’سونم کچھ اور ہی کر لیتی تو اچھا تھا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 09:16 GMT 14:16 PST

اس(سونم) کی پہلی فلم فلاپ تھی جو کہ اچھا ہی رہا: انیل کپور

بھارتی اداکار انیل کپور بالی وڈ کے کامیاب فنکاروں میں سے ایک ہیں لیکن وہ اپنی بیٹی سونم کپور کے فلموں میں آنے کے ارادے سے زیادہ خوش نہیں تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انیل کپور کا کہنا تھا کہ فلمی ہستیوں کے بچے خود ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے ’لیکن ایک باپ ہونے کے ناطے دل کہتا ہے کہ کچھ اور کر لیتے تو ہی اچھا ہوتا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہاں کیا ہے؟ کامیابی اور شکست سب کچھ عوام طے کرتی ہے۔ دوسرے شعبے میں کامیاب ہو یا نہیں کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ اس کام میں بہت خطرات لاحق ہیں۔ پر اب جب بچوں نے طے کر لیا ہے تو ٹھیک ہے۔‘

اپنی بیٹی سونم کپور کی پہلی فلم ’سانوريا‘ کی بات کرتے ہوئے انیل نے کہا کہ ’اسے دوسروں کی طرح چیزیں پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملیں۔ اس کی پہلی فلم فلاپ تھی جو کہ اچھا ہی رہا۔ پہلی فلم کے ہٹ ہونے سے آپ آگے بڑھنا بند کر دیتے ہیں۔‘

سونم کپور نے ’سانوریا‘ کے ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالي کے ساتھ بطور معاون بھی کام کیا ہے۔ اس بارے میں انیل کا کہنا ہے کہ’سنجے کا معاون ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ وہ ایک سخت ٹاسک ماسٹر ہے اور سونم نے اس کے ساتھ کام کیا یہ بڑی بات ہے۔‘

سونم کی آنے والی فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انیل نے بتایا کہ وہ ’بھاگ ملکھا بھاگ‘ میں کام کر رہی ہیں جس میں اس کا مرکزی کردار بھی نہیں ہے۔’مگر اس کے باوجود وہ چاہتی تھی کہ وہ اس فلم کا حصہ بنے کیونکہ وہ اچھی فلم سے جڑنا چاہتی ہے۔‘

انیل نے یہ بھی کہا سونم اپنی فلم رانجھنا میں تامل ہیرو دھنش کے ساتھ نظر آئے گی۔’ کوئی دوسری ہیروئن ہوتی تو منع کر دیتی کہ بھئی ہمیں تو بس شاہ رخ یا عامر خان کے ساتھ کام کرنا ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔