بھارت میں موسیقی کا بدلتا ماحول

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 07:32 GMT 12:32 PST

تالیا موسیقی اور ماڈلنگ کے شعبے میں کیریئر بنانے بھارت آئیں

مٹیلكا، اینرك اگلیسيس، ڈیوڈ گیٹا اور برائن ایڈمز کے درمیان کیا مشترک ہے؟

یہ سب وہ غیر ملکی گلوکار ہیں جن کے مداحوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھارت میں موجود ہے اور اب بھارت میں انگریزی موسیقی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت چھوٹے غیر ملکی فنکاروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔

ایسے غیر ملکی فنکاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں موسیقی کا بدلتا ماحول ان کے کیریئر کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ وہاں موسیقی کے میدان میں اپنی قسمت آزمانے آئے ہیں۔

ستائیس سالہ تاليا بیٹسن لاس اینجلس سے ممبئی آئی ہیں۔ ان کے والد کا تعلق سیكنڈینیويا اور والدہ کا بھارت سے تھا۔ وہ کیلیفورنیا میں پلی بڑھیں لیکن دلی میں کئی برسوں تک رہی ہیں۔

وہ چار سال پہلے موسیقی اور ماڈلنگ کے شعبے میں کیریئر بنانے بھارت آئیں۔ وہ کہتی ہیں،’یہاں غیر ملکی موسیقی کا دائرہ کافی چھوٹا ہے، اس لیے یہاں شناخت بنانا آسان ہے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’مجھے یہاں لگتا ہے کہ آپ مغربی ممالک کے مقابلے میں کسی کو جانتے ہیں تو تھوڑی دیر کے لیے ہی صحیح شہرت ضرور مل جاتی ہے‘۔

بیٹسن کے لیے بھارت آنے کی وجہ صرف گانے کا موقع حاصل کرنا ہی نہیں تھا، بلکہ اس ملک میں رہنے کا ایک موقع بھی تھا جہاں ان کی والدہ پیدا ہوئی تھیں۔

وہ کہتی ہیں، ’میں اصل میں یہاں وہ سب کر سکتی ہوں جو لاس اینجلس میں ممکن نہیں تھا. یہاں اتنے رنگ ہے، اتنے کردار ہیں‘۔

" کچھ ہی سالوں میں جو کوئی بھی موسیقی میں ایک اہم عالمی کیریئر چاہے گا، وہ بھارت کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔"

وجے نائر

موسیقی کے پروموٹر وجے نائر کہتے ہیں کہ ’بھارت میں غیر ملکی موسیقی کا بازار اب بھی کافی چھوٹا ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی فنکاروں کو موقع ملتا ہے کہ وہ الگ ہیں اور نئے چہرے ہیں‘۔

برطانیہ میں رہنے والے ڈي جے انل چاولہ کچھ سال پہلے ہی ممبئی آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے وسیع ہونے کا مطلب ہے غیر ملکی فنکار اپنے ممالک کے مقابلے میں زیادہ شائقین کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور انہیں یہاں زیادہ پریس کوریج ملنے کا امکان ہے۔

لیکن وہ کہتے ہیں ’اگر میں امریکہ میں رہ رہا ہوتا تو میں یہاں اپنا سب کچھ چھوڑ کر نہیں آتا، یہ سوچ کر کہ یہاں کیریئر بنانا آسان ہے‘۔

بھارت میں مغربی موسیقی کے چاہنے والوں کا دائرہ اہم ضرور ہے لیکن یہ اب بھی محدود ہے۔ بالی وڈ کی موسیقی اب بھی سب سے مقبول ہے تاہم دھیرے دھیرے مغربی موسیقی کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔

انل چاولہ کہتے ہیں،’یہاں ایک ارب سے زیادہ لوگوں کی آبادی ہے اور پیسے خرچ کرنے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ جب ان کی کمائی سے زیادہ ہے تو وہ پارٹی وغیرہ میں جانا چاہتے ہیں اور اس کا براہ راست اثر ہوتا ہے اس کام پر جو میں کرتا ہوں‘۔

لیڈی گاگا نے گزشتہ سال پہلی بار بھارت کا دورہ کیا

انل چاولہ لندن میں باقاعدگی سے ڈي جے کا کام کیا کرتے تھے لیکن اقتصادی بحران کی وجہ سے انہیں کام کم ملنے لگا اور بھارت میں کام بڑھنے لگا تو وہ یہاں آ گئے۔

وہ کہتے ہیں، ’یہاں موسیقی میں سپانسرشپ میں اضافہ ہوا ہے جو میرے لیے اچھا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اب بہت سی شراب اور سگریٹ کمپنیوں نے موسیقی کی تقریب اور كنسرٹ میں پیسہ لگانا شروع کر دیا ہے۔

وجے نائر کا کہنا ہے کہ بھارتی موسیقی مارکیٹ حالیہ برسوں میں کافی بڑھی ہے اور صرف تاليا بیٹسن اور انل چاولہ جیسے چھوٹے فنکار ہی نہیں بلکہ بڑے غیر ملکی فنکار بھی اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں.

لیڈی گاگا نے گزشتہ سال پہلی بار بھارت کا دورہ کیا۔ ان دنوں پیرس ہلٹن گوا میں ایک نائٹ کلب میں ڈي جے کا کام کر رہی ہیں۔

وجے نائر کہتے ہیں،’ کچھ ہی سالوں میں جو کوئی بھی موسیقی میں ایک اہم عالمی کیریئر چاہے گا، وہ بھارت کو نظر انداز نہیں کر سکتا‘۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔