تنقید کانیامنظرنامہ: متن، سیاق اور تناظر

آخری وقت اشاعت:  منگل 1 جنوری 2013 ,‭ 23:16 GMT 04:16 PST

نام کتاب: متن، سیاق اور تناظ

مصنف: ڈاکٹر ناصر عباس نیّر

صفحات: 295

قیمت: 450 روپے

ناشر پورب اکیڈمی، اسلام آباد

اردو تنقید میں بھی عمومی رجحانات وہی ہیں جو کم و بیش ہر زبان میں پائے جاتے ہیں۔ کم ہی ناقدین اُن مسائل پر لکھتے ہیں جنھیں سنجیدہ مسائل کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہو۔ زیادہ تر تنقید، نصابی اور رائج و مقبول کی تفہیمی مددگاری سے آگے نہیں جاتی، اسی میں بڑی بڑی دعویداریاں بھی کی جاتی ہیں جو ہر دس بیس سال بعد نہ صرف غائب ہو جاتی ہے بلکہ اپنے ساتھ دعویداروں اور ان کی شہادت دینے والوں کو بھی لے جاتی ہے۔

ایسی تنقید میں زیادہ توجہ انفرادی نوعیت کے کام کو دی جاتی ہے اور اس میں بھی زیادہ ترجیح شاعروں کو، اس کے بعد افسانہ و ناول نگاروں کو اور پھر تنقید۔ شاعری، فکشن اور تنقید کی تنقید میں بھی رجحانات کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر دیکھنے، سمجھنے، پرکھنے اور شکل دینے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔

میں نے اس سال تنقید کی جو کتابیں ابھی تک دیکھی ہیں ان میں مجھے ڈاکٹر ناصر عباس نیّر کے مضامین کا مجموعہ ’متن، سیاق اور تناظر‘ اس لیے بھی پسند آیا کے اس میں زیادہ تر مضامین فکری نوعیت کے ہیں، آپ انھیں تحقیقی نوعیت کے بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہ تحقیق بھی روایتی نوعیت یا ’۔ ۔ ۔ کی حیات و کارنامے‘ وغیرہ ٹائپ کی نہیں جو بالعموم کی جاتی ہے۔ کیونکہ راویتی تحقیق میں بھی زیادہ سہولت اس میں محسوس کی جاتی ہے کہ زمانہ ماضی کا اور بعید ہو۔

حال اور حال کے لوگوں اور کام پر بات کرتے ہوئے بالعموم بنے بنائے اصول اور سانچے کام نہیں آتے، اس لیے سہولت بھی میسر نہیں آتی۔

عباس نیّر کے ہاں بھی ایسے مضامین ہیں جنھیں انفرادی طور پر شخصیات کے بارے میں قرار دیا جا سکتا ہے جیسے ’نیّر مسعود کے افسانوں پر ایک نوٹ‘ یا جی ایم جی لی کلیزو کے بارے میں ’تناقصات کے جنگل میں‘ یا ’غالب ہمارا لا زمانی معاصر‘ یا ’صارفی معاشرت کے تناظر میں راشد کی شاعری کی معنویت‘ یا ’فیض اور مارکسی جمالیات‘ لیکن ایک تو یہ کہ ایسے مضامین کتاب میں شامل پندرہ مضامین میں نسبتًا کم تعداد میں ہیں پھر ان میں بھی تناظر کی وسعت روایتی نو کی شخصی نہیں ہے بلکہ رجحانی نوع کے وسیع تر جغرافیے میں لے جاتی ہے اور انھیں بھی اسی نوع کے علاقے سے ہم آہنگ کرتی ہے جو ’متن، سیاق اور تناظر‘، ’معنی کی کثرت‘، معاصر اردو تنقید اور ہم عصر اردو ادب‘ اور ’جدید اردو نظم کا تانیثی تناظر‘ کا ہے۔

ان تنقیدی مضامین کی ایک اور بات جو انھیں دوسری معاصر اردو تنقید سے الگ کرتی ہے ان کا ناقابلِ تلخیص ہونا ہے۔

’معنی کی کثرت‘ کے عنوان سے مضمون کی ابتدا یوں ہوتی ہے:

’معاصر اردو تنقید کے قضیوں میں سے معنی کی کثرت کا قضیہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قضیے میں اربابِ نقد کے ذہنوں کو جھنجوڑنے اور بعض تنقیدی مسلمات اور کلّیوں پر نظرِ ثانی کرنے کا اچھا خاصا سامان موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے سلسلے میں متنازع اور متضاد آرا نے جنم لیا ہے اور بعض حلقوں میں شدید نوعیت کی پریشانی، بےچینی اور تشویش کے آثار نظر آتے ہیں۔ یوں بھی معاصر اردو تنقید کو اس تشویش کی اشد ضرورت ہے کہ تشویش، تنقیدی ذہن کو اُس غنودگی سے نجات دلاتی ہے جو بعض تنقیدی تصورات کو حتمی اور اٹل تصور کر لینے کے نتیجے میں طاری ہو جاتی ہے اور نقاد کو نئے مبارزت طلب نظریات کے ضمن میں بے نیاز یا بے حس بنا دیتی ہے۔ ہمارے بیشتر معاصر نقاد اس غنودگی کی گرفت میں ہیں۔ یہ صورتِ حال اردو تنقید کے لیے بجائے خود تشویشناک ہے‘۔ یہ ابتدائیہ کیا عندیہ دیتا ہے؟

ناصر عباس نیّر

ناصر عباس نیّر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہیں۔

اس پورے مضمون کو جو محمد حسن عسکری، چارلس سینڈرس پائیرس، غالب، دریدا اور مجید امجد کی نظم ’بے نشاں‘ کی تعبیر سے ہوتا ہوا اس پر اختتام کرتا ہے کہ ’اس طور دیکھیں تو نظم میں استعاراتی متن کا ایک بہاؤ، ایک معنیاتی حرکت کو پیش کرتا ہے۔ یہ بہاؤ متن کے قراتی حربوں کے ذریعے منکشف ہوتا ہے اور اس بہاؤ میں جو معنیاتی سلسلے نمود کرتے ہیں، وہ اُس تناظر کے مرہونِ منت ہیں جس میں قرات کا عمل انجام دیا جا رہا ہے۔ تناظر کی تبدیلی سے نظم کے معنی بدل جائیں گے‘۔

مجھے اندازہ ہے کہ جو میں دکھانا اور بتانا چاہتا ہوں وہ محض ایک مختصر مثال سے ممکن نہیں، پورے مضمون کو سامنے رکھیں اور تلخیص کی ہنر مندی و صلاحیت آزمائیں تو مضمون کا وہ وصف و کلیّت کھلے گی جس میں ہر لفظ اپنے ہونے کی اہمیت پر اصرار کرتا ہے اور جس قدر کمی کی جائے گی اسی قدر تناظر سمٹے گا اور معنی بھی۔ یہ اسلوب محض اسی مضمون تک بس نہیں ہے۔

ناصر عباس نیّر اس سے پہلے دن ڈھل چکا تھا، 1993، جدیدیت سے پس جدیدیت تک 200، معمارِ ادب: نظیر صدیقی، مسز نظیر صدیقی 2003، جدید اور مابعد جدید تنقید: مغربی اور اردو تناظر میں 2004، مجید امجد: شخصیت اور فن 2008 اور لسانیات اور تنقید 2009 دے چکے ہیں اس کے علاوہ ان کی ایک کتاب ’مابعد نوآبادیات: اردو کے تناظر میں‘ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس سے شایع ہونے والی ہے۔

علاہ ازیں انھوں نے جو کتابیں ترتیب دی ہیں ان میں ’ساختیات: ایک تعارف 2004،
’مابعد جدیدیت: نظری مباحث‘ 2007، 1857 کی جنگ آزادی اور اردو زبان و ادب، بہ اشتراک، کلیہ علوم شرقیہ، پنجاب یونیورسٹی 2007، مابعد جدیدیت: اطلاقی جہات‘ اور آزاد صدی مقالات، بہ اشتراک تحسین فراقی، 2010، شامل ہیں۔ لیکن میری لاعلمی کا یہ عالم ہے کہ میں اِن میں سے ایک بھی کتاب نہیں دیکھ سکا۔

میں عباس نیّر کی اس کتاب ’متنئ سیاق اور تناظر، کو 2012 کی ان کتابوں میں سرفہرست رکھتا ہوں جو میں نے اس سال کے دوران پڑھی ہیں۔ آپ بھی پڑھ کر بہت ممکن ہے کہ میری اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ اس کتاب میں شامل مضامین کا مطالعہ نہ صرف لکھنے والوں کے لیے لازمی ہے بلکہ پڑھنے والوں کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔