’آج بھی اپنے کام میں خامیاں نظر آتی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 03:56 GMT 08:56 PST

’یہ میں خود طے کروں گا کہ مجھے کتنا کام کرنا ہے‘

بھارتی فلمی صنعت کے سپر سٹار امیتابھ بچن کا کہنا ہے کہ آج بھی جب وہ اپنے کام کو ایک ناظر کی طرح دیکھتے ہیں تو انہیں خود میں خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہیں۔

ممبئی میں اپنی سّترویں سالگرہ کے موقع پر بی بی سی ہندی سے خصوصی بات چیت میں آج بھی ہندی سنیما کے سب سے مصروف فنکاروں میں شامل امیتابھ کا کہنا تھا کہ انہیں لگتا کہ وہ زیادہ کام کر رہے ہیں اور یہ فیصلہ انہیں ہی کرنا ہے کہ زیادہ کیا ہوتا ہے اور کم کیا۔

امیتابھ بچن کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتی فلم الگ ہے اور اسے اسے اپنی انفرادیت برقرار رکھنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ اپنی فلمیں خود دیکھتے ہیں تو انہیں اس میں خامیاں اور بہتری کی گنجائش نظر آتی ہے۔ ’ناظر کے طور پر دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے آپ میں خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہیں کہ یہ بھی اچھا ہو سکتا تھا‘ وہ بھی اچھا ہو سکتا تھا‘۔

عوامی مقبولیت سے جڑے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’میں اپنے آپ کو کیسے پرکھ سکتا ہوں۔ میری اتنی حیثیت کہاں؟ اور یہ کہنا کہ میرے ساتھی فنکار مجھ سے پیچھے رہ گئے بالکل غلط خیال ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ دھرمیندر، ونود کھنہ، شتروگھن سنہا، رشی کپور سب ہی کام کر رہے ہیں اور ان میں سے کچھ تو سیاست میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ ’ونود کھنہ اور شتروگھن تو کابینہ میں بھی شامل ہوئے تو اس لحاظ سے تو وہ مجھ سے بھی آگے ہیں۔ مقبولیت کے بارے میں میں نے کچھ سوچا نہیں۔ یہ آپ لوگ سوچیں‘۔

امیتابھ بچن نے بتایا کہ وہ دلیپ کمار اور وحيدہ رحمان کے زبردست مداح ہیں۔’ان دونوں فنکاروں کو میں مانتا ہوں۔ خاص طور سے دلیپ صاحب کے کام کا تو میں قائل ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ جب بھی ہندوستانی سنیما کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس کی تقسیم دلیپ صاحب سے قبل اور دلیپ صاحب کے بعد کے لحاظ سے ہوگی‘۔

"خاص طور سے دلیپ صاحب کے کام کا تو میں قائل ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ جب بھی ہندوستانی سنیما کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس کی تقسیم دلیپ صاحب سے قبل اور دلیپ صاحب کے بعد کے لحاظ سے ہوگی۔"

امیتابھ بچن

فلم ’شکتی‘ میں دلیپ کمار کے ساتھ کام کرنے کے تجربے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’جب کوئی پرستار اپنے آئیڈیل سے ملتا ہے تو اسے جیسا محسوس ہوتا ہے مجھے بھی ویسا ہی محسوس ہوا تھا۔ بچپن سے میں انہیں دیکھتا آیا تھا۔ پہلے تو ان کے ساتھ کیمرے فیس کرنے میں بڑی ہچکچاہٹ ہوئی لیکن بعد میں بہت فخر محسوس ہوا‘۔

امیتابھ نے کہا کہ فلمی دنیا میں وہ رشی كیش مکھرجی کو اپنا ’گاڈ فادر‘ مانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے جیسے مجھے اور جیا کو اپنا سا لیا تھا‘۔

اس سوال پر کہ اس طویل فلمی کیریئر میں کس طرح کے سنیما نے انہیں تخلیقی طور پر سب سے زیادہ مطمئن کیا، امیتابھ بچن نے کہا کہ ’یہ بہت مشکل سوال ہے۔ چار دہائیوں سے میں کام کر رہا ہوں اور ہر دور کے بہترین ڈائریکٹر کے ساتھ مجھے کام کرنے کا موقع ملا ہے‘۔

’خواجہ احمد عباس نے ہمیں موقع دیا، پھر رشی کیش مکھرجی تو ہمارے گاڈ فادر ہی تھے۔ ان کے ساتھ میں نے سب سے زیادہ فلمیں کیں۔ پھر سلیم_جاوید کی تحریر کردہ کہانیوں والی فلمیں کیں۔ پرکاش مہرہ کے ساتھ اچھا کام ہوا۔ منموہن دیسائی کے ساتھ کام کیا۔ ان کی فلم میں عجب سا جنون تھا۔ پھر ٹينو آنند کے ساتھ میں آزاد ہوں جیسی اچھی فلم بنائی تو مكل آنند کے ساتھ اگنی پتھ اور ہم جیسی فلموں کو پسند کیا گیا۔ اس دور میں آر بالك، پرکاش جھا، سجوائي گھوش جیسے اچھے فلمساز ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ تو مجھے تو ہر دور میں تخلیقی اطمینان ملا‘۔

موجودہ دور کے سنیما کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بڑا اچھا کام ہو رہا ہے۔ آج کل کی نسل ہماری فلموں میں ایک نیا دور لا رہی ہے‘۔

رشی کیش مکھر جی نے تو جیسے مجھے اور جیا کو اپنا سا لیا تھا: امیتابھ

ان کے مطابق ’یہ فلمیں آج سے تیس یا چالیس سال پہلے بنائی جاتیں تو شاید اتنے ناظرین نہیں ملتے، اتنی ترجیح نہیں ملتی لیکن اب پان سنگھ تومر، گینگز آف واسع پور، کہانی، وكي ڈونر،راک سٹار اور برفي جیسی فلمیں ہیں، جو نہ صرف بہترین ہیں بلکہ ان کا کاروبار بھی بہترین ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ہماری عوام اب پہلے سے کافی میچيور ہو گئی ہے‘۔

اس سوال پر کہ کیا وجہ ہے کہ بھارت میں اب بھی عالمی مارکیٹ میں قابلِ قبول فلمیں نہیں بن رہیں، امیتابھ نے کہا کہ ’پہلے ہماری فلموں کو بین الاقوامی سطح پر کافی تنقیدی نظروں سے دیکھا جاتا تھا لیکن وہ لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ ایسی فلمیں بنتی کیوں ہیں۔ جو آدمی دن بھر اپنا خون پسینہ ایک کر کے بے چارہ آٹھ دس روپے کماتا تھا، وہ شام کو تھوڑی تفریح چاہتا تھا۔ وہ اپنی ہی کہانی جسے آپ حقیقی سنیما کہتے ہیں، پردے پر نہیں دیکھنا چاہے گا۔ اسے کچھ ایسا چاہیے تھا جو کم سے کم تین گھنٹے تک خیالی دنیا کی سیر کرائے‘۔

ان کے مطابق ’ہر ملک کا سنیما الگ ہوتا ہے۔ اب ہماری فلموں کو ضرور بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے لیکن فلمیں ہمیں اپنے ناظرین کو ذہن میں رکھ کر ہی بنانی چاہیئیں۔ گانے اور ناچ ہماری فلموں کا اٹوٹ حصہ ہے، اس سے ہم منہ نہیں موڑ سکتے‘۔

اس سوال پر کہ اب جبکہ وہ 70 سال کے ہو گئے ہیں، کیا انہیں اب کم کام نہیں کرنا چاہیے، بھارتی اداکار کا کہنا تھا کہ ’ہر کسی کے لیے اس کا الگ الگ معیار ہے۔ مجھے کتنا کام کرنا چاہیے، کتنا کام میرے لیے زیادہ ہے یا کم ہے، یہ تو میں طے کروں گا۔ ہو سکتا ہے آپ کے لیے جو زیادہ کام ہو وہ میرے لیے کم ہو یا اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔