغربی پاکستانی، جو جنگ کے بعد صرف پاکستانی رہ گئے، اصل اسباب کو چھوڑ کر، ایک ایسی جنگ کی بات کرتے ہیں جس میں ان کی فوج کو مقامی آبادی کی مخالفت کا سامنا تھا اور جس پر انہوں نے کم و بیش قابو پالیا تھا لیکن ہندوستان نے مداخلت کی، جس کا سامنا کرنے کے لیے وہ تیار نہیں تھے، اور انھیں شکست سے دوچار کر دیا۔

یاسمین سائیکیا، اریزونا سٹیٹ یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر ہیں

’عورتیں، جنگ اور قیامِ بنگلہ دیش‘ کی مصنفہ یاسمین سائیکیا جنگ کو محض اس طرح نہیں دیکھتیں جیسے اسے ایک قوم کی اجتماعی یاد داشت میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ وہ اسے ان لوگوں کی نظر سے بھی دیکھتی ہیں ’جو انفرادی طور پر جنگ میں رونما ہونے والے ہمہ رخی تشدد کا نشانہ بنے، خاص طور پر عورتیں اور اپنا دفاع نہ کر سکنے والے وہ شہری جن کے سیاسی عزائم بھی نہیں ہوتے اور جو قوم پرستی کے نام پر ابھرنے والی اس حیوانیت کا نشانہ بنتے ہیں جس کا کوئی اصول اور ضابطہ نہیں ہوتا۔‘

یاسمین سائیکیا نے شاید اسی حیوانیت کو دکھانے کے لیے 1971 کی جنگ اور اس کے بعد کے حالات کا انتخاب کیا ہے، جس کے نتیجے میں 1947 کے بعد برصغیر کی دوسری بڑی تقسیم ہوئی اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔

لیکن یہ کتاب اس تنازع کے چالیس سال بعد آئی ہے اور اس کی تحقیق اور تیاری میں بھی مصنفہ کو کئی سال لگے ہیں یعنی اس کی تحقیق انھوں نے اتنے عرصے بعد شروع کی جب بیشتر حقائق کے ثبوت مٹ چکے ہوں گے، بہت سی یادوں کے زخم بھر چکے ہوں گے اور بہت سے لوگ اپنی اذیتوں کو فراموش کرنے میں بھی کامیاب ہو چکے ہوں گے۔ یعنی یہ اس تشدد کے شعلے نہیں ہیں بلکہ اس کی راکھ میں دبی ہوئی اور شاید بجھتی ہوئی چنگاریاں ہیں۔

لیکن اس کے باوجود یاسمین سائیکیا ایسے لوگوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں جن کے بیانات جنگ اور قوم پرستی کے وحشیانہ پن کو بے نقاب کرتے ہیں۔

مام ہی گروپ شریکِ جرم

"بنگلہ دیش اور ہندستان میں صرف آزادی اور فتحمندی کے کامیاب بیانیے بار بار لکھے گئے ہیں اور صرف انھیں ہی جنگ کی تاریخ تصور کیا جاتا ہے۔ جب کہ ان کی مطابق حقیقت یہ ہے کہ تشدد میں تمام ہی گروپ شریکِ جرم تھے"

یاسمین سائیکیا

ان کی اس کتاب سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اس جنگ میں شریک پاکستانی اور ہندوستانی ہی نہیں جنگِ آزادی کے بنگالی مجاہد بھی سب سے کمزور، سب سے نہتے اور کسی بھی طرح جنگ کے نتیجے پر اثر انداز نہ ہونے والے گروہ یعنی عورتوں پر ظلم میں دوسروں سے پیچھے نہیں تھے اور انھوں نے بھی ان کمزور شہریوں کی زندگیوں کو جنگ کا میدان ہی سمجھا تھا۔

قومی آزادی یا سماجی و سیاسی برابری یا کچھ اور، جنگ کسی بھی نام پر لڑی جائے، اس میں سب سے زیادہ اذیت یہی گروہ یعنی عورتیں اٹھاتی ہیں اور جنگ کی فتح اور شکستوں کی جتنی تاریخیں لکھی جاتی ہیں ان میں اِس بےبس گروہ کا کہیں کوئی ذکر نہیں آتا۔ جنگوں اور اس طرح کی لڑائیوں کا سب سے بڑا غیر انسانی پہلو یہی ہے کہ ان میں عورتوں کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔

یاسمین سائیکیا نے پہلی بار اس سنگین پہلو کی طرف اشارہ کیا ہے اور مورخوں اور ان کے تصوراتِ تاریخ پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جنگ میں اس نوع کے تشدد کی بےشمار سطحیں ہیں اور ہم ان کے بارے بہت ہی کم جانتے ہیں‘۔ اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتی ہیں کہ ’بنگلہ دیش اور ہندوستان میں صرف آزادی اور فتحمندی کے کامیاب بیانیے بار بار لکھے گئے ہیں اور صرف انھیں ہی جنگ کی تاریخ تصور کیا جاتا ہے‘۔ جب کہ ان کی مطابق ’حقیقت یہ ہے کہ تشدد میں تمام ہی گروپ شریکِ جرم تھے‘۔

اس کے علاوہ اس کتاب میں مذکورہ تشدد کا نشانہ بننے والی ان عورتوں کے انٹرویو بھی ہیں جو صرف بنگالی نہیں، وہ بھی ہیں، جنھیں بہاری کہا جاتا تھا اور ہے۔ اور یہ انٹرویو یاسمین کے موقف کی بنیاد ہیں۔ یہی بات اس کتاب کو اہم اور مطالعے کے لیے ناگزیر بناتی ہے۔

یاسمین سائیکیا، اریزونا سٹیٹ یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر ہیں۔ وہ اس کے علاوہ بھی کئی کتابوں کی مصنف ہیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم ہندوستان میں حاصل کی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔