’زیرو ڈارک تھرٹی‘ تحقیقات کی زد میں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 05:55 GMT 10:55 PST

اس فلم میں اسامہ بن لادن کی روپوشی سے ان کی دو ہزار گیارہ میں ہلاکت تک کے عرصے کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے آپریشن پر مبنی ہالی وڈ فلم زیرو ڈارک تھرٹی بنانے والوں کے درمیان رابطوں کے بارے میں مزید تفصیلات بتائی جائیں۔

آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایتکارہ کیتھرین بِگلو نے اسامہ بن لادن کی روپوشی سے ان کی دو ہزار گیارہ میں ہلاکت تک کے عرصے کو ڈرامائی انداز میں فلم زیرو ڈارک تھرٹی میں پیش کیا ہے۔

اس فلم کا نام ایک فوجی اصطلاح ہے جسے رات کے نصف کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ وہی وقت ہے جب اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی بحریہ کے سیلز نے حملہ کیا تھا۔

تین امریکی سینیٹرز نے سی آئی کے قائم مقام ڈائریکٹر مائیکل موریل کو خط لکھ کر خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے کہ سی آئی اے نے فلمسازوں کو غلط معلومات فراہم کی ہوں۔

اس فلم کو چار گولڈن گلوب ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ آسکر ایوارڈ کے لیے بھی نامزد ہوگی۔

امریکی صدر براک اوباما کے دوسری مدت کے لیے انتخاب سے پہلے اس فلم پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ الیکشن میں اوباما کی مدد کے لیے بنائی گئی تھی۔

اسی وجہ سے اس فلم کی امریکہ میں ریلیز کو مؤخر کر دیا گیا تھا اور اب یہ گیارہ جنوری کو عام نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

اس فلم کی ہدایتکارہ کیتھرین بِگلو ہیں جنہوں نے دو ہزار دس میں اپنی فلم ہرٹ لاکر پر آسکر ایوارڈ حاصل کیا تھا۔

امریکی سینیٹرز نے اس خط میں مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ان تمام دستاویزات کی نقول دی جائیں جو فلمسازوں کو سی آئی اے نے فراہم کی ہیں۔

اس خط کے لکھنے والے سینیٹرز ڈائین فینسٹن، کارل لیوِن اور سابق امریکی صدارتی امیدوار جان مکین ہیں جنہوں نے اس خط میں خدشات ظاہر کیے ہیں کہ اس فلم سے لوگوں میں سی آئی اے کی جانب سے تشدد کے ذریعے معلومات کے حصول کے بارے میں غلط تاثر جائے گا۔

اس خط میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ بات جانتے ہوئے کہ سی آئی اے نے فلمسازوں کے ساتھ اس فلم کے لیے تعاون کیا ہے اور یہ کہ اس فلم کی کہانی ماضی میں سی آئی اے کے مختلف اعلیٰ افسران کی جانب سے کی گئی غلط بیانیوں سے مطابقت رکھتی ہے تو شاید سی آئی اے نے اس معاملے میں فلمسازوں کو ان معلومات کے ذریعے غلط رہنمائی کی ہے۔‘

اس خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ فلم کی کہانی سرکاری بیانات سے مطابقت نہیں رکھتی جیسا کہ سی آئی اے اسامہ بن لادن کے بارے میں ان کے ایک پیغام رساں کارندے سے جاننے میں ناکام رہی جن پر ’جابرانہ تشدد کے طریقے‘ استعمال کیے گئے تھے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سینیٹ ہی کے ایک اور جائزے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس پیغام رساں کارندے کے بارے میں بالکل صحیح معلومات سی آئی اے کے ایک اور قیدی سے بغیر تشدد کے پہلے ہی حاصل کی جا چکی تھیں۔

اس فلم کا نام ایک فوجی اصطلاح ہے جسے رات کے نصف کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے جس وقت اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی بحریہ کے سیلز نے حملہ کیا گیا تھا۔

انہی تین سینیٹرز نے سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ کپمنی کے سربراہ کو بھی کرسمس سے پہلے خط لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ فلم درست معلومات پر مبنی نہیں ہے۔

سینیٹرز کا دعویٰ ہے کہ زیرو ڈارک تھرٹی ’واضح طور پر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سی آئی اے کی جانب سے اسامہ بن لادن کے ایک پیغام رساں کارندے کے بارے میں معلومات اخذ کرنے کے لیے جابرانہ تشدد کے طریق کا استعمال بہت موثر تھا جو بالاخر ایجنسی کو اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ تک لے گیا تھا۔‘

ہدایتکارہ کیتھرین بِگلو اور منظر نگار مارک بوال جنہوں نے دو ہزار دس میں فلم ہرٹ لاکر پر آسکر ایوارڈز حاصل کیے تھے کہا ہے کہ ’فلم بہت مختلف نوعیت کے معلومات اخذ کرنے کے طریقے دکھاتی ہے۔‘

ان دونوں نے کہا کہ ’فلم یہ دکھاتی ہے کہ کوئی ایک طریقہ ایسا نہیں تھا جس سے اس تلاش میں فائدہ ہوا ہو نہ ہی ایسا کوئی سین پوری فلم کے انداز کا مظہر ہے۔‘

ہالی وڈ رپورٹر نامی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ سینیٹ کی کمیٹی ان دستاویزات کا جائزہ لے رہی ہے جن میں سی آئی اے کے افسروں اور فلمسازوں کے دمیان بات چیت کا ریکارڈ ہے۔

اب یہ فلم گیارہ جنوری کو امریکہ میں اور پچیس جنوری کو برطانیہ میں نمائش میں پیش کی جائے گی اور بہت حد تک ممکن ہے یہ آسکر ایوارڈ حاصل کر لے۔

اسی طرح خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیا سی آئی اے کے اہلکار اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ فلم میں تشدد کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کو مؤثر طریقہ دکھایا گیا ہے۔

امریکہ میں اس فلم کی تقسیم کار کمپنی سونی پکچرز نے ہالی وڈ رپورٹر کو بتایا کہ ’ہم جو اس فلم کو امریکہ میں تقسیم کر رہے ہیں اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ یہ ایک بہت اہم فلم ہے۔ کیتھرین بِگلو، مارک بوال اور ان کی ٹیم نے ایک بہترین فلم بنائی ہے اور ہم اس بات کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ اس زبردست کہانی کو سینما کی سکرین پر دکھایا جائے۔‘

اب یہ فلم گیارہ جنوری کو امریکہ میں اور پچیس جنوری کو برطانیہ میں نمائش میں پیش کی جائے گی اور بہت حد تک ممکن ہے یہ آسکر ایوارڈ حاصل کر لے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔