خواتین کو ہالی وڈ میں مشکلات کا سامنا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 23 جنوری 2013 ,‭ 05:45 GMT 10:45 PST

ہالی وڈ میں ایک جائزے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دو ہزار بارہ میں کمائی کے حساب سے بہترین دو سو پچاس فلموں میں سے صرف نو فیصد کی ہدایتکار خواتین تھیں۔

سنیٹر فار دی سٹڈی آف ویمن ان ٹیلی وژن اینڈ فلم کی جانب سے لیے گئے جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اتنی کم تعداد ہونے کے باوجود یہ دو ہزار گیارہ کی نسبت چار فیصد اضافہ ہے۔

اس تحقیق میں پتا چلایا گیا ہے کہ ہالی وڈ کے تمام ہدایتکاروں، فلمسازوں، مصنفوں، کیمرہ پر کام کرنے والوں اور ایڈیٹرز میں سے صرف اٹھارہ فیصد خواتین ہیں۔

اس تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ خواتین دستاویزی فلموں، ڈراموں، کارٹون فلموں یا اینیمیشن فلموں میں زیادہ کام کرتی ہیں۔

یہ سینٹر گزشتہ ایک دہائی سے ہالی وڈ کی صنعت میں مختلف رجحانات پر نظر رکھتا آیا ہے۔

خواتین فلمسازوں کی تعداد گزشتہ دو سال سے پچیس فیصد پر جمی ہے جبکہ خواتین مصنفوں کی نسبت اضافے کے ساتھ پندرہ فیصد ہوئی ہے جو کہ دو ہزار چھ میں دس فیصد تھی۔

خواتین ایڈیٹرز کی نسبت انیس سو اٹھانوے سے دو ہزار بارہ کے درمیان بیس فیصد سے اکیس فیصد کے درمیان ہی رہی ہے۔

کیمرے پر کام کرنے والوں یا سنیماٹوگرافرز کی نسبت دو اور چار کے درمیان بدلتی رہی ہے مگر دو ہزار بارہ میں یہ اعداد و شمار دو فیصد کے قریب رہے ہیں۔

میرا نائر نے بھی آزاد فلموں کی ہدایتکاری سے آغاز کیا جس کے بعد انہیں ہالی وڈ میں کامیابی ملی

اس سال کے اکیڈمی ایوارڈز یا آسکرز میں صرف ایک فلم نامزد ہوئی ہے جس کی ہدایتکار ایک خاتون ہیں جو کہ ہدایتکارہ کیتھرین بیگلو کی فلم زیرو ڈارک تھرٹی ہے۔

سنڈینس انسٹیٹیوٹ کے ایک علیحدہ جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین آزاد فلموں میں زیادہ تعداد میں کام کر رہی ہیں۔

پچھلی ایک دہائی میں سنڈینس فلم فیسٹیول میں دکھائی جانے والی فلموں پر اگر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آٹھ سو بیس فلموں اور دستاویزی فلموں میں سے تقریباً تیس فیصد خواتین کی بنائی ہوئی تھیں جس کے حساب سے یہ تعداد تقریباً گیارہ ہزار بنتی ہیں۔

اس جائزے کی ڈائریکٹر سٹیسی سمتھ کے مطابق ’خواتین روایتی فلموں کی نسبت دستاویزی فلموں میں زیادہ تعداد میں کام کر رہی ہیں کیونکہ جونہی معاشیات کا عنصر بڑھتا ہے خواتین اس دوڑ سے باہر ہو جاتی ہیں۔‘

اس جائزے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خواتین جب کسی فلم کی ہدایات دیتی ہیں تو وہ مردوں کی نسبت زیادہ تعداد میں خواتین کو کیمرے کے پیچھے کام کے لیے جگہ دیتی ہیں۔

گزشتہ سال کانز فلم فیسٹیول کے منتظمین پر تنقید کی گئی تھی جب انہوں نے ایک فلم ’پام ڈی اور‘ کو بہترین فلم کے اعزاز کے لیے منتخب کیا جس کے تمام ہدایتکار مرد تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔