دنیازاد٣٦ : قلعۂ فراموشی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 دسمبر 2012 ,‭ 13:24 GMT 18:24 PST
دنیا زاد

نام کتاب: کتابی سلسلہ، دنیازاد ٣٦

ترتیب: آصف فرخی

صفحات: 299

قیمت: 200 روپے

ناشر: شہر زاد، بی 155، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

اردو ادب پڑھنے والے اس بات سے واقف ہیں کہ اب اردو میں ایسے ادبی جرائد بہت کم رہ گئے ہیں جو روایتی طور ادبی جرائد کی طرح شایع ہوتے ہوں۔ ان کی جگہ مسلسل شایع ہونے والی انتھالوجیز یا کتابی سلسلوں نے لے لی ہے اور اس کی وجہ، خاص طور پاکستان میں طویل عرصے تک اخبارات و جرائد کی نشر و اشاعت کی اجازت یعنی ڈیکلیئریشن پر لگی رہنے والی پابندیاں بھی ہیں۔

انتھالوجیز بالعموم کسی عرصے، کسی رجحان، کسی خاص گروپ یا کسی خاص انداز کو بنیاد بناتی تھیں۔ جسے فلاں سال کے منتخب افسانے، فلاں طرز یا انداز کے منتخب افسانے، فلاں دہائی کی یا عرصے کی شاعری وغیرہ اور یہ سلسلہ تب بھی جاری تھیں جب ڈیکلریشن پر ایوب خان آمریت میں لگائی جانے والی پابندیاں محمد خان جونیجو نے ختم نہیں کی تھیں۔ دنیا زاد اسی نوع کا انتھالوجی میگزین یا کتابی سلسلہ ہے اور ہر سال تین کتابیں پیش کرتا ہے۔ اس کے مرتب آصف فرخی پاکستان کے جانے پہچانے افسانہ نگار، نقاد، مترجم اور شاعر ہیں۔

جیسا کے اس پر دیے گئے نمبر سے ظاہر ہے، اس سے پہلے اس سلسلے کی پینتیس کتابیں شایع ہو چکی ہیں۔ آصف فرخی کے اس سلسلے کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ ہر کتاب کو ایک الگ نام بھی دیتے ہیں جیسے زیر تبصرہ کتاب کا نام ’قلعۂ فراموشی‘ ہے۔

یہ عنوان کتاب میں شامل فہمیدہ ریاض کی ایک تحریر کا عنوان ہے۔ جس کے بارے میں فہمیدہ یہ بتاتی ہیں کہ یہ ایک ایسا قلعہ تھا جہاں ان سیاسی قیدیوں کو رکھا جاتا تھا جنھیں عوامی فکر اور یادداشت سے قطعی غائب کرنا مقصود ہوتا تھا اس لیے وہاں قید کیے جانے والے لوگوں کا نام لینا بلکہ قلعے تک کا نام لینا ممنوع تھا۔

اس کتاب کو قلعۂ فراموشی کا نام کیوں دیا گیا ہے، اور کیسے یہ نام کتاب میں شامل باقی تحریروں کو ایک دوسرے سے منسلک یا ہم رشتہ کرتا ہے، میں یہ جاننے میں ناکام رہا ہوں۔

محفل کے عنوان سے لکھا گیا ابتدائیہ یہ انکشاف کرتا ہے کہ فہمیدہ ریاض ’قلعۂ فراموشی‘ کے نام سے ناول لکھ رہی ہیں اور یہ اس ناول کے دو باب ہیں۔ ان دو ابواب میں مانوسیت بھی ہے اور اجنبیت بھی۔ مجھے اس پر ترجمے کا شبہ گذرا لیکن آصف فرخی نے مجھے درست کر دیا۔ کہانی پر گرفت مانوس ہے۔ اس اعتبار سے ناول کے یہ دو باب اس کتاب میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔

اس کتاب کی ابتدا انتظار حسین کے مضمون ’اکیسویں صدی اور ہمارا ادب‘ سے ہوتی ہے، پھر شمس الرحمٰن فاروقی کا مضمون، میرا جی: سو برس کی عمر میں، شمیم حنفی کا مضمون ’میرا جی صدی کی دہلیز پر، میرا جی‘، انتظار حسین کا ’منٹو کا آدمی نامہ، اور کشور ناہید کا ’منٹو کے نسوانی کردار اور آج کا پاکستان‘ ہے۔

منٹو اور میرا جی کے بارے میں یہ مضامین ان دونوں ادیبوں کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے فرمائشی ہیں یا اتفاق سے ان چاروں بڑے لکھنے والوں کو، معاف کیجیے گا، تین بڑے لکھنے والوں اور ایک بڑی لکھنے والی کو منٹو اور میرا جی کے وہ پہلو یاد آ گئے جو ان مضامین میں زیر بحث لائے گئے ہیں۔ اس کا جواب نہ صرف ان ادیبوں کو ڈھونڈنا چاہیے بلکہ سب لکھنے والوں کو بھی تلاش کرنا چاہیے کہ جن مسائل پر وہ لکھتے ہیں وہ کس حد تک ان کے داخلی اور ذاتی مسائل ہوتے ہیں اور نہیں ہوتے تو کیوں نہیں؟

فرمائشی مضمون یا محض اتفاق

"منٹو اور میرا جی کے بارے میں یہ مضامین ان دونوں ادیبوں کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے فرمائشی ہیں یا اتفاق سے ان چاروں بڑے لکھنے والوں کو، معاف کیجیے گا، تین بڑے لکھنے والوں اور ایک بڑی لکھنے والی کو منٹو اور میرا جی کے وہ پہلو یاد آ گئے جو ان مضامین میں زیر بحث لائے گئے ہیں۔ اس کا جواب نہ صرف ان ادیبوں کو ڈھونڈنا چاہیے بلکہ سب لکھنے والوں کو بھی تلاش کرنا چاہیے کہ جن مسائل پر وہ لکھتے ہیں وہ کس حد تک ان کے داخلی اور ذاتی مسائل ہوتے ہیں اور نہیں ہوتے تو کیوں نہیں؟"

اس انتھالوجی میں فکشن کا حصہ خاص طور پر اہم ہے۔ فہمیدہ ریاض کی بات ہم کر چکے ہیں، ان کے علاوہ حسن منظر کا افسانہ، خالدہ حسین، صدیق عالم، محمد عاصم بٹ اور عامر حسن کے افسانے دو حصوں میں شامل ہیں۔

عامر حسین کے افسانے اس لحاظ سے اہم ہیں کہ وہ ان افسانوں سے پہلے انگریزی میں لکھتے رہے ہیں اور یہ افسانے ان کے اولین اردو افسانے ہیں۔ اسی حوالے سے ان کا افسانہ ’میاں اردو میں کیوں نہیں لکھتے؟‘ خاص دلچسپی کا حامل ہے۔

شاعری کے حصے میں زہرہ نگاہ، احمد مشتاق، شوکت عابد، آفتاب حسین، شاہین عباس اور عمران عباس کی غزلیں اور ن م دانش، شہلا نقوی، حسن مجتبٰی، شاہ محمد پیرزادہ، علی افتخار جعفری اور مصطفٰی ارباب کی نظمیں ہیں۔

یہ غزلیں اور نظمیں لطف دیتی ہیں، کبھی اپنے حوالے سے اور کبھی اپنے لکھنے والے کے حوالے سے لیکن کیا اس کے آگے بھی جائیں گی یہ کہنا آسان نہیں۔

اس کے بعد کے حصے میں حوان رلفو کے بارے میں سوزن سونٹاگ کا مضمون ہے۔ حوان رلفو میکسیکن ادیب ہیں اور ایسے ادیب ہیں کہ گارشیا مارکیز کو ان ناول کے حصے حفظ تھے۔ احمد مشتاق نے نہ صرف اس کے بارے میں سوزن سونٹاگ کا تعارف ترجمہ کیا ہے بلکہ ان کے ناول ’پیڈرو پرامو‘ کا کچھ حصہ بھی ترجمہ کیا ہے۔ یہ دونوں تحریریں پڑھنے لائق ہیں۔

اس کے بعد ہاجرہ مسرور کے بارے میں مصطفٰی کریم اور آصف فرخی کے تحریریں ہیں۔

عنیقہ ناز گو کہ ایک کم معروف نام ہے لیکن آپ ان کے بارے میں دیے گئے تعارف سے جان سکتے ہیں۔ ان کی حادثاتی موت کا زیادہ افسوس آپ کو اس وقت ہوگا جب آپ ان کی تحریر ’لٹل ریڈ رائڈنگ ہُڈ گرل‘ پڑھیں گے۔ شاید آپ کو بھی لگے گا کہ ان کی موت ایک خاصے تخلیقی امکان کی موت ہے۔

’سیمرغ، ڈوڈو اور تزکِ جہانگیری‘ شہلا نقوی کی ایسی تحریر ہے جسے انھیں خود بھی پڑھنا چاہیے لیکن اس لیے نہیں کہ یہ ان کی تحریر ہے بلکہ اس لیے کہ کیا ایسی تحریر لکھنے والی کو فکشن لکھنے پر توجہ نہیں کرنی چاہیے۔

پریم چند کے بارے میں دو تحریریں ہیں۔ ’کون سا پریم چند؟ اور ’کفن: اردو اور ہندی متن کا فرق‘۔ یہ مضمون ہندی سے ترجمہ کیا گیا ہے اور پریم چند جیسے افسانہ نگار کے ساتھ مترجم یا متجموں کے ’سلوک‘ کی نشاندھی کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اردو کے دوسرے افسانے جو ہندی میں ترجمہ ہو رہے ہیں ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہوگا۔

حسبِ معمول دنیازاد کی یہ جلد بھی عمدہ شایع ہوئی ہے اور پروف ریڈنگ کی غلطیاں بھی خاصی کم ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔