بھارت میں پہلا پلے بوائے کلب

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 1 نومبر 2012 ,‭ 14:01 GMT 19:01 PST
شرلن چوپڑہ

شرلن چوپڑہ بھارت کی پہلی شخصیت ہیں جن کی پلے بوائے میگزن میں تصویریں شائع ہو رہی ہیں۔

بالغوں کی تفریح کے لیے معروف کمپنی پلے بوائے بھارت میں اپنا پہلا کلب شروع کر رہی ہے۔

بھارت میں کمپنی کا کاروبار برہنہ نہیں ہوگا بلکہ یہاں کے اقدار کا خیال رکھا جائے گا۔ پلے بوائے لائف سٹائل کا کہنا ہے کہ وہ مقامی بازار کے لیے اس میں تبدیلی لائیں گے۔

پلے بوائے لائف سٹایل کے سربراہ سنجے گپتا نے کہا کہ یہ کلب دسمبر کے وسط میں گوا کے کینڈولم ساحل پر شروع کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی سطح پر کسی بھی ساحل پر یہ پلے بوائے کا پہلا کلب ہوگا۔

پلے بوائے اور اس طرح کی بالغوں کے لیے شائع ہونے والے رسالے پر بھارت میں پابندی ہے۔ ان رسالوں پر برہنہ ہونے کے لیے پابندی ہے۔

پلے بوائے برانڈ سے بھارت میں حق حاصل کرنے والی کمپنی پلے بوائے لائف سٹائل تین سالوں کے دوران آٹھ پلے بوائے کلب قائم کرے گی اور آنے والے دس برسوں میں پورے ملک میں ایک سو بیس کلب، مہخانے اور کیفے ہوں گے۔

سنجےگپتا کا کہنا ہے کہ گوا کلب بائس ہزار مربع فٹ پر مشتمل ہوگا۔

شرلن چوپڑہ

پلے بوائے کے ’بنی‘ یعنی خرگوش عام طور پر زیر جامہ پہنے دکھائے جاتے ہیں لیکن مسٹر گپتا کا کہنا ہے کہ بھارت کی روایت اور اقدار کا پاس رکھتے ہوئے اس میں تبدیلی لائی جائے گی۔

انھوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’بنیز پلے بوائے کلب کا لازمی جزو ہیں لیکن بھارتی اخلاقیات اور احساسات کے پیش نظر ہم اس کے روایتی لباس کو نہیں اپنا سکتے جس کے ساتھ پلے بوائے منسلک رہا ہے۔‘

حالیہ دنوں میں شرلن چوپڑہ ایسی پہلی بھارتی ہیں جنھوں نے پلے بوائے کے لیے برہنہ تصویریں کھچوائی ہیں۔ وہ اس رسالے کے نومبر کے شمارے میں نظر آئیں گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔