سعودی عرب کا قدیم ان دیکھا فن منظرِ عام پر

آخری وقت اشاعت:  اتوار 18 نومبر 2012 ,‭ 14:56 GMT 19:56 PST

اس نمائش میں خاص طور پر اس بات کو اہمیت دی گئی ہے کہ ساتویں صدی میں اسلام کی آمد سے قبل کتنی بڑی تعداد میں لوگ فن سے وابستہ تھے۔

امریکہ کے شہر واشگنٹن میں جاری ایک نمائش میں سعودی فن اور قابلیت کی ایک ان دیکھی شکل ظاہر ہوئی ہے جو خطے کی تہذیب اور تاریخی حیثیت میں انقلابی تبدیلی لائی ہے۔

چار سو برسوں سے ایک عام تاثر کے مطابق عرب تہذیب پر اسلام کا غلبہ ہے لیکن علاقے میں آثار قدیمہ کے لیے کی جانے والے کھدائی کے دوران قبل از اسلام کی سعودی عرب کی زندگی کے کچھ شواہد ملے ہیں۔

مصالحوں اور خوشبو کی تجارت کے لیے قافلوں کی آمد و رفت قرن افریقہ سے ایران اور بحیرہ روم کے ساحلی علاقوں کی جانب ہوا کرتی تھی۔ اس کا مرکز جـزیرہ نما عرب تھا جو تہذیب اور تجارت سے وابستہ اقوام کا گڑھ تھا۔

واشنگٹن میں ’سیکلر اینڈ فریئر گیلریز آف ایشین آرٹ‘ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جولین رابی کا کہنا ہے ’ہم نے جو سعودی عرب دیکھا وہ الگ جزیرہ نما نہیں ہے۔ یہ درحقیقت قدیم دنیا سے بہت زیادہ جڑا ہوا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی اہم سبق ہے کیونکہ ہم نے یہ سوچنا شروع کر دیا تھا کہ سعودی عرب ہمیشہ سے دنیا سے کٹا ہوا، ہمیشہ سے ایک صحرا اور پابند علاقہ تھا۔ لیکن سب جھوٹ ثابت ہو گیا‘۔

"ہم نے جو سعودی عرب دیکھا وہ پابندجزیرہ نما نہیں ہے۔ یہ درحقیقت دیگر قدیم دنیا سے بہت زیادہ جڑا ہوا ہے۔ یہ انتہائی اہم سبق ہے کیونکہ ہم نے یہ سوچنا شروع کر دیا تھا کہ سعودی عرب ہمیشہ سے دنیا سے کٹا ہوا، ہمیشہ سے ایک صحرا اور پابند علاقہ تھا۔ لیکن سب جھوٹ ثابت ہو گیا‘۔"

’سیکلر اینڈ فریئر گیلریز آف ایشین آرٹ‘ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جولین رابی

چھ ہزار سال قبل کے دیو قامت مجسمے، تانبے کی مورتیوں، شیشے کے سامان، زیورات اور پتھروں پر بنے پُراسرار لوح اُن اشیاء میں شامل ہیں جو اس نمائش میں رکھے گئے ہیں۔

اس نمائش میں خاص طور پر اس بات کو اہمیت دی گئی ہے کہ ساتویں صدی میں اسلام کی آمد سے قبل کتنی بڑی تعداد میں لوگ فن سے وابستہ تھے۔ اسلام کی آمد کے بعد فن کا اظہار بڑے پیمانے پر خطاطی تک محدود ہو گیا۔

اس نمائش میں رکھی گئی بعض اہم چیزوں میں خالص یونانی تانبے سے بنا ہرکولیس کا مجسمہ جو دوسری صدی عیسوی کا ہے اور پتھر کے بنے مجسموں کا ایک گروہ شامل ہے جو تیسری اور چوتھی صدی قبل از مسیح میں کسی مندر کے استقبالیہ میں رکھے گئے تھے۔

ڈاکٹر رابی کے مطابق ’ان میں سے کوئی بھی چیز پہلے امریکہ میں نہیں دیکھی گئی۔ ماہرین کے لیے یہ ایک انکشاف ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اسلام سے قبل کیا ہوا اس بارے میں کئی لوگ یا تو جانتے نہیں یا ان کا علم بہت محدود ہے۔ ‘

سعودی عرب میں مدائن صالح کا مقام جسے یونیسکو نے تاریخی ورثہ قرار دیا ہے۔

اس لاعلمی کی بڑی وجہ تحریری دستاویزات کی عدم موجودگی ہے۔ سعودی عرب میں آثارِ قدیمہ کی کھدائی کا کام بھی محض چالیس برس قبل شروع ہوا جس سے ساتویں صدی عیسوی میں قرآن کے نزول سے قبل کی تہذیب کے ٹھوس شواہد ملے۔ سخت گیر اسلام پسندوں کے لیے بعض دریافتیں شاید متنازع ہوں۔

دو ہزار ایک میں یونیسکو کی جانب سے تہذیبی ورثہ قرار دیے جانے والے افغانستان کے علاقے بامیان میں بدھا کے مجسموں کو طالبان نے تباہ کر دیا تھا۔ شدت پسند ان دیو ہیکل بتوں کو ناپسند کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان بتوں کی پوجا کی جاتی ہے۔

"جہاں تک تہذیب اور تاریخ کو فروغ دینے کی بات ہے جتنا اس کا حق بھی ہے، یہ سعودی عرب میں ایک انقلاب ہے۔ اگلے تین برسوں میں سعودی لوگ اپنی ملک کے بارے میں وہ سب جان سکیں گے جس سے وہ آج تک لاعلم رہے۔"

شہزادہ سلطان

لیکن سعودی عرب کے شاہی خاندان نے ان دریافتوں کو قبول کیا اور جزیرہ نما عرب میں مزید تحقیق کے لیے حوصلہ افزائی کی۔ مذہبی مخالفت سے قطع نظر شہزادہ سلطان بن سلمان کا کہنا ہے کہ زمانہ قدیم کے فنی حقائق ہمیں اسلام کو ایک نئی طرز پر سمجھنے میں مدد دیں گے۔

بقول ان کے ’اسلام نے عربوں کی تہذیبوں کو ختم نہیں کیا۔‘

’اسلام ایک پروقار مذہب کے طور پر آیا لیکن اس نے قدیم تہذیبوں کم تر نہیں کہا بلکہ انہیں شناخت دی۔ اگر ہم ایسا سوچیں گے کہ اسلام نے آکر سب ختم کر دیا تو ہم اسلام کی ساکھ کو مسخ کریں گے۔ یا یہ کہ اسلام بالکل کورے کاغذ پر آیا، یا اُس زمانے کے لوگ اسلام سے قبل کچھ نہیں تھے‘۔

شہزادہ سلطان سعودی عرب میں سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے محکمہ کے صدر ہیں۔ انہیں امید ہے کہ تاریخ میں دلچسپی سے سیاحت کوفروغ ملے گا۔ وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کے لوگ خصوصاً نوجوان اپنے تاریخی ورثہ کو پہچانیں۔

شہزادہ سلطان کہتے ہیں ’تہذیب اور تاریخ کو فروغ دینے کے حوالے سے، جو کہ اس کا حق بھی ہے، سعودی عرب میں مکمل انقلاب آیا ہے۔‘

’اگلے تین برسوں میں سعودی لوگ اپنے ملک کے بارے میں وہ سب جان سکیں گے جس سے وہ آج تک لاعلم رہے‘۔

شہزادہ سلطان کے مطابق بڑے بجٹ کے ساتھ نئے عجائب گھر بنائیں جائیں گے اور سعودی عرب کے سائنس دانوں اور تاریخ دانوں کے ہمراہ بین الاقوامی ماہر آثار ِقدیمہ بھی کام کر رہے ہیں۔

اس نمائش میں رکھی گئی بعض اہم چیزوں میں خالص یونانی تانبے سے بنا ہرکولیس کا مجسمہ بھی ہے جو دوسری صدی عیسوی کا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم سعودی عرب کی تاریخ کی تلاش کے لیے اپنے لوگوں کی شمولیت کے بغیر اپنا ملک دنیا بھر سے آئی ٹیموں کے حوالے نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن ہم تیار ہیں۔ یہی صحیح وقت ہے۔‘

تہذیب کے ساتھ ساتھ قدیم علاقوں کی کھدائی سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ صدیوں میں اس علاقے کا موسم کس طرح تبدیل ہوا۔

آج سعودی عرب کو ایک صحرائی ریاست کی حیثیت سے پہچاناجاتا ہے۔ لیکن بعض پتھروں پر کی گئی قدیم نقاشی میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اونٹوں پرسوار لوگ شُتّر مرغ کا شکار کر رہے ہیں۔ شتر مرغ ایسا پرندہ ہے جو سبزے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

ڈاکٹر رابی کے مطابق یہاں سے ملنے والی کئی چیزیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ انسانی تاریخ کے ورثے میں سعودی عرب کے حصّے کے بارے میں بہت کچھ جاننا ابھی باقی ہے۔

اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں تک اسلام کی تیز روشنی سے گہنائے ہوئے قدیم ماضی نے ایک بار پھر پرچھائیوں کی اوٹ سے نمودار ہونا شروع کر دیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔