کون ہیں شاہد اعظمی؟

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 ستمبر 2012 ,‭ 16:40 GMT 21:40 PST
شاہد اعظمی

شاہد اعظمی کے نام پر ایک فلم بنائی گئی ہے۔

کیا آپ کو شاہد اعظمی کا نام یاد ہے؟ شاہد وہی وکیل ہیں جنہوں نے ممبئی حملوں کے تین اہم ملزمان میں سے ایک بھارتی شہری فہیم انصاری کی عدالت میں پیروی کی تھی۔

شاہد اعظمی کو فروری دو ہزار دس میں ممبئی میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب شاہد کو بھارت کے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے وکالت کو اپنا پیشہ بنا لیا تھا۔

اسی شخصیت کو مرکز میں رکھ کر ایک فلم بنائی گئی ہے جس کا نام ہے ’شاہد‘ اور ان دنوں یہ فلم ٹورنٹو فلم فسٹیول میں شہ سرخیوں میں ہے۔

فلم میں دہشت گردی کے دو واقعات سے متعلق عدالتی معاملات کو دکھایا گیا ہے۔ ان میں دو ہزار چھ میں ممبئی میں لوکل ٹرینوں میں ہوئے دھماکوں اور سنہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہوئے شدت پسند حملے شامل ہیں۔

فلم کے ہدایت کار ہنسل مہتا ہیں اور فلم سازوں کی فہرست میں ہدایت کار انوراگ کشپ کا نام بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار سات میں آنے والی ان کی فلم ’بلیک فرائیڈے‘ تقریباً دو سال تک ریلیز نہیں ہو پائی تھی کیونکہ اس کی کہانی میں ممبئی میں سال انیس سو ترانوے میں سیریئل بم دھماکوں کا ذکر تھا۔

عدالت نے جن لوگوں کی درخواست پر ’بلیک فرائیڈے‘ کو ریلیز کرنے پر روک لگائی تھی، ان کی پیروی کسی اور نے نہیں بلکہ نوجوان وکیل شاہد اعظمی نے ہی کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ اس فلم کے ریلیز ہونے سے ممبئی دھماکوں کی سماعت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

شاہد اعظمی

شاہد اعظمی کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

فلم کے تجزیہ نگار سیبل چیٹرجی نے ’شاہد‘ فلم کے ہدایت کار ہنسل مہتا سے بات کی۔ ہنسل مہتا نے بتایا ہے کہ یہ فلم ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو امید کی کرن کی طرح ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’شاہد اعظمی نیچے سے اٹھنے والے شخص تھے جو امید کی علامت تھے، لیکن ان لوگوں نے شاہد کو قتل کر دیا جنہیں ان کا ممبئی حملوں کے ملزم فہیم انصاری کی وکالت کرنا پسند نہیں آیا تھا۔‘

فلم میں اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ شاہد اعظمی نے اپنے سات سال کے کیریئر میں سترہ لوگوں کو عدالت سے بری کرایا تھا۔

ہنسل مہتا کا کہنا ہے: ’شاہد اعظمی نے جتنی بھی عرضیاں داخل کی تھیں، میں نے ان تمام کا مطالعہ کیا اور کہانی میں ان کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنے کے لیے زیادہ تر کو آپس میں ملا دیا۔‘

شاہد اعظمی کے قتل کے بعد میڈیا میں آئی کچھ خبروں میں کہا گیا تھا کہ شاہد کو انڈرورلڈ سے تعلقات کی قیمت اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔

ہنسل مہتا کہتے ہیں کہ ’یہ بات مکمل طور پر بے بنیاد ہے اور افسوس ناک ہے۔ شاہد اپنی کہانی بتانے کے لیے زندہ نہیں ہیں، اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں ہی ان کی کہانی سامنے لاؤنگا۔‘

واضح رہے کہ فلم میں شاہد کا کرداراداکار راج کمار یادو نےنبھایا ہے۔ فلم کے ایک منظر میں دکھایا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے عدالت کے باہر ان کے منہ پر کالک مل دی ہے۔

ہنسل مہتا کا کہنا ہے کہ ایسا ہی واقعہ ان کے ساتھ بھی ہو چکہ ہے جب دو ہزار دس میں شیوسینا کی قیادت میں ایک بھیڑ نے ان کے دفتر پر حملہ کر دیا تھا جس کا سبب ان کی فلم ’دل پر مت لے یار‘ تھت جس میں ممبئی میں رہنے والے مہاجروں کی حالت دکھائی گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔