’دلّی ریپ جیسے واقعات کیلیے فلمیں ذمہ دار نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 2 جنوری 2013 ,‭ 07:23 GMT 12:23 PST

’اگر ایک آواز اٹھانی ہے تو ہم اٹھا سکتے ہیں لیکن اگر واقعی تبدیلی لانی ہے تو وہ قانون میں لانی ہوگی‘

دبنگ 2 کی ہیروئن سوناكشي سنہا جہاں ایک طرف اپنی فلم کی کامیابی سے خوش ہیں تو دوسری طرف بھارت میں بڑھتے جرائم کے لیے بالی وڈ کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بات پر ناراض بھی ہیں۔

گزشتہ دنوں دلی میں اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد فلموں میں تشدد اور جنس کے مسلسل بڑھنے والے رجحانات پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

ممبئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سوناکشی نے کہا ’اس حادثے کے بعد انٹرٹینمنٹ انڈسٹری پر انگلی اٹھانا صحیح بات نہیں ہے۔ ایسے جرم برسوں سے ہوتے آ رہے ہیں بلکہ کئی فلموں کے بعد ایسے حادثے نہیں بھی ہوئے ہیں۔ یہ حادثہ ایک شخص کی غلط پرورش کا نتیجہ ہے، بس اور کچھ نہیں۔‘

اس حادثے کے بعد بالی وڈ کے کئی فنکاروں کی طرف سے ممبئی میں کینڈل لائٹ مارچ کیا گیا جس کے بارے میں سوناكشي کہتی ہیں ’اگر ایک آواز اٹھانی ہے تو ہم اٹھا سکتے ہیں لیکن اگر واقعی تبدیلی لانی ہے تو وہ قانون میں لانی ہوگی۔ سڑک پر مارچ کرنے سے کچھ خاص حاصل نہیں ہو گا۔‘

سوناكشي کا کہنا تھا کہ ’مجھے بھی اس مارچ میں بلایا گیا تھا۔ پر پھر میں سوچ میں پڑ جاتی ہوں کہ یہ سب کرنے کے بعد کتنے لوگ ہیں جو پارٹی میں نہیں جائیں گے، نیا سال نہیں منائیں گے؟‘

دلی میں زیادتی کے اس واقعے کے بعد فلم انڈسٹری میں نئے سال کا جشن بھی کم ہوا جس پر سوناكشي کہتی ہیں ’مجھے اچھا نہیں لگا۔ اس لیے میں نے نیا سال نہیں منایا۔ اگر کوئی مناتا ہے تو آپ اسے روک نہیں سکتے۔ یہ تو اخلاقی اقدار کی بات ہے۔ دل نہیں مان رہا ہے تو مت منائیں۔‘

خیال رہے کہ سوناكشي کے علاوہ بالی ووڈ کی کئی دیگر شخصیات نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قانون میں سخت تبدیلی لانے کی بات کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔