مصوری سے موسمِ سرما کا استقبال

آخری وقت اشاعت:  اتوار 25 نومبر 2012 ,‭ 22:29 GMT 03:29 PST

کراچی میں موسم ویسے نہیں آتے جیسے ملک کے دوسرے حصوں میں آتے ہیں لیکن جمالیات سے دلچسپی رکھنے والے موسموں کا حساب رکھتے ہیں اور دماغوں سے زیادہ دلوں سے رکھتے ہیں۔

فائن آرٹ پاکستان گیلری کراچی کی ان چند آرٹ گیلریوں میں سے ایک ہے جو جمالیات کے اس پہلو کا بھی خیال رکھتی ہے اور شاید اسی لیے اس نے ’سرما کے افق‘ کے عنوان سے چار ایسے مصوروں کے فن پاروں کی نمائش کا اہتمام کیا جو پاکستان کے جانے پہچانے مصور ہیں۔

محمد علی بھٹی، معظم علی، مقبول احمد اور چترا پریتم کی تیس کے لگ بھگ تصویریں نمائش کا حصہ تھیں۔ ان چاروں مصوروں کی خوبی یہ ہے کہ ان کا انداز اور اسلوب ان کی پہچان کا حوالہ ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ چترا اور مقبول پاکستانی مصوری کا مستقبل ہیں۔

محمد علی بھٹی

محمد علی بھٹی کی ایک نمایاں بات یہ ہے کہ وہ اپنے موضوع کی حقیقی ماہیت کو پس منظر کے رنگوں سے تبدیل کر دیتے ہیں

محمد علی بھٹی نے نہ صرف امریکہ میں مصوری کی تعلیم حاصل کی ہے بلکہ وہ وہاں مصوری کی تدریس بھی کرتے رہے ہیں اور اب بھی انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن، یونیورسٹی آف سندھ جامشورو کے ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

محمد علی بھٹی 1973 سے اس اب تک بیس سے زائد انفرادی اور اس نمائشیں سمیت تیئیس کے لگ بھگ گروپ نمائشیں کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے بہت سی سرکردہ شخصیات کے پورٹریٹ بھی بنائے ہیں۔ وہ سندھ کے شہر حیدر آباد میں، ان کے بقول کوئی اکاون سال پہلے پیدا ہوئے۔ ان کی مصوری تھری رنگوں میں اظہار کرتی ہے اور یہ بات جانے بغیر بھی ان کی تصویروں میں رنگوں کی حرارت اور حرکت کو محسوس کیا جا سکتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ انھیں آئل کلرز سے زیادہ مناسبت محسوس ہوتی ہے۔ اصطلاحی زبان میں انھیں ریلسٹ ایکسپریشنسٹ کہا جا سکتا ہے لیکن جو بات ان کی مصوری کو قابل توجہ بناتی ہے وہ روشنی ہے۔

ایسا لگتا ہے ان کے جغرافیے میں موجود روشنی ان کی روح کی محیط ہے۔ اس نمائش میں بھی ان کی تصویریں اس کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کی ایک اور نمایاں بات یہ ہے کہ وہ اپنے موضوع کی حقیقی ماہیت کو پس منظر کے رنگوں سے تبدیل کر دیتے ہیں۔

معظم علی

معظم علی کسی بھی ماہر سے کم نہیں اور ان کی تصویریں وہ تمام جمالیاتی جوہر رکھتی ہیں جس کی توقع کی جا سکتی ہے

معظم علی کو ماسٹر آف واٹر کلر یا آبی رنگوں کے استاد کے طور پر بھی سراہا گیا ہے۔ وہ کوئی چھپن سال پہلے کراچی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 1982 میں اپنی تصویروں کی پہلی انفرادی نمائش کی اور تب سے اب تک گیارہ انفرادی نمائشیں کر چکے ہیں۔ جن میں امریکہ اور کنیڈا کی نمائشیں بھی شامل ہیں۔

’ماسٹر آف واٹر کلر‘ کے طور پر ان کی مہارت کا اعتراف بھی 2007 میں وٹنی میوزیم نیویارک میں کیا گیا۔ وہ دو کالجوں کے پرنسپل ہونے کے علاوہ آٹھ سال مختلف اشتہاری اداروں میں آرٹ ڈائریکٹر کے فرائص بھی انجام دے چکے ہیں۔ معظم اب امریکہ میں رہتے ہیں۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ واٹر کلر کے میڈیم میں لچک نہیں ہے اور مصور اس کی حدود کے جال میں پھنس جاتا ہے لیکن اس کے برخلاف معظم کا کہنا ہے کہ انھیں آبی رنگوں میں انتہائی لچک محسوس ہوتی ہے اور ان میں کام کرتے ہوئے وہ اپنی تصویر کو جو موڑ دینا چاہیں دے سکتے ہیں، ’میں گرم کو ٹھنڈے اور ٹھنڈے کو گرم رنگوں کی جگہ یا اس کا الٹ کر سکتا ہوں ایک ساتھ‘۔ اسی طرح ٹیکسچر، لائینز، شیپس یا ہیئت کا مسئلہ ہے۔ ان کا کہا ان کی تصویروں میں آسانی سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ’میں ان میں جو وجود دکھاتا ہوں مجھے ان کی روحوں تک رسائی ہوتی ہے جیسے کہ تھری عورت اور اس کا مٹکا‘۔

معظم کہتے ہیں تھر کے لوگ روایتی نقوش رکھتے ہیں، ان کے پرکشش لباس اور ہزاروں سال کی وراثت رکھنے والی انڈس سولائزیشن انھیں دوسروں سے منفرد بناتی ہے اور انھوں نے اسی لیے مٹکوں میں پانی بھر کر لاتی ’تھری‘ عورتوں کو مصور کیا ہے۔ میں نے جب ان نمائش میں ان کی تصویریں دیکھیں تو میرے ذہن میں ان کی یہی باتیں تھیں اسی لیے مجھے یہ خیال آتا رہا کیا چوڑیوں کا خاص انداز، زیورات، لباس اور پہناوے کا ڈھنگ ہی تھریوں کی پہچان ہیں یا ان کے نسلیاتی خد و خال اور جغرافیائی حالات کی بخشی ہوئی رنگت اور ہزاروں سال پر محیط دراوڑی بے بسی۔ جہاں تک آبی رنگوں کے استعمال ہر مہارت کا تعلق ہے معظم علی کسی بھی ماہر سے کم نہیں اور ان کی تصویریں وہ تمام جمالیاتی جوہر رکھتی ہیں جس کی توقع کی جا سکتی ہے۔

مقبول احمد

شاید ان تصویروں میں ماحول کی خوابناکی کے بعد یہی بات ہے جو انھیں ان کے ہمعصروں سے الگ کرتی ہے

مقبول احمد ایسے مصور ہیں جن کے بارے میں مجھے صرف اتنا معلوم تھا وہ مصور ہیں اس کے باوجود کے مجھے کبھی ان کی تصویریں اور کام دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ ویسے بھی وہ ایک ایسے آرٹسٹ ہیں کہ دیکھتے اور ملتے ہی آرٹسٹ کے سوا کچھ نہیں لگتے۔ اگر وہ یہ نہ بھی کہیں کہ وہ بہت سوچتے ہیں اور پھر تصویر بنانا شروع کرتے ہیں، تصویر بنانا شروع کرتے ہیں اور پھر سوچتے ہیں، تو بھی، اگر آپ کو مصوروں، شاعروں اور ادیبوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہا ہو اور آپ مقبول سے ملیں تو پہلی نظر میں ہی آپ کو احساس ہونے لگے گا جس آدمی سے آپ مل رہے ہیں وہ یہی کرتا ہوگا۔ اگر آپ انہیں ہجوم میں دیکھیں تو وہ موجود لوگوں میں شامل بھی ہوں گے اور الگ بھی، گھلے ملے ہوئے بھی اور لاتعلق بھی۔

مجھے لگتا ہے کہ وہ جب کچھ بھی نہیں سوچ رہے ہوتے تو بھی کچھ سوچ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اس نمائش میں ان کی جو تصویریں ہیں وہ رنگوں اور تصویروں کی فضا کی حد تک ہی مقبول کی شخصیت کے اس رخ کی عکاسی نہیں کرتیں۔ وہ اس فضا کو پیدا کرنے کے لیے تصویر کے پس منظر کو پیش منظر پر لے آتے ہیں اور ایسے کہ تصویر کی جمالیاتی پیچیدگی بڑھ کو اور پرکشش ہو جاتی ہے کیونکہ ان کے اس انداز سے آپ وہ بھی دیکھ سکتے ہیں جو پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ ان کی دو عورتوں والی تصویر ہو، تین والی یا پانچ والی۔ ہر تصویر میں ان عورتوں کی دلچسپی اور توجہ تصویر میں دیے گئے ماحول سے ہے نہ کہ تصویر دیکھنے والوں سے جیسا کہ ہم اکثر مصوروں کی ایسی تصویروں میں دیکھتے ہیں۔

مقبول کہتے تو ہیں کہ وہ سوچتے رہتے ہیں اور لگتا بھی ہے لیکن ان کی نظر بہت تیز ہے اور برش عضویاتی تفصیلات کو ایکسرے کی طرح اجاگر کرتا ہے

مقبول کہتے تو ہیں کہ وہ سوچتے رہتے ہیں اور لگتا بھی ہے لیکن ان کی نظر بہت تیز ہے اور برش عضویاتی تفصیلات کو ایکسرے کی طرح اجاگر کرتا ہے۔ اس کے باوجود ان کی تصویروں میں دکھائی دینے والی عورتیں اپنے جسموں سے ایسے بےنیاز ہیں، جیسے مقبول خود لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ یہی بات ان کی تصویروں کو ایک ایسا فطری ماحول میسر کرتی ہے جو تبھی پیدا ہو سکتا ہے جب مصور اپنے آپ کو، یہاں تک کہ اپنے جنسی امتیاز یا علیحدگی کو منفی کر کے تصویر کا حصہ بن جاتا ہے۔ کہیں یہ تصویریں مقبول کا نسائی پہلو تو نہیں؟

ایک اور اہم بات ان تصویروں کو بنانے کے لیے استعمال کیے جانے والے برش کا سائز، سٹروک اور رنگ ہیں۔ مقبول ان تصویروں کو بنانے کے لیے جو برش استعمال کرتے ہیں وہ دوسرے مصور عام طور اس سائز کے کینوسوں پر کم کم اور کہیں کہیں استعمال کرتے ہیں۔ پھر ان کی تصویر جوٹ پر ہوں یا کینوس پر وہ رنگ کئی تہیں لگاتے ہیں لیکن کوئی بھی تہہ گہری، دبیز یا موٹی نہیں ہوتی، ٹرانسپیرنٹ ہوتی ہیں۔ شاید ان تصویروں میں ماحول کی خوابناکی کے بعد یہی بات ہے جو انھیں ان کے ہمعصروں سے الگ کرتی ہے۔

چترا پریتم

چترا پریتم کو جمیل نقش کی پیروی کرنی چاہیے لیکن ان کے کام کی نہیں

فنونِ لطیفہ میں استادی شاگردی کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن درسگاہوں کی شکل اختیار کرنے سے پہلے شاگرد ہمیشہ استاد کے نام کا دم بھرتے رہتے تھے اور درسگاہوں نے انھیں اسی دباؤ سے نکالا۔ پہلے استاد کوشش کرتے تھے کے شاگرد کو ایسا کر دیں کہ وہ خود کو تلاش کرنے کے راستے پر چلنے کے قابل ہو جائے۔ استاد شاگردوں پر کھلے رہتے تھے، اس لیے نہ تو کچھ چھپاتے تھے نہ بتاتے تھے۔ شاگرد اپنی بساط کے مطابق جو ممکن ہوتا حاصل کر لیتے۔ ایسے بھی شاگرد ہوئے جن کے سوالوں نے استادوں پر نئے راستے کھولے اور ایسے بھی شاگرد ہوئے جو فنا فی الاستاد ہو رہے۔ چترا پریتم ان سب طریقوں کا آمیزہ ہیں۔ فنافی الاستاد ایسے ہیں کہ جمیل نقش کے نام سے بات شروع کرتے ہیں اور انھی کے نام پر ختم کرتے ہیں۔

جمیل نقش کی دوری نے بھی ان کے اِس جذب میں کوئی فرق پیدا نہیں کیا۔ ان کی ہر تصویر، تصویر کی ہر لکیر، ان کے رنگ اور رنگ کا ہر شیڈ، یہاں تک کے ان کے ہاتھ کی خفیف سے خفیف جنبش تک اسی جذو اور تلاش کا اظہار محسوس ہوتی ہے۔ کیا یہ اس بات کی تصدیق ہے کے بڑے درختوں کے سائے اگنے والے پودے تناور درخت نہیں بنتے؟ بہت سے لوگ ضرور چترا پریتم کے بارے میں یہی سوچتے اور محسوس کرتے ہوں گے۔ اس کی خطاطی، اس کے لینڈ سکیپ اور اس کی نسائی چہروں والی تصویریں بہت سے لوگ اس لیے خریدتے اور رکھتے ہوں گے کہ اگر جمیل نقش کی تصویریں خریدنے کی بساط نہیں تو چترا کی تصویریں لے لیں۔

لیکن معاملہ اتنا نہیں ہے۔ چترا اور جمیل نقش دو الگ وجود ہیں اور وجود کی یہ علیحدگی مٹائے نہیں مٹتی۔ جمیل نقش ایک جارح شخصیت کے مالک ہیں اور چترا نرم خو اور مؤدب۔ دونوں کے انکار میں بھی بہت فرق ہے۔

اس نمائش میں جو تصویریں ہیں ان میں یہ فرق اور واضح ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جمیل نقش بہت آگے کی منزل میں ہیں۔ وہ پاکستانی حوالہ رکھنے والے واحد مصور ہیں جو مصوری میں ہئیت کے عالمی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ان کے لیے تصویر اب اظہار سے زیادہ ایجاد کا مسئلہ بن چکی ہے۔ چترا کی موجودہ تصویروں کو دیکھ کر ضرور کچھ لوگوں نے محسوس کر لیا ہو گا کہ انھوں اپنے اظہار کی طرف قدم اٹھانے شروع کر دیے ہیں اور انھیں بہت دور جانا ہے لیکن اب وہ اپنے پاؤں چلنا شروع کر رہے ہیں۔

ہمارے معروف و مقبول مصوروں کی اکثریت تو اس کے بغیر ابتدا کرتی ہے اور اس کے بغیر ہی انجام تک پہنچ جاتی ہے۔ ابھی تو چترا نے بازو نہیں کھولے، ابھی انھوں نے کینوس کو خود سے دور رکھنا اور اس کے سامنے کھڑا ہونا شروع نہیں کیا، ابھی تو وہ سب ظاہر ہونا ہے جس کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ انھیں جمیل نقش کی پیروی کرنی چاہیے لیکن ان کے کام کی نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔