دہلیز جموں و کشمیر، عمدہ اردو جریدہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 19:48 GMT 00:48 PST

نام کتاب: سہ ماہی، دہلیز- 2

مدیر ِ اعلیٰ: ڈاکٹر مغل فاروق

مدیر: پرواز زمرد مغل

صفحات: 328

قیمت: 100 روپے

ناشر: دہلیز پبلی کیشنز، وارڈ نمبر2، نزد آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن پونچھ، جموں کشمیر 185201

دہلیز کا زیر تبصرہ شمارہ کا 2012 پہلا شمارہ ہے۔ جیسا کہ اردو کے ادبی جرائد کی صورتِ حال پاکستان میں ہے، کم و بیش ہندوستان میں بھی ویسی ہی ہے۔ گذشتہ سال کے وسط میں موصول ہونے والے اس سہ ماہی جریدے کا غالبًا اس کے بعد سے کوئی شمارہ نہیں آ سکا۔ اس تاخیر یا عدم اشاعت کے اسباب کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم پاکستان میں اس کے اسباب مالی حالات، جرائد کی کم فروخت اور مطلوبہ تخلیقات کی کم دستیابی بھی ہوتے ہیں۔

اس شمارے کی ابتدا مدیر اعلیٰ کے تحریر کردہ اداریے سے ہوتی ہے جس میں انھوں نے تمام ادبی مسائل کا احاطہ کرنے اور اپنے اختلاف رائے کو کھل کر ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ کہیں کہیں ان کا لہجہ خاصا تلخ بھی ہے۔ پھر ان کے تصورات و نظریات بہت بحث طلب بھی ہیں۔

اداریے کے بعد ’دہلیز اسپیشل‘ ہے۔ جس میں دو مضمون ہیں، ایک عمران شاہد بھنڈر کا ’سارقوں کی ادبی مصالحتی مجلس‘ اور دوسرا زمرد مغل کا جو دفاعی نوعیت کا ہے اور دہلیز کے پہلے شمارے پر کی جانے والی تنقید کا ایسا جواب ہے جو خاصے اشتعال کا اظہار کرتا ہے۔

اس کے بعد ’گوشۂ منیر نیازی‘ ہے۔ جس میں مجید امجد کی ایک اہم تحریر ہے، سراج منیر، فتح محمد ملک، سہیل احمد، انتظار حسین، شمیم حنفی اور فرحت احساس کے مضامین ہیں اور منیر نیازی سے ایک گفتگو ہے جو محمد رفیق اور امجد رؤف نے کی ہے۔ اس گفتگو میں شریک لوگوں اور زمانے کے بارے میں کچھ تفصیل دے دی جاتی تو بہت اچھا ہوتا۔ اس کے باوجود یہ حصہ انتہائی اہم اور دلچسپ ہے۔

اس کے فورًا بعد شمس الرحمٰن فاروقی سے زمرد مغل کی گفتگو ہے جو کئی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

غزلوں کے حصے میں ظفر اقبال، فرحت احساس، خوشبیر سنگھ شاد، شارق کیفی اور نعمان شوق کا کلام ہے۔

تنقیدی مضامین کے نام قائم کیے گئے حصے میں شمس الرحمٰن فاروقی نے کرشن کمار طور کی دو کتابوں کا جائزہ لیا ہے،۔ ظفر اقبال کا مضمون ’میر کے تاج محل کا ملبہ‘ ہے۔ خالد جاوید کا مضمون ’آشرم ایک جمالیاتی تجزیہ‘ ہے۔ ’آشرم‘ شکیل الرحمٰن کی خود نوشت ہے۔ خالد علوی نے ’پاکستان کی غزل کے نئے رجحانات‘ کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے بعد خالد جاوید کا ایک اور مضمون ’کہانی، موت اور بدیسی زبان‘ ہے، اس کے بعد عمران شاہد بھنڈر کا مضمون ’لسانی ساختیات اور وزیرآغا کی طفلانہ تعبیریں‘ ہے۔ جب کہ خورشید اکرم کا مضمون ’نثری نظم: توقعات اور امکانات‘ کے بارے میں ہے۔

اس کے بعد نظم کا حصہ ہے جس میں ساقی فاروقی، عذرا عباس، تنویر انجم، شارق کیفی اور مغل فاروق پرواز کی نظمیں ہیں۔

دشمن بنانے کی جرات رکھیں

"سب سے بڑی گزارش یہ ہے کہ ’دہلیز‘ کو کشکول نہ بنایا جائے۔ یعنی ایسا نہ کریں کہ جو مل جائے چھاپ دیں اور ایسا نہ کریں کہ تعلقات کی بنا پر کمزور تخلیقات کو قبول کر لیں۔ دشمن بنانے کی جرات رکھیں تو پرچہ بہتر سے بہتر ہوگا"

شمس الرحمٰن فاروقی

افسانوں کے حصے میں صرف دو افسانے ہیں۔ ’سرکس کے ایک مسخرے کا اختتام‘ انور سِن رائے اور ’آشیاں‘ نور شاہ۔

اس کے بعد ساقی فاروقی کی آب بیتی بنام پاپ بیتی ہے جس کے اس حصے میں ساقی فاروقی کی ن م راشد سے خط و کتابت ہے، اس شمارے کا یہ حصہ بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس طرح راشد صاحب کی سوچ کے بہت سے نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔ ساقی صاحب کو راشد صاحب کے تمام خطوط اور ان سے ہونے والے تمام گفتگوئیں بھی شایع کرنی چاہیّں۔

اس کے بعد خطوط و آرا کا حصہ ہے جس میں سب سے اہم خط شمس الرحمٰن فاروقی کا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’سب سے بڑی گزارش یہ ہے کہ ’دہلیز‘ کو کشکول نہ بنایا جائے۔ یعنی ایسا نہ کریں کہ جو مل جائے چھاپ دیں اور ایسا نہ کریں کہ تعلقات کی بنا پر کمزور تخلیقات کو قبول کر لیں۔ دشمن بنانے کی جرات رکھیں تو پرچہ بہتر سے بہتر ہوگا‘۔

فاروقی صاحب کی اس رائے سے کسے اختلاف ہوگا لیکن صاف ظاہر ہے کہ جریدے میں شامل کچھ تحریریں انھیں پسند نہیں آئیں یا ان کے لکھنے والے انھیں پسند نہیں ہیں پھر بھی دشمن بنانے کی بات جو انھوں کی ہے اس کی وضاحت کر دیتے تو اچھا ہوتا۔ دشمن بنانے سے ان کی مراد غالبًا یہ ہے کہ جریدے کو مدیر کی پسند و ناپسند اور ذوق کا نمائندہ ہونا چاہیے، جسے وہ ادب اور اچھا سمجھے اسے ہی شایع کرے، جریدے کو بہت سے جریدوں کی طرح پرچون کی دکان نہیں ہونا چاہیے جیسے اکثر رسالے اور کتابی سلسلے ہیں۔ اسی سے جریدے کی انفرادیت حاصل ہو گی اور اس کا حلقۂ احباب بھی پیدا ہوگا۔ لیکن محض مخالفین پیدا کرنے کے لیے تو اختلاف بھی نہیں کرنا چاہیے اور اختلاف کی زبان کو بھی ادبی ہی ہونا چاہیے۔

دہلیز2 پروف ریڈنگ میں توجہ چاہتا ہے اور اس میں انکسار کی بھی کمی محسوس ہوتی ہے۔ حالانکہ انکسار بری چیز نہیں ہے۔ عمدہ شایع ہوا ہے اور اگر کسی رسالے میں پڑھنے کے لیے اتنا کچھ تو اسے عمدہ ہی کہا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔