ناول نگار رضیہ بٹ انتقال کر گئیں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 06:47 GMT 11:47 PST
رضیہ بٹ، فائل فوٹو

مغربی پاکستان کی پہلی رنگین فلم نائلہ انہی کے ایک ناول پر مبنی تھی

پاکستان کی معروف ناول نگار رضیہ بٹ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی عمر نواسی برس تھی۔

گھریلو رومانوی ناولوں کی ملکہ کہلانے والی رضیہ بٹ نے انیس سو چالیس کے عشرے میں لکھنا شروع کیا اور انیس سو سینتالیس کے چشم دید واقعات ان کے کئی ناولوں کا جزو بنے۔

قیام پاکستان کے بعد ان کا ناول ’بانو‘ منظرعام پر آیا تو اس نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ برسوں بعد اس ناول کو ٹیلی ویثرن پر پیش کیا گیا۔

رضیہ بٹ کو عام گھریلو قارئین میں جو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اس کے باعث ان کا موازانہ اکثر برطانوی ناول نگار خاتون باربرا کارٹ لینڈ سے کیا جاتا ہے ’ جو کہ سو برس کی عمر پا کر سن دو ہزار میں فوت ہوئیں۔

رضیہ بٹ کے ناولوں پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ پاکستانی معاشرے میں عورت کے کردار کو مرکزی اہمیت دیتی ہیں۔ مثلاً ان کے ناول نائلہ، صاعقہ، انیلہ، شبو، بانو، ثمینہ، ناجیہ، شائنہ، سبین ، رابی اور بینا سب کے سب عورت کے مرکزی کردار کے گرد بُنے گئے ہیں۔

سن ساٹھ کی دہائی میں مغربی پاکستان کی پہلی رنگین فلم نائلہ انہی کے ایک ناول پر مبنی تھی جس کے ہدایتکار شریف نئیر تھے۔

اس فلم کی شاندار کامیابی کے بعد ان کے ناول انیلہ اور شبو پر بھی فلمیں بنیں اور فلم انڈسڑی کے زوال کے بعد ٹیلی ویژن والوں نے ان کے ناولوں پر مبنی سیریل تیار کرنے شروع کیے جن میں ناجیہ نے بہت کامیابی حاصل کی۔ ان کے ناولوں کی کل تعداد ترپن ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔