تحقیق و تنقید کیلیے ایک لازمی کتاب

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 20 اکتوبر 2012 ,‭ 12:16 GMT 17:16 PST
اردو ناول میں زوالِ انسانی کی تمثیلات

نام کتاب: اردو ناول میں زوالِ فطرتِ انسانی کی تمثیلات

مصنف: بازغہ قندیل

صفحات: 168

قیمت: 250 روپے

ناشر: ڈاکٹر انوار احمد، مقتدرہ قومی زبان، 8/4 پطرس بخاری روڈ، اسلام آباد، پاکستان

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ کتاب اردو ناول میں انسانی فطرت کے زوال کی تمثیلات کی تلاش پر مبنی ہے۔ مصنفہ کے بارے میں اس سے زیادہ تفصیل میسر نہیں کہ وہ ڈاکٹر انوار احمد کی شاگرد ہیں۔ ڈاکٹر انوار احمد ہی اس ناول کے ناشر بھی ہیں۔ کتاب کا پیش لفظ بھی ڈاکٹر انوار احمد نے فراہم کیا ہے۔

کتاب میں اردو کے چودہ ناولوں کو سامنے رکھا گیا ہے اور ڈاکٹر انوار احمد کا کہنا ہے کہ ’فرد کے مروجہ نظام اخلاق یا نظام اقدار کو مادی و سماجی ارتقا کے تبدل پذیر معیارات سے تفاعلی مساوات کے قیام میں جن پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، بازغہ قندیل کی تحقیقی، تنقیدی و تـجزیاتی بصیرت نے ان مراحل کی مختلف ناولوں میں پیش کی گئی کرداری تمثیلات تک اپنے قاری کے لیے نتیجہ خیز فکری رسائی ممکن بنا دی ہے۔

’اردو ناول میں فطرتِ انسانی کے زوال کی تمثیلات‘ اپنے قاری کو اس امر کا ادراک فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے کہ ہمارے آج تک کے اردو ناول نگار نے حقیقی زندگی کی تناظر میں مشاہداتی سطح پر ضمیرِ انسانی کی حساسیت کو اجاگر ہونے میں اپنے قلم کو کس حد تک آسودگی فراہم کی ہے‘۔

ڈاکٹر انوار احمد کی اس دو ٹوک رائے کے بعد مصنفہ پر قاری اور ادب کے تقاضوں کا بوجھ یقینی طور پر کم ہو جاتا ہے اور ان سے یہ پوچھنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہ جاتا کہ انھوں نے انسانی فطرت کے زوال کی تمثیلات کی تلاش کو محض چودہ ناولوں تک کیوں محدود رکھا ہے اور یہ کے ان کے منتخب کردہ ناولوں میں ایسی کیا قدرِ مشترک ہے جو انھیں دوسرے اردو ناولوں سے الگ کرتی ہے۔

اس سلسلے میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبۂ اردو کے سعید احمد کا دیباچہ بھی کوئی مدد کرنے کی بجائے مزید مشکلیں پیدا کرتا ہے۔ اس میں اول تو ناول تعریف متعین کرتے ہوئے درکار احتیاط نہیں برتی گئی۔ جو تعریف بیان کی گئی ہے وہ اسے کتاب کے موضوع کے قریب لانے کی بجائے دور اور وسیع تر معنوں کی طرف لے جانے کا راستہ زیادہ کھولتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اردو ناول میں زوالِ فطرتِ انسانی کی تمثیلات‘ اردو ناول میں انسان کے حیوانی روپ کو پیش کرتی ہے، جس میں ان ناولوں کو پیش کیا گیا ہے جو فطرتِ انسانی کے زوال کی تمثیل بیان کرتے ہیں‘۔

سیعد احمد نے مندرجہ بالا بیان میں ذمے داری کو زیادہ اہمیت کے لائق نہیں سمجھا۔ ان کا کہنا ہے کہ بازغہ قندیل کی یہ تحقیق ’اردو ناول میں انسان کے حیوانی روپ کو پیش کرتی ہے‘۔ اس بیان سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ سعید احمد اردو ناول پڑھنے سے وہ دلچسپی نہیں رکھتے جو اس کتاب کا دیباچہ لکھنے کے لیے لازمًا درکار تھی۔ شک تو یہ بھی ہوتا ہے کہ انھوں نے وہ ناول بھی دلچسپی سے نہیں پڑھے جنھیں خاص طور پر اردو کے باقی سب ناولوں کو چھوڑ کر اس تحقیق کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

محض چودہ ناول ہی کیوں؟

"ڈاکٹر انوار احمد کی دو ٹوک رائے کے بعد مصنفہ پر قاری اور ادب کے تقاضوں کا بوجھ یقینی طور پر کم ہو جاتا ہے اور ان سے یہ پوچھنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہ جاتا کہ انھوں نے انسانی فطرت کے زوال کی تمثیلات کی تلاش کو محض چودہ ناولوں تک کیوں محدود رکھا ہے اور یہ کے ان کے منتخب کردہ ناولوں میں ایسی کیا قدرِ مشترک ہے جو انھیں دوسرے اردو ناولوں سے الگ کرتی ہے"

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ محققہ و مصنفہ کوموضوع کی وسعت اور دائرۂ عمل سمجھانے کی کوشش کی جاتی اور یہ بھی بتایا جاتا کہ اس موضوع کے تقاضے میں اردو کے تمام ناول آ جاتے ہیں اور تمام ناولوں کا ملنا ہی ایک دشوار و ناممکن کام ہے۔ اس لیے اس حوالے سے جو بھی تحقیق ہو گی نامکمل ہی ہوگی۔ اس لیے بہتر ہوتا کہ موضوع کو ہی محدود کر لیا جاتا۔ مثلًا اس تحقیق کا عنوان ’چودہ اردو ناولوں میں زوالِ فطرتِ انسانی کی تمثیلات‘ تو بہت سارے سوالات کی گنجائش ہی ختم ہو جاتی۔ لیکن اس کے بعد دیباچے میں یہ بیان کہ یہ تحقیق ’اردو ناول میں انسان کے حیوانی روپ کو پیش کرتی ہے‘ خوش کن نہیں لگتا۔

جن لوگوں نے بھی مصنفہ کی رہنمائی کی ہے انھوں نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ انھوں نے کتاب کے صفحہ 17 سے 18 پر جاری پیراگراف میں فطرتِ انسانی کے زوال کی جس تعریف پر انحصار کرنے کا عندیہ دیا ہے اس کے مطابق فطرتِ انسانی کا زوال قانونِ فطرت کی واضح خلاف ورزی اور ظاہر و باطن میں تذبذب اور تضاد سے عبارت ہوتا ہے۔

مصنفہ اگر اپنے موضوع کو چودہ نہیں محض چند ایک ناولوں تک محدود کر کے ہی اپنی منتخب کردہ تعریف کی روشنی میں کرداروں کا مطالعہ کرتیں اور تمثیلات دکھاتیں یا دکھانے کی کوشش ہی کرتیں تو یقینًا ان کی کتاب کے لیے سعید احمد کے ان الفاظ میں مطابقت پیدا ہو جاتی کہ انھوں نے ’ایک نہایت اہم اور منفرد موضوع پر گراں قدر تحقیقی کام کیا ہے‘۔

کتاب عمدہ شائع ہوئی ہے اور اس کی قیمت انتہائی مناسب ہے۔

اردو میں تحقیق و تنقید کا کام کرنے والے تمام لوگوں کو یہ کتاب ضرور اور انتہائی توجہ سے پڑھنی چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔