عالمی اردو کانفرنس، دوسرے دن کی روداد

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 دسمبر 2012 ,‭ 13:04 GMT 18:04 PST

کراچی میں آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام جاری چار روزہ پانچویں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں تحقیق و تنقید، بیاد رفتگاں، میرا جی، حبیب جالب اور ڈاکٹر مبارک علی کے بارے میں موضوعات پر پرمغز مقالے پیش کیے گئے۔

تحقیق و تنقید کا عصری منظر نامہ

ادیب اور دانشور مسعود اشعر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

کراچی میں آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام جاری چار روزہ پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز پہلا اجلاس ’تحقیق و تنقید کا عصری منظر نامہ‘ کے عنوان سے ہوا۔

اس اجلاس صدر الصدور معروف ادیب مسعود اشعر نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا انسانی زندگی پر اس حد تک اثر انداز ہوا ہے کہ ان کا ترجمان نظر آنے لگا ہے۔اب تین سو کتابیں میری جیب میں ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ میں جب چاہتا ہوں پڑھ لیتا ہوں۔ایک ایسی شخصیت بھی ہے جنہوں نے اپنی بات اسٹیج پر کہنے کے بجائے فیس بک کا سہارا لیا۔ گارجین اخبار نے حال ہی میں ایک ایسا پروگرام کیا جس میں عام پڑھنے والے اپنی پسند کے ادیب سے سوال کر سکتے تھے اور فورًا جواب پاسکتے تھے۔

اس پروگرام میں کاملہ شمسی بھی تھیں جنھوں نے تین گھنٹے تک لوگوں کے سوالوں کے جواب دیے۔

ان سے پہلے سید مظہر جمیل نے ’فیض اور معاصر تنقید‘ کے عنوان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں نہ صرف پاکستان اور ہندوستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں فیض پر کام کیا جا رہا ہے، لیکن فیض پر بنیادی بات بہت شروع میں نقشِ فریادی کے پیش لفظ میں ن م راشد نے کی۔ راشد کا کا کہنا تھا شاعرِ رومان سیاسی کشاکش کے سنگم پر کھڑا ہے اور یہی بات مختلف اسالیب میں دہرائی جا رہی ہے۔

سید مظہر سے پہلے ڈاکٹرمعین الدین عقیل نے کہا کہ مستشرقین نے بلا کسی تفریق کے ادب کے لیے کام کیا ہے اور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ استعماری قوتیں جس قوم اور ملک پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہیں، پہلے اس کے بارے میں تحقیق اور مطلعہ کرتی ہیں۔ مستشرقین کی تحقیق سے ہماری تحقیق، تنقید اور زبان کو فائدہ پہنچا ہے۔ پہلی قواعد لکھنے والے اور پہلی لغت بنانے والے اور اردو ٹائپ تک میں پہل کرنے والے سب مستشرق تھے۔

ان سے پہلے ناصر عباس نیّر نے کہا کہ پہلے تنقید نگار کسی ایک رخ پہ تنقید کرتا تھا، جیسے نفسیاتی ، سماجی اور روحانی رخ لیکن آج کا تنقید نگار امتزاجی تنقید کرتا ہے۔ یعنی سارے خارجی اور داخلی معاملات سے جڑ کر تخلیق کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

اجلاس کی پہلی مقرر ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ نسائی ادب صرف عورتیں نہیں لکھتیں، مرد بھی لکھتے ہیں، جنس مرد و عورت کا امتیاز ہم نے خود قائم کیا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ جو یہ کہتے ہیں کہ نسائی فیشن مغرب کا لایا ہوا ہے ان کے پاس ان کا جواز نہیں ہے۔ خواتین کی آزادی بہت سی پابندیوں کے زیرِ اثر ہے۔ اس تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ضیا الحسن نے انجام دیے۔

’بیاد رفتگاں‘

ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدارتی کلمات پیش کر رہے ہیں

اس اجلاس کے صدر الصدور پروفیسر اور شاعر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم نے کہا ہے کہ ڈاکٹر سلیم الزماں زماں صدیقی کا نام آتے ہی ذہن میں کئی ایسی شخصیات آجاتی ہیں جو بہت قد آور ہیں اور جن میں کئی جہتیں ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سلیم الزماں صرف سائنسداں ہی نہیں تھے، وہ مصور، شاعر اور بلا کے مترجم بھی تھے اور نوے سال سے زائد کا ہونے کے باوجود روزانہ لیبارٹری آتے اور کام کرتے۔

قبل ازیں صابرجعفری نے ’پہلے عوامی شاعر نظیر اکبر آباد ی‘ کے عنوان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ادیبوں نے انہیں شجر ممنوعہ قرار دے کر چھوڑ دیا اور ان کی شخصیت پر ایک ایسا پردہ ڈال دیا کہ کوئی اس طرف جائے ہی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ عریانی اور فحاشی ہر دور میں ہوتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی کا معاملہ یہ ہے کہ ان کا ظاہر و باطن ایک تھا اور انھوں عام زندگی سے تعلق رکھنے والے مسائل پر شاعری کی۔

محمد ایوب شیخ نے سندھی کے ممتاز شاعر ادیب اور ہمہ جہت شخصیت شمشیر الحیدری پر بات کی اور کہا کہ وہ ایک ایسے ادیب کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو ایک بت شکن، باضمیر اور انسان دوست تھا۔ انہوں نے صحافت، ڈرامہ نگاری سے تو شہرت پائی ہی لیکن وہ سندھی میں نظمِ آزاد کے بانی بھی تھے۔ انھوں نے نہ صرف خود کام کیا بلکہ کام کرنے والی ایک پوری نسل کی آبیاری کی۔

معروف مصنف ڈاکٹر آصف فرخی نے ’منٹو کے شور میں کرشن چندر‘ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آوازوں کے شور میں کرشن چندر کی آواز کہاں گم ہو گئی۔ وہ اس سلوک کے مستحق نہیں تھے کہ انہیں بیگانگی کی دیوار میں چن دیا جائے۔ کرشن چندر کے نام کے ساتھ ساتھ منٹو کا بھی نام ہے جو بد سے زیادہ بدنام ہوئے اور کرشن چندر اپنی نیک نامی کی وجہ سے مارے گئے، لیکن محمد حسن عسکری نے لکھا ہے کہ اگر انھوں نے کرشن چندر کا افسانہ ’دو فرلانگ لمبی سڑک‘ نہ پڑھا ہوتا تو مارسل پروست کو نہ پڑھا ہوتا۔

ممتاز شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے لطف اللہ خان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ میرے بزرگ تھے اور گذشتہ سال اسّی اسٹیج پر موجود تھے۔60 سال سے زائد عرصے تک وہ آوازیں جمع کرتے رہے اور ان کے لکھنے کا کام بھی جاری رہا۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو انہوں نے ہر پل ہر لمحہ ہر برس کے روزوشب جمع کیے ہیں۔ ان کا کام بہت وسیع ہے۔ انہوں نے موسیقی سیکھی اور چالیس برس باقاعدہ ریاض بھی کیا اور وہ کام کیا جو ادارے کرتے ہیں۔

ممتاز ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید نے حمید اختر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حمید اختر اول سے آخر تک ڈرامہ کار تھے۔ حمید اختر اپنی تحریک کے آخری سپاہی تھے۔ وہ کسی بھی محفل یا جلسے میں یادوں کو تازہ کرنے کا موقع آسانی سے نکال لیتے تھے جیسے داستاں گو کرتا ہے۔ ان کے تمام ساتھی ایک ایک کر کے چلے گئے اور ان کے لیے یہ کام چھوڑ گئے کہ وہ ان کی باتوں اور یادوں کو محفوظ کریں اور انھوں نے یہ کام بہت بڑی حد تک کیا۔ اس دوران کئی بار جیلیں بھی کاٹیں اور بڑی بڑی مشکلیں بھی سہیں۔

مقبول موسیقار اور گلوکار ارشد محمود نے مہدی حسن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی وہ اپنی زندگی میں گزارے عہد کے لمحات کے بارے میں سوچتے ہیں تو دکھی بھی ہوتے ہیں اور خوش بھی۔

دکھی اس لیے کہ کیا کیا شخصیتیں تھیں جو اب نہیں رہیں اور خوش اس لیے کہ انھیں ان سے ملاقاتوں کا موقع ملا۔ جب ان کا خاندان پاکستان آیا تو وہ ایک دشوار ترین دور تھا۔ لیکن انھوں نے اس دشوار ترین دور میں بھی اپنا ریاض جاری رکھا۔ ان کی آواز تھی کہ وہ ہر راگ کو خوش اسلوبی سے گا لیتے تھے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انھیں ان راگوں پر عبور تھا۔ انھوں نے کہا کہ مہدی حسن کے انتقال نہ صرف اردو بولنے والوں کا بلکہ موسیقی کے لیے بھی ناقابل تلافی نقصان ہے۔

ممتاز افسانہ نگار زاہدہ حنانے ہاجرہ مسرور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب لڑکیاں نوعمری میں گڑیوں سے کھیلتی ہیں ہاجرہ مسروراس وقت کہانیاں لکھتی تھیں۔انھوں نے پڑھنے والوں کو چونکایا۔ ان کی شادی ابھرتے ہوئے صحافی احمد علی خاں سے ہوگئی اور وہ لاہور سے کراچی آ گئیں۔ کراچی آنا ان کی تخلیقی زندگی کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا اور انھوں نے یہاں آ کر بہت کم لکھا لیکن جو کچھ بھی لکھا انتہائی عمدہ ہے اور یادگار ہے۔ ان کے ہاں آورد کی بجائے آمد تھی۔ ہاجرہ مسرورنے احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ’نقوش‘ کا آغاز کیا، اگرچہ وہ بعد میں اس سے الگ ہو گئی تھیں۔

اس اجلاس کی صدارت بیگم لطف اللہ خان نے کی جب کہ نظامت آرٹس کونسل کراچی کی گورننگ باڈی کے رکن اقبال لطیف نے انجام دیے۔

’میرا جی‘

کشور ناہید میرا جی پر اظہارِ خیال کر رہی ہیں

اس اجلاس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر شمیم حنفی نے کی اور ان کے علاوہ، مسعود اشعر، فہمیدہ ریاض، ناصر عباس نیّر، شاہدہ حسن اور وسعت اللہ خان نے میرا جی پر بات کی۔

صدر الصدود ممتاز شاعرہ کشور ناہید نے مختصر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرا جی کے بارے میں بہت زیادہ جاننا چاہتے ہو تو ’اخترالایمان کی یاد داشتیں‘ ضرور پڑھ لیں جو ان کے آخری وقتوں کے ساتھی تھے۔ اور ان کا ذکر میرا سین کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔

ان سے پہلے شمیم حنفی نے کہا کہ میرا جی اپنے دور میں ایک نئی دنیا کا خواب دیکھ رہے تھے اور ن م راشد اور فیض احمد فیض اس بات سے پوری طرح آگاہ تھے۔ انہیں مشرق اور مغرب کو جس گہرائی اور وسعت سے دیکھا وہ کسی اور میں دکھائی نہیں دیتی۔ میرا جی کو یاد کرنا سب سے سنجیدہ معاملہ ہے اور میرے نزدیک وہ سب سے زیادہ سنجیدہ شاعر تھے۔ انھوں نے کہا کہ میر اجی نے سر پر منڈلاتی ہوئی موت کو اطمینان سے قبول کر لیا تھا۔ن م راشد کے نزدیک میرا جی ان کے معا صرین میں سب سے بڑا تخلیقی دماغ رکھتے تھے۔ میرا جی ایک جیتا جاگتا افسانہ بن گئے تھے۔

ممتاز شاعرہ فہمیدہ ریاض نے ’میرا جی کی جمالیات‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی نژاد جولیان نے میرا جی پر اردو میں جو کتاب لکھی ہے اس میں وہ میرا جی کو بالکل بھی نہیں سمجھ سکے۔ معاملہ یہ ہے کہ میرا جی شخصیت پر زیادہ بات ہوتی ہے اور شاعری پر کم۔ میرا جی کی شاعری سمجھنے کے لیے بہت ذہین اور اعلٰی ذوق کی ضرورت ہے۔ ان کی شاعری کو سمجھنے میں ان کے تین گولے آڑے آ جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں میرا جی کی شاعری میں کہیں مایوسی اورسوقیت دکھائی نہیں دیتی۔ ہاں اداسی اور گہری اداسی ضرور نظر آئی ہے اور اس میں بھی گہرا جمال ہے۔

ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے اپنے موضوع ’میرا جی کے تراجم‘ میں کہا کہ ہماری تنقید اتنی بالغ نہیں ہوئی کہ میرا جی کی شاعری کے جہان کی مکمل طور پر سیر کر سکے۔ میرا جی نے حلقۂ ارباب ذوق کی مزاج سازی کی لیکن وہی حلقۂ ارباب اب ان سے آشنا نہیں اور نہ ہی ان کی خدمات کا وہ اعتراف کرتا ہے جس کا حق بنتا ہے۔ انھوں جیسے نظمِ آزاد کی ابتدا کی اسی طرح نثر میں بھی بنیادی آدمی ہیں۔ مشرق و مغرب کے نغمے کے مضامین انھوں نے جس عمر میں لکھے اس پر حیرت ہوتی ہے۔ پھر ان کے تراجم جو متن کو ایک نئی زبان فراہم کرتے ہیں۔

ممتاز شاعرہ شاہدہ حسن نے ’میرا جی کی گیت نگاری‘ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا جی کی شاعری دراصل میں اپنے اندر چھپے ہوئے آدمی کی تلاش اور دریافت ہے۔ انہوں نے شعرِ ادب میں سب سے انوکھی دکان کھولی تھی۔ میرا جی نے اپنی زندگی کے چراغ کی بتی کو دونوں سروں سے جلا رکھا تھا۔ شخصیت کی یہ برہمی اور بکھراؤ دراصل اس دور کا احتجاج تھا۔گیت کی ریت سب سے پہلے آواز بنی آواز سروں میں ڈھلی بول راگ میں ڈھلی اور یہ راگ گیت بن گئے۔

معروف ادیب اور صحافی وسعت اللہ خان نے ’میرا جی آج‘ کے عنوان سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرا جی کا کلام آج بھی کل کی طرح بے حد اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا اگر یہ کہا جائے کہ میراجی ایک ذہنی مریض تھا، نرگسیت کا مارا ہوا تھا، بہروپیا تھا، جنسی کجروی کا شکار تھا، سستی توجہ حاصل کرنے کے لیے، مرکزِ نگاہ بننے کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا تو، بارہ مہینے گرم کوٹ پہنے، کانوں میں بالیں ڈالے، ساھووں سی مالائیں پہنے، نہانے دھونے سے لاپروا، میلے ہاتھوں میں تین چمکدار گولے دبائے کہیں بھی پڑا رہ سکتا توُ ممبئی کے ایک گمنام اسپتال میں حقیقت سے زیادہ مرنے کی حقیقی اداکاری کر سکتا تھا۔ یہ سب باتیں صحیح ہیں لیکن وہ میرا جی تھا، وہ میرا جی جس تک پہنچنے کے ان سب سے گذرنا پڑتا ہے اور وہی گذرتے ہیں جو ان تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ یا جن میں اس کی صلاحیت ہوتی ہے۔

اس اجلاس کی نظامت کے فرائض علی حیدر ملک نے انجام دیے۔

’اعترافِ کمال حبیب جالب‘

حبیب جالب کی صاحبزادی ظاہرہ حبیب کو کار کی چابی پیش کی جا رہی ہے

ممتاز ادیبہ اور شاعرہ کشور ناہید نے کہا ہے کہ حبیب جالب کا قصہ دو چار برس کی بات نہیں، چالیس سال کا معاملہ ہے۔ وہ ایک انتہائی دشوار راستے کا مسافر تھا، اس نے ہر دور کے حکمرانوں کی مزاحمت کی اور عوام کی بات کی۔ اس میں کسی نفع نقصان کی پرواہ نہیں کی۔ ان کے ساتھ میرا جو بھی وقت گذرا ہے وہ تاریخی اور یادگار ہے۔ مجھے ان سے صرف ایک شکایت ہے کہ ’وہ اپنی بیٹیوں کے بارے میں روشن خیال نہیں تھا۔‘ وہ اپنی دونوں بیٹیوں کی ملازمت کے حق میں نہیں تھے۔

یارکشائر ادبی فورم کی چیئر پرسن مہ جبیں غزل انصاری نے کہا کہ گذشتہ چار سال سے اردو کانفرنس میں حصہ لے رہی ہوں جہاں سے میں نے بہت کچھ سیکھا اور اپنے لیجنڈز کو خراج پیش کر نا احسن کام ہے جو آر ٹس کونسل نے کر کے دکھا دیا ہے۔ ہم اس عظیم شاعر کے لیے جو بھی کر سکیں کم ہے، کیونکہ انھوں نے ساری زندگی ہمارا خیال رکھا ہم سب کا جنھیں عوام کہا جاتا ہے اس لیے ہم پر بھی کچھ ذمے داری عائد ہوتی ہے۔

انھوں نے حبیب جالب کی بیٹی ظاہرہ حبیب کو ایک کار پیش کی۔ اسی تقریب میں فورم کی جانب سے اردو کے نادر غزل او رسا چغتائی کو شیلڈ اور پچاس ہزار کا چیک پیش کیا گیا۔

قبل ازیں مجاہد بریلوی نے حبیب جالب کے ساتھ گذرے ہوئے اپنے دنوں کو یاد کیا اور ان کی شاعری سنائی۔ اجلاس کے آخر میں طاہرہ حبیب نے اپنے والد کی مشہور نظم ’میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا‘ والد ہی کے انداز میں اس گداز سے سنائی کے حاضرین کی بڑی تعداد کی آنکھیں بھر آئیں۔

’ڈاکٹر مبارک علی ’اعترافِ کمال‘

پانچویں اجلاس کے دوران ڈاکٹر مبارک علی کے کمالِ فن کا اعتراف کیا گیا

پانچویں اجلاس میں پاکستان کے معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اس اجلاس سے صدر الصدور تسنیم صدیقی، ڈاکٹر جعفر احمد، ڈاکٹر ریاض شیخ اور ڈاکٹر توصیف احمد نے خطاب کیا۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر مبارک علی کو آرٹس کونسل کراچی کی جانب سے اعزازی ممبر شپ اور شیلڈ بھی پیش کی گئی۔

تسنیم صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ سماجی علوم اور تاریخ کو پڑھانا ہی بند کر دیا گیا ہے اور جہاں تاریخ پڑھائی جاتی ہے وہاں تاریخ کی کتابیں وہ ہیں جن پر مرضی مسلط ہے۔ ڈاکٹر مبارک کی کتاب ’پاکستانی معاشرے کے مسائل‘ پاکستان کے مسائل سے سیر حاصل بحث کرتی ہے۔ لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جناح اور اقبال سے آگے دیکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر مبارک کہتے ہیں دانشور طبقہ عصری مسائل سے دور رہتا ہو اور ایک طبقہِ مفاد پرست ہے جو سرگرم رہتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق ہماری ریاست میں ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے جو تشویشناک امر ہے۔

ڈاکٹر جعفر نے کہا کہ عام لوگ سماج کے انجن کو ایندھن فراہم کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب تاریخ دان ہیں جو لوگوں کو جگانے میں مصروف ہیں۔ وہ تین عشروں سے یہ کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے دور افتادہ علاقوں تک ان کی کتابیں پہنچتی اور موجود دکھائی دیتی ہیں جو پڑھی بھی جاتی ہیں اور سمجھی بھی جاتی ہیں۔ وہ 70سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ مشکل ترین باتوں کو بہت آسان الفاظ میں کرنے کا فن بھی جانتے ہیں۔ انھوں نے محلاتی سازشوں کے بجائے نجی زندگیوں پر کتابیں لکھ رہے ہیں وہ تاریخ کو اپنے رجحانات کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اس موقع پر آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جو بادشاہ کا کلچر ہے وہی عوام کا کلچر ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی نے برسوں پرانی تاریخ کو ایک کتاب میں محفوظ کر کے آنے والی نسلوں کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں جس کا بدل ممکن نہیں۔ ہم سے جو ہو سکا ہم نے ان کے لیے تقریب سجائی اور ہم اپنی روایت کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔

ڈاکٹر ریاض شیخ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی تحریروں میں بڑے ہیرو نظر نہیں آتے بلکہ عام عوام دکھائی دیتے ہیں۔

یہ اجلاس ڈاکٹر مبارک علی کی ان کی تین کتابوں کے اجرا کے لیے بھی تھا جس میں ’تاریخ ہمیں کیا بتاتی ہے، تاریخ کی باتیں اور پاکستانی معاشرہ‘ بھی شامل تھیں۔

آخر میں ڈاکٹر مبارک نے کہا کہ ہم ان لوگوں میں سے ہیں جن کا اعتراف کم کیا جاتا ہے۔ میں آرٹس کونسل کراچی کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری کاوشوں کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا اور حاضرین کا بھی شکر گزار ہوں کہ طویل ترین سیشن کو سنا۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر توصیف احمد نے انجام دیے۔

دوسرے روز کا چھٹا اجلاس دو ممتاز شعرا کے اعزام میں ’دو شاعر ایک شام‘ کے عنوان سے تھا اور اس میں انور مسعود اور امجد اسلام امجد نے شاعری سنائی کو حاضرین ایسے تازہ دم کر دیا کہ وہ بے تحاشا داد دینے لگے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔