یش چوپڑا کی 10 یادگار فلمز

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 17:19 GMT 22:19 PST

یش چوپڑا کے جانے سے گویا بالی وڈ میں رومانس کی موت ہو گئی ہے۔

بالی وڈ سنیما کی دنیا میں ’کنگ آف رومانس‘ یعنی ’رومانس کا بادشاہ‘ کہلانے والے معروف ہدایت کار یش چوپڑا کی موت سے بالی وڈ ہی نہیں تمام فلمی شائقین میں ایک اداسی سی چھائی ہے۔

یش چوپڑا زندگی کو بہت خوبصورت نگاہوں سے دیکھا کرتے تھے۔ ان کی ایسی فلموں کا مختصر ذکر جو شائقین کے ذہنوں پر انمٹ نقوش چھوڑ گئیں۔

وقت (1965)

سنہ ساٹھ کی دہائی میں جب فلموں میں عموماً ایک ہیرو اور ایک ہیروئن ہوا کرتی تھی۔ ایسے میں یش چوپڑا ایک ایسی فلم لے کر آئے جس میں ایک یا دو نہیں بلکہ کئی ستارے تھے۔

’وقت‘ ہندی سنیما کی پہلی ملٹی سٹار فلم تھی۔ جو لاسٹ اینڈ فاؤنڈ فارمولے پر مبنی تھی۔ یہ فارمولا کچھ ایسا ہٹ ہوا کہ اگلے تیس سالوں تک بالی وڈ میں ایسی فلموں کی بھرمار ہو گئی۔

’وقت‘ کے ساتھ ہی مشہور اداکار راجکمار کی مکالموں کی ادائیگی بے حد مشہور ہو گئی۔

اتّفاق (1969)

’وقت‘ کی کامیابی کے بعد ایسا نہیں ہوا کہ یش چوپڑا نے اسی طرز پر فلمیں بنانی شروع کر دیں۔ ’اتفاق‘ بالکل الگ قسم کی فلم تھی، جسے بنا کر یش چوپڑا نے شائقین کو چونکا دیا۔

فلم صرف ایک رات کی کہانی تھی، جس میں ایک بھی گانا نہیں تھا۔ ایسا دور جب گانے فلموں کا اہم حصہ ہوا کرتے تھے اور کئی کئی فلموں میں تو آٹھ سے دس نغمے تک ہوتے تھے. ایسے وقت میں بغیر گانوں کی فلم بنانا ایک انتہائی دلیر فیصلہ تھا۔

داغ (1972)

یہ فلم یش راج بینر کے تلے بننے والی پہلی فلم تھی۔ اس سے پہلے یش چوپڑا اپنے بڑے بھائی بی آر چوپڑا کے بینر تلے فلموں کی ہدایت کاری کرتے تھے۔

حالانکہ انگریزی فلم ’سن فلاور‘ سے متاثر تھی لیکن اسے جدید بنانے کے لیے انہوں نے اس کہانی کو گلشن نندا سے لکھوایا۔

وقت کے بعد آنے والیاس فلم میں ایک شخص کی بیوی غائب ہو جاتی ہے، تو وہ بغیر شادی کیے ایک دوسری عورت کے ساتھ رہنے لگتا ہے۔

قسمت ایک بار پھر اس کا سامنا اس کی بیوی سے کرواتی ہے اور آخر میں دونوں خواتین اس شخص کے ساتھ رہنے لگتی ہیں۔

کافی بہادر قسم کی فلم تھی، جس نے اس وقت کے سماج کے موجودہ قوانین کو چیلنج کیا۔ اس فلم نے زبردست کامیابی حاصل کی۔

دیوار (1975)

یہ فلم امیتابھ بچن کے کیریئر کو ایک نئے مقام پر لے گئی۔ دو بھائیوں کی کہانی، ایک قانون کا ركھوالا اور دوسرا قانون کا مـجرم۔ اس کہانی کو یش چوپڑا نے بہترین طریقے سے پردے پر پیش کیا۔

سلیم جاوید کی سکرپٹ اور ڈائیلاگ، جیسے ’ میرے پاس ماں ہے‘ تو ہندوستانی سنیما کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔

1976 میں آئی فلم کبھی کبھی، اس کے بالکل برعکس فلم تھی۔ یہ یش چوپڑا کی ایک اور ملٹي سٹار فلم تھی، جس میں ساحر کے لکھے نغمے اور خيام کی موسیقی نے ایسی دھوم مچائی کہ اتنے سالوں بعد بھی یہ گیت بڑے شوق سے سنے جاتے ہیں۔

اس میں بھی امیتابھ بچن مرکزی کردار میں تھے۔ ان دونوں ہی فلموں میں یش چوپڑا نے انہیں بالکل جدا انداز میں پیش کیا۔

ترشول (1978)

سنجیو کمار، امیتابھ بچن اور ششی کپور کی مرکزی کردار والی یہ فلم ایک ’ناجائز بیٹے‘ کے اپنے والد سے بدلہ لینے کی کہانی ہے۔

ایک بار پھر مضبوط کہانی، بہترین اداکاری اور یش چوپڑا کی ہدایت کاری نے ایسا جادو چلایا کہ فلم بلاك بسٹر ثابت ہوئی اور یش چوپڑا کا نام ہندی سنیما کے اہم ناموں میں شامل ہو گیا۔

اس کے بعد آنے والی فلم ’کالا پتھر‘، جو کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں کی مشکلات اور مالکان کے لالچ کی داستان ہے۔

فلم کو حیرت انگیز طور پر باکس آفس میں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ اس میں امیتابھ بچن اور شترگھن سنہا کے درمیان فلمائے گئے کچھ مناظر کافی مشہور رہے۔

سلسلہ (1981)

امیتابھ بچن، ریکھا اور جیا بچن کی مرکزی کردار والی یہ فلم اپنی كاسٹنگ کی وجہ سے سب سے زیادہ بحث میں رہی۔ ریکھا، جیا اور امیتابھ کو ایک فلم میں لانے کا مشکل کام یش چوپڑہ نے انجام دیا۔

یہ فلم کاروباری طور پر زیادہ نہیں چلی لیکن اس کے گیت بڑے مقبول ثابت ہوئے۔

چاندنی (1989)

ایک بار پھر یش چوپڑا رومانس کی طرف لوٹے اور ناچ گانے، نغمے سے بھرپور فلم چاندنی بنائی۔

سری دیوی اور رشی کپور نے اس فلم میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس فلم کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ یش چوپڑا نے خوبصورت مقامات کو بخوبی پردے پر دکھایا اور فلم نے شائقین کو خوشگوار احساس دیا۔

لمحے (1991)

انتہائی خطرہ مول لے کر بنائی گئی یہ فلم اپنے وقت سے آگے کی فلم تھی۔ جس میں ایک لڑکی کو اپنی ماں کے عاشق سے پیار ہو جاتا ہے۔

اس طرح کی کہانی اس سے پہلے ہندی سنیما کے پردے پر کبھی نہیں آئی۔ فلم میں انیل کپور اور سری دیوی نے بہترین اداکاری کی۔ فلم کے گیت بھی بہت مقبول رہے، لیکن شاید ناظرین اتنی بہادر اور معمول سے ہٹ کر بنی فلم کی کہانی کو قبول نہیں کر پائے۔

ڈر (1993)

ایک طرح سے یہ فلم ٹرینڈ سیٹر ثابت ہوئی۔ جیسے دیوار نے امیتابھ بچن کے کیریئر میں جیسے پر لگا دیے تھے، ویسے ہی ڈر نے شاہ رخ خان کے کیریئر کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

فلم کی کہانی ہیرو نہیں بلکہ ایک ولن کی ہیروئین سے یکطرفہ محبت کے ارد گرد بني گئی تھی۔

شاہ رخ خان کا نبھایا یہ منفی کردار کافی مقبول ثابت ہوا اور فلم سپر ہٹ رہی۔

یہ یش چوپڑا کا ہی کمال تھا کہ ایسی کہانی منتخب کر کے انہوں نے اسے کامیاب بھی بنا دیا۔

دل تو پاگل ہے (1997)

شاہ رخ خان، مادھوری دکشت اور کرشمہ کپور جیسے ستاروں کو لے کر پینسٹھ سال کے یش چوپڑا نے یہ فلم بنائی اور نئی نسل کے ہدایت کاروں کے سامنے ایک چیلنج پیش کر دیا۔

بہترین موسیقی اور جذباتی کہانی سے سجی یہ فلم نوجوان اور بڑی عمر سمیت ہر قسم کے ناظرین کو پسند آئی۔

یش چوپڑا کے نہ ہونے سے ایک دم ایسا لگ رہا ہے جیسے ہندی سنیما سے رومانس ہی چلا گیا ہو۔

یش چوپڑا کی فلموں میں ہیروئن کو جس خوبصورت طریقے سے پیش کیا جاتا تھا، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔