’معاشرے کی منافقت اور اسلام پسندی‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 دسمبر 2012 ,‭ 01:06 GMT 06:06 PST

عباس زیدی نے کوشش کی ہے کہ اپنے افسانوں کے مجموعے کو لاہور ہی سے شائع کروانا چاہیے

گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب پڑھنے والے اور کئی برس تک لاہور کے روزنامہ دی نیشن میں صحافت سے وابستہ رہنے والے، عباس زیدی نے تیرہ افسانوں کا مجموعہ ترتیب دیا ہے جسے لاہور ہی کے ایک معروف پبلشر نے شائع کیا ہے۔

افسانوں کا مجوعہ’ ٹو اینڈ ہاف ورڈز اینڈ ادر سٹوریز‘

ناشر:کلاسیک پبلشرز، ریگل چوک لاہور

صفحات: 170

قیمت: 200 روپے

لاہور کے صحافی عباس زیدی کے یہ افسانے نہ صرف پاکستان میں زندگی کے ان تضادات کو پیش کرتے ہیں جن کے ذریعے معاشرے کے منافقت مزاحیہ انداز میں سامنے آتی ہے، بلکہ ان افسانوں میں یہ بھی نظر آتا ہے کہ دنیا میں پاکستان اور پاکستانی اسلام کی کیا تصویر بن رہی ہے اور اس سے پاکستانیوں کی زندگی نہ صرف پاکستان میں بلکہ دوسرے ممالک میں کس طرح بگڑ یا سنور رہی ہے۔

حقیقی تجربات کو افسانوی رنگ میں ڈھال کر ڈرامہ نگاری کرنا ہی دراصل بڑے افسانہ نگاروں کی کامیابی کا راز ہے۔

گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب پڑھنے والے اور کئی برس تک لاہور کے روزنامہ دی نیشن میں صحافت سے وابستہ رہنے والے عباس زیدی نے اپنے تیرہ افسانوں کا ایک مجموعہ ترتیب دیا ہے جسے لاہور ہی کے ایک معروف پبلشر کلاسیک نے شائع کیا ہے۔

اگرچہ آج کے دور میں جب تکنالوجی میں بے انتہا ترقی، مارکیٹنگ کے نئے رنگ ڈھنگ اور میڈیا کی بے انتہا طاقت کی وجہ سے انگریزی زبان میں نثری یا شعری کتاب لکھنا پیسے کمانے کا ذریعہ بھی بنتا جا رہا ہے۔

ان کے افسانوں کا مجموعہ امریکی یا برطانوی ادارہ بخوشی شائع کر سکتا تھا، غالباً ییل یونیورسٹی کا پبلشنگ ہاؤس بھی شائع کرتا، مگر عباس زیدی نے کوشش کی ہے کہ اپنے افسانوں کے مجموعے کو لاہور ہی سے شائع کرایا جائے، چاہے اس میں انہیں کچھ مالی فائدہ ہو یا نہ ہو۔

لاہور سے ان کی گہری محبت کا اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں ہو سکتا اور ان کے افسانوں میں لاہور ہی کو محور مان کر مشرق بعید، برطانیہ یا امریکہ جیسے تجربات کو نئی جہت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

گہری عکاسی

’ٹو اینڈ اے ہاف ورڈز ادر سٹوریز‘ میں افسانہ نگار نے لاہور کے ایک نوجوان کے تجربات سے لیکر دنیا کی مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں سے مکالمے کی بہت ہی گہری عکاسی ہے۔ کہانیوں میں تفصیلات کا ذکر انہیں روسی ناول نگاروں کے قریب لے جاتا ہے مگر کرداروں کا تحلیل نفسی انہیں فرائیڈز کے انداز کا ماہر بنا دیتا ہے۔

’ٹو اینڈ اے ہاف ورڈز اینڈ ادر سٹوریز‘ میں افسانہ نگار نے لاہور کے ایک نوجوان کے تجربات سے لیکر دنیا کی مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں سے مکالمے کی بہت ہی گہری عکاسی کی گئی ہے۔ کہانیوں میں تفصیلات کا ذکر انہیں روسی ناول نگاروں کے قریب لے جاتا ہے مگر کرداروں کا تحلیل نفسی انہیں فروئڈ کے انداز کا ماہر بنا دیتا ہے۔

خاص کر ہمارے معاشرے کے گہرے تعصب کو اس وقت ایک مزیدار کامیڈی کی شکل مل جاتی ہے جب عباس زیدی کے ایک افسانے کا مرکزی کردار اپنی خفیہ شخصیت کو اس وقت بلا ضرورت عیاں کر دیتا ہے جب اس کی بیٹی اس کی سابق معشوق کے لڑکے سے شادی کرنے لگتی ہے۔

بقول اس کردار کے ’اصولوں پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا ‘۔

عباس زیدی کے افسانوں میں معاشرے کی منافقت اور اسلام پسندی کے پیچھے لوگوں کے احساِس جرم کا بھی بھرپور تجزیہ ملتا ہے۔ مثلاً ایک افسانہ ایک ایسے پاکستانی کے اردگرد گھومتا ہے جو برطانیہ آ کر ایک نائٹ کلب کھولتا ہے اور ٹیکس کی عدم ادائیگی کی بنا پر برطانیہ سے واپس پاکستان بھاگ جاتا ہے اور وہاں اپنے علاقے میں ایک بڑی مسجد تعمیر کرواتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی کے ریٹائرڈ پروفیسر رضا عابدی نے عباس زیدی کے اندازِ تحریر کو پختہ اور اثر انگیز قرار دیا ہے۔ اس مجموعے کا ایک ایک افسانہ اپنے آخری لفظ تک پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑے رکھتا ہے۔ انگریزی زبان میں اس پاکستانی افسانہ نگار کا اسلوب کہانی بیان کرنے کے انداز پر گرفت کا واضح اشارہ دیتا ہے۔

عباس زیدی کے افسانے نہ صرف خود پاکستانیوں کے لیے اپنی معاشرتی زندگی کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ یہ مغرب میں انگریزی بولنے والوں کے لیے پاکستانی معاشرے کے تضادات کو سمجھنے کا اہم ذریعہ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔