سرخ ایما کی خودنوشت اردو میں

آخری وقت اشاعت:  منگل 22 جنوری 2013 ,‭ 17:19 GMT 22:19 PST
سرخ رو

نام کتاب: سرخ رو

مصنف: ایما گولڈ مین

مترجم: محمد مظاہر

صفحات: 752

قیمت: 1200 روپے

ناشر: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید سکوائر، اردو بازار، کراچی

ایما گولڈ مین کون تھیں؟ انھیں باغی اور انارکسٹ کیوں سمجھا جاتا تھا؟ ان دو بنیادی سوالوں کا مختصر اور سیدھا سا جواب یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ایک تھیں جو غیر روایتی ہوتے ہیں۔ روایتی لوگ مصلحت کوش ہوتے ہیں، اس لیے انھیں ہی عقل مند سمجھا جاتا ہے کیوں کہ وہ نفع اور نقصان کی اصطلاحوں میں سوچتے اور سمجھتے ہیں۔

وہ بنے بنائے سانچوں میں رہنا چاہتے، نئے پن، تبدیلی اور اقدار کو چیلنج کرنا ان کے عقائد کے خلاف ہوتا ہے۔اسی لیے وہ ریاست اور اس کے بنائے ہوئے نظام اور طریقوں اور عقیدوں اور عقیدے بن جانے والے تصورات کے خلاف جانا تو کیا جانے کے خلاف جانے کی سوچنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ لیکن ایما گولڈمین کوکھ پر عورت کے اختیار کی کٹر حامی تھیں، یہ معاملہ تو اب تک بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہوتا ایما نے تو یہ معاملے لگ بھگ سوا سو سال پہلے اٹھایا تھا۔

وہ جس بات کو درست سمجھتی تھیں اسے کہتی تھیں اور اس کے لیے کسی پابندی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں اور اسی لیے عورتوں اور مردوں کو برابر سمجھتی تھیں اور یہ باتیں کرنے والی اظہار کی آزادی کی تو یقینًا حامی ہو گی۔

وہ 1867 میں روس کے اس حصے میں پیدا ہوئی جو اب لیتھونیا کہلاتا ہے۔ پھر جب کوننگ برگ اور پیٹرس برگ گئیں تو یونیورسٹی کے انقلابیوں میں شامل ہو گئیں۔ یہاں سے وہ رشتے کی ایک بہن کے ساتھ نیویارک منتقل ہوئیں جہاں انھیں انارکسٹ تصورات کا حصہ بننے کا موقع ملا اور جلد ہی وہ امریکی انقلابیوں کے سرِفہرست لوگوں میں شمار ہونے لگیں۔

یہیں سے انارکزم پر ان کے لیکچرز اور لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ وہ صرف بنیادی سماجی تبدیلیوں کی حامی نہیں بلکہ وہ روایتی ڈرامے کے برخلاف نئے ڈرامے کی بھی حامی تھیں اور ابسن، سٹرینبرگ برنارڈ شا اور ان جیسے دوسرے ڈرامہ نگاروں کی بھی وکیل تھیں۔

اس کے علاوہ انھوں نے بےروزگاروں کو مشورہ دیا کہ اگر ان کی بات نہیں سنی جاتی تو وہ روٹی چھین لیں۔ وہ اپنے لیکچروں میں پیدائش پر اختیار کے بارے میں معلومات دیتی تھیں اور مزید یہ کہ فوجی بھرتیوں کی بھی مخالف تھیں۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ انھیں اور ان کے قریبی ساتھی الیگزنڈر برکمان (ساشا) کو سازش کا مجرم قراردے کر قید اور دس ہزار کے جرمانے کی سزا دی گئی۔

اس کے دو سال بعد ایما اور ساشا اپنے دو سو سینتالیں ساتھیوں کے ساتھ روس منتقل ہو گئے لیکن وہاں جا کر انھیں اندازہ ہوا وہاں بھی اظہار کی آزادی اور اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں بھی انھیں جبری خاموشی اختیار کرنی پڑی۔

اب وہ برطانیہ آ گئیں۔ انھوں نے روس میں گزارے ہوئے اکیس ماہ کے بارے میں جو یادداشتیں لکھیں انھوں نے نہ صرف ایک تہلکہ مچا دیا بلکہ بہت سارے عقیدہ پرست سوشلسٹوں کو بھی ان سے ناراض کر دیا۔ برطانیہ میں رہتے ہوئے انھوں نے کئی ملکوں کے دورے کیے اور لیکچر دیے۔

وہ کیسی سچی عورت تھی

" کا کہنا ہے ’اس کی زندگی میں مرد آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اس نے عشق کیے، محبتیں کیں لیکن یہ والہانہ عشق کبھی اس کے عشق ِ بشر پر حاوی نہ ہو سکے۔ دوست داری، دل داری اور نظریاتی رفاقت کا رشتہ صرف ساشا سے رہا۔ ساشا نے چودہ سال جیل میں گزارے تو وہ اس کا انتظار کرتی رہی، ساشا نفس اور جنس کے الجھاوں کا شکار ہوا تو وہ اس کے زخموں پر مرہم رکھتی رہی، اس کی بے اعتنائیوں سے زخمی ہوتی رہی، شکوہ کیے بغیر اس کے ناز اٹھاتی رہی۔ وہ کیسی سچی عورت تھی کہ اس نے اپنے کسی تعلق کو نہیں چھپایا اور اس کے حسن اور خوبصورتی کو بلا کم و کاست لکھا"

زاہدہ حنا

امریکہ کی شہریت کی منسوخی کے بعد زندگی میں وہ صرف ایک بار انتہائی مختصر وقت کے لیے امریکہ گئیں۔ ان کا انتقال 1940 میں کینیڈا میں ہوا جس کے بعد ان کی تدفین شکاگو کی مشہور ’ہے مارکیٹ‘ (Haymarket) کے قریب اور وہاں سپردِ خاک انارکسٹوں کے درمیان ہوئی۔

یہ اس ایما گولڈ مان کی زندگی کا مختصر سا، نامکمل سا اور بہت ساری ضروری تفصیلات سے خالی خاکہ ہے جسے امریکی اخبار سرخ ایما کے نام سے یاد کرتے تھے۔ وہ سرخ ایما جو سرخ روس کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں تھی۔

اس ترجمہ کے لیے اردو کی معروف کالم اور افسانہ نگار زاہدہ حنا نے پونے پانچ صفحے کا انتہائی مناسب پیش لفظ لکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’اس نے ایک ایسی زندگی گزاری جس میں اس کا ایک قدم جیل کے اندر اور ایک باہر رہتا تھا۔ کسی تقریر کے بعد جب اسے اپنی گرفتاری کا یقین ہو جاتا تھا تو وہ اپنے بیگ میں کپڑوں کے دو جوڑوں کی بجائے کتاب رکھتی کہ اگر رات حوالات میں گزارنی پڑے تو وہ اسے پڑھنے میں گزار دے۔ ساری عمر وہ سفر میں ایک شہر سے دوسرے شہر ایک ملک سے دوسرے ملک اپنی تقریروں سے آگ لگاتی۔

امریکہ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک انقلابیوں کے دلوں کو گرماتی۔ محکمۂ خفیہ کے کارندوں کی ناک نیچے وہ بھیس بدل کر سٹیج پر پہنچ جاتی اور تمام پابندیوں کی دھجیاں اڑاتی۔ امریکہ، روس، ہالینڈ، انگلیڈ، فرانس اور ہسپانیہ وہ جہاں بھی گئی وہاں لوگوں کو جھنجھوڑتی رہی۔ انھیں یاد دلاتی رہی کہ زندگی اپنے اندر تما خابصورتیوں کے امکانات رکھتی ہے لیکن رب سرمایہ نے وہ تمام امکانات ان سے چھیں لیے ہیں‘۔

زاہدہ حنا کا کہنا ہے ’اس کی زندگی میں مرد آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اس نے عشق کیے، محبتیں کیں لیکن یہ والہانہ عشق کبھی اس کے عشق ِ بشر پر حاوی نہ ہو سکے۔ دوست داری، دل داری اور نظریاتی رفاقت کا رشتہ صرف ساشا سے رہا۔ ساشا نے چودہ سال جیل میں گزارے تو وہ اس کا انتظار کرتی رہی، ساشا نفس اور جنس کے الجھاوں کا شکار ہوا تو وہ اس کے زخموں پر مرہم رکھتی رہی، اس کی بے اعتنائیوں سے زخمی ہوتی رہی، شکوہ کیے بغیر اس کے ناز اٹھاتی رہی۔ وہ کیسی سچی عورت تھی کے اس نے اپنے کسی تعلق کو نہیں چھپایا اور اس کے حسن اور خوبصورتی کو بلا کم و کاست لکھا‘۔

یہ تمام باتیں ’سرخ رو‘ کو پڑھنے کے لیے لازمی بناتی ہیں پھر محمد مظاہر کا ترجمہ اتنا رواں ہے کہ اس پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔

لیکن ایک انتہائی اہم بات تو رہ ہی گئی۔ ایما نے شادیاں کیں لیکن کوئی بچہ پیدا نہیں کیا، کیوں؟ اس لیے کہ وہ سمجھتی تھیں عورت کی کوکھ پر اختیار عورت کو ہونا چاہیے مرد کو نہیں۔

ایما نے جب ’مدر ارتھ‘ نامی جریدہ نکالا تو اسے اپنی اولاد سمجھا اور اس کی تعریفوں پر وہی خوشی محسوس کی جو عورت کو اپنی اولاد کی تعریف پر محسوس ہوتی ہے۔ اپنی بیٹیوں کو ایک آزاد انسان بنانے کے خواہش مند والدین کو یہ کتاب اپنی بیٹیوں کو ضرور پڑھانی چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔