ایکس فیکٹر امریکہ: نئی سیریز مایوس کن

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 ستمبر 2012 ,‭ 15:11 GMT 20:11 PST
ایکس فیکٹر

ایکس فیکٹر کی شہرت میں کمی آئی ہے

امریکہ میں گلوکاری کے مقابلے کے مشہور ٹی وی شو ’ایکس فیکٹر‘ کی نئی سیریز کی پہلی قسط کو تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ ناظرین نے دیکھا ہے جو کہ گزشتہ برس کی بنسبت کم تعداد ہے۔

گزشتہ برس اس شو کی پہلی قسط کو ایک کروڑ دس لاکھ ناظرین نے دیکھا تھا۔

ایکس فیکٹر امریکہ کی نئی سریز کا مقابلہ ’امریکہ گوٹ ٹیلنٹ‘ اور ’دی وائس‘ نامی دو اور شوز سے ہے جن کی درجہ بندی اس سال ایکس فیکٹر امریکہ سے بہتر درج کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایک کروڑ دس لاکھ ناظرین نے ’امریکہ گوٹ ٹیلنٹ‘ کا اس سال کا فائنل دیکھا جبکہ ’دی وائس‘ کو ایک کروڑ سات ہزار ناظرین نے دیکھا۔

ایکس فیکٹر امریکہ کی دوسری سیریز میں گلوکارہ برٹنی سپئرس، ڈیمی لیواٹو، سائمن کاول اور ایل اے لیڈ جج کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق این بی سی ٹی وی نے آخری وقت میں ’دی وائس‘ کو ایکس فیکٹر امریکہ کے مقابلے میں اسی وقت پر نشر کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔

ایکس فیکٹر امریکہ بنانے والوں کا کہنا ہے کہ این بی سی ٹی وی نے یہ فیصلہ ان کے شو کی ریٹنگ خراب کرنے کے لیے کیا ہے۔

ایکس فیکٹر امریکہ کے ناظرین میں کمی کے باوجود ٹی وی ناقدین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ برٹنی سپئرس اور لوواٹو کی موجودگی نے شو کو بہتر بنایا۔

ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ برٹنی سپئرس جس طرح سے صلاحیت سے کم مظاہرے کرنے والے شرکاء کے بارے میں اپنی سخت رائے دیتی ہیں وہ قابل تعریف ہے۔

اس بارے میں پیپل میگزین کا کہنا ہے ’برٹنی سپئرس کے چہرے کے تاثرات سے اس لمحے کے جزبات ظاہر ہوجاتے ہیں‘۔

امریکہ کے مختلف جریدوں نے ایکس فیکٹر امریکہ شو کی نئی قسط سے زیادہ شو کے ججوں خاص طور پر برٹنی سپئر اور ڈیمی لیواٹو کی تعریف کی ہے۔

اس کے علاوہ سماجی رابطے کے مختلف ویب سائٹس پر اس شو اور اس کے ججوں کے بارے میں زبردست بحث جاری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔