انتظار حسین بُکر انٹرنیشنل ایوارڈ کے لیے نامزد

آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 جنوری 2013 ,‭ 17:08 GMT 22:08 PST

انتظار حسین کا ایک ناول اور افسانوں کے چار مجموعے انگریزی میں شائع ہو چکے ہیں

اردو افسانے اور ناول کے معروف مصنف انتظار حسین کو برطانوی انعام ’مین بُکر انٹرنیشنل‘ کے لیے دس بہترین فکشن لکھنے والوں میں منتخب کیا گیا ہے۔

یہ انعام مین گروپ کی جانب سے دیا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اس کا نام بھی مین بُکر ہے۔

ہر دوسرے سال دیے جانے والے عالمی بکر کے پانچویں انعام کے لیے بنائی جانے والی طویل فہرست میں دنیا بھر سے ناول اور کہانیاں لکھنے والے ڈیڑھ سو سے زیادہ ادیب چنے گئے تھے جن میں سے سات زبانوں میں لکھنے والے دس مصنفوں کو منتخب کیا گیا ہے۔

یہ منتخب ادیب انگریزی کے علاوہ اردو، کنٹر، عبرانی، چینی، فرانسیسی اور روسی زبانوں میں لکھتے ہیں۔ ان دس ادیبوں میں تین خواتین ہیں جن میں دو امریکی ہیں۔

منتخب ہونے والے اِن دس ادیبوں کا تعلق نو ملکوں سے ہے جن میں پاکستان، ہندوستان، اسرائیل، چین، فرانس، کینیڈا، روس اور سویٹزرلینڈ سے ایک ایک اور دو امریکہ سے ہیں۔ ہر سال دیے جانے والے مین بکر کے برخلاف یہ انعام ادیب کو اس کے مجموعی کام پر دیا جاتا ہے۔

اب تک انتظار حسین کے افسانوں کے آٹھ مجموعے، چار ناول، آپ بیتی کی دو جلدیں، ایک ناولٹ شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے تراجم بھی کیے ہیں اور سفر نامے بھی لکھے۔ ان کے اردو کالم بھی کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں اور وہ انگریزی میں بھی کالم لکھتے ہیں۔

انتظار حسین 1923 میں ہندوستان کے ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔پنجاب یونیورسٹی سے اردو اور پھر انگریزی میں ایم اے کیا اور صحافت سے وابستہ ہو گئے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’گلی کوچے‘ 1953 میں شائع ہوا۔

انتظار حسین کا ایک ناول اور افسانوں کے چار مجموعے انگریزی میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے ناول ‘بستی‘ کا ترجمہ فرانسس پریچٹ نے اور کہانیوں کے ترجمے محمد عمر میمن اور الوک بھلا نے کیے ہیں۔

قدیم کے جدید اور جدید کے قدیم

انتظار حسین نہ تو جدید یا نئے سمجھے جاتے ہیں اور نہ ہی روایتی اور پرانے انداز کے۔ ان کی کہانیوں کے انداز کو بیان کرنے کے لیے یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ قدیم کے جدید اور جدید کے قدیم معنی پیدا کرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے انھیں یقین سا ہے کہ جو ہو رہا تھا، وہی ہو رہا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ جیسے وقت خود کو نئی نئی شکل میں دہرا رہا ہو۔

انتظار حسین نہ تو جدید یا نئے سمجھے جاتے ہیں اور نہ ہی روایتی اور پرانے انداز کے۔ ان کی کہانیوں کے انداز کو بیان کرنے کے لیے یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ قدیم کے جدید اور جدید کے قدیم معنی پیدا کرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے انھیں یقین سا ہے کہ جو ہو رہا تھا، وہی ہو رہا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ جیسے وقت خود کو نئی نئی شکل میں دہرا رہا ہو۔

ہندوستان سے منتخب ہونے والے یو۔آر۔آ ننتھ مورتی کنڑ میں لکھتے ہیں۔ انھیں بھارتی اعزاز پدم بھوشن سمیت پانچ اہم اعزاز حاصل ہو چکے ہیں۔ اب تک ان کی کہانیوں کے آٹھ مجموعے، پانچ ناول، ایک ڈرامہ، شاعری کے تین مجموعے، تنقید اور دوسرے مضامین کے آٹھ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے پانچ فلموں کے لیے بھی لکھا ہے۔

وہ کنڑ میں ’ناویا‘ یا نئی تحریک کے سب سے نمایاں لکھنے والے تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کا بیش تر کام بھارتی اور انگریزی سمیت کئی یورپی زبانوں میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔

ان کا ’سامسکار، نامی ناول 1966 میں شائع ہوا اور اسے ان کا سب سے بہترین ناول سمجھا جاتا ہے۔ ان کا ایک ناول بھارتیپور 2011 کے ہندو ادبی انعام کے لیے اور گزشتہ سال جنوبی ایشیائی ادبی انعام کے لیے شارٹ لسٹ ہو چکا ہے۔

دیگر منتخب مصنفین میں اسرائیل کے اسّی سالہ اہرون ایپل فیلڈ عبرانی میں لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی سترہ کتابیں شائع ہو چکی جن میں سولہ کا انگریزی اور دوسری زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

ہندوستان سے منتخب ہونے والے یو۔آر۔آ ننتھ مورتی کنڑ میں لکھتے ہیں

چینی مصنف یان لی آنکے 1958 کو چین میں پیدا ہوئے۔ ان کی تحریر انتہائی طنزیہ ہوتی ہے۔ ان کے اس اعتراف کے باوجود کے وہ سیلف سینسر شپ کرتے ہیں ان کے کئی ناولوں پر چین میں پابندی ہے۔ ان کے مشہور ناولوں میں ’ٹو سرو دی پیپل‘، ’ڈریم آف ڈنگ ولیج‘ اور ’انجوائے منٹ! شامل ہیں۔

جوزف نوواکووچ اب کینیڈا میں رہتے ہیں وہ 1956 کے یوگوسلاویہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا ایک ناول ’اپرل فوک ڈے‘ کہانیوں کے تین مجموعے، مضامین کے چار مجموعے فکشن کے بارے دو نصابی کتابیں اور سو سے زائد کہانیاں شائع ہو چکی ہیں۔ انھیں کئی انعامات مل چکے ہیں اور تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

اٹھاون سالہ ویلاد یمیر سوروکن روسی زبان کے جدیدیت پسند مصنف ہیں۔ ان کا پہلا ناول ’قطار‘ 1985 میں فرانس میں شائع ہوا۔ جب کہ سوویت یونین میں ان کا پہلا ناول 1989 میں چھپا۔ 2002 میں ان کی کتاب ’بلیو بیکن فیٹ‘ پر فحاشی کا الزام لگا اور مظاہرے ہوئے۔ ان کے اب تک تیرہ ناول شائع ہو چکے جن کے انگریزی سمیت دنیا کی بہت سی زبانوں میں ترجمے ہوئے ہیں اس کے علاوہ انھوں نے دس ڈرامے، سات فلم سکرپٹ اور متعدد کہانیاں لکھی ہیں۔

امریکہ ہی کی میریلین روبنسن ان منتخب ادیبوں میں واحد ہیں جو 2011 میں بھی بکر انٹرنیشنل کے لیے شارٹ لسٹ ہونے والے ادیبوں میں شامل تھیں۔ وہ اس سے پہلے اورنج پرائز اور نیشنل بک کریٹک سرکل ایوارڈ کئی انعامات حاصل کر چکی ہیں۔ ان کے اب تین ناول اور نان فکشن پر مشتمل چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔

لیڈیا ڈیوس بھی امریکی مصنفہ ہیں وہ 1947 میں پیدا ہوئیں اب تک ان کی کہانیوں کے چار مجوعے شائع ہو چکے۔ لیکن اپنی کہانیوں کی نسبت وہ فرانسیسی سے انگریزی میں کیے جانے والے مارسل پروست کے ناول سوان وے اور فلابیئر کے مشہور ناول مادام بواری کے حوالے سے معروف ہیں۔ وہ مختصر بلکہ مختصر ترین کہانیاں لکھنے میں شہرت رکھتی ہیں۔

فرانس کی مارئی این ڈیایی عالمی مین بکر کے فائنلسٹوں میں سب سے کم عمر اور پینتالیس کی ہیں۔ ان کا پہلا ناول سترہ سال کی عمر میں شائع ہوا اور انعام کا حق دار تصور کیا گیا۔ حال ہی میں ان کا مقبول ناول ’تین مضبوط عورتیں‘ انگریزی میں ترجمہ ہوا ہے۔

نتائج کا اعلان

نتائج کا اعلان بائیس مئی کو لندن میں کیا جائے گا اور جیتنے والے ادیب کو ساٹھ ہزار پاؤنڈ اور مترجم کو پندرہ ہزار پاؤنڈ دیے جائیں گے۔

گذشتہ سال وہ فرانس کا سب سے زیادہ قابلِ احترام تصور کیا جانے والا ادبی انعام حاصل کر چکی ہیں۔

فرانسیسی میں اب تک ان کے فکشن کی گیارہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں انھوں نے چار ڈرامے اور کئی فلموں کے علاوہ بچوں کے لیے بھی تین ناول لکھے ہیں۔ تنقیدی مضامین کا ایک مجموعہ اس کے علاوہ ہے۔

پیٹر سلایم 1963 میں سویٹزر لینڈ میں پیدا ہوئے۔ ان کے پانچ ناول اور کہانیوں کے دو مجموعے ترجمہ ہو چکے ہیں اور اتنے ہی ترجمے کے انتظار میں ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے پانچ سٹیج اور پانچ ریڈیو ڈرامے لکھے ہیں۔ انھیں کئی ادبی انعامات مل چکے ہیں۔

نتائج کا اعلان بائیس مئی کو لندن میں کیا جائے گا اور جیتنے والے ادیب کو ساٹھ ہزار پاؤنڈ اور مترجم کو پندرہ ہزار پاؤنڈ دیے جائیں گے۔

اب تک یہ انعام البانیہ کے اسماعیل قادرے 2005، نائجیریا کے چینوا اچیبے 2007، کینیڈا کی ایلک منرو 2009 اور امریکہ کے فلپ روتھ کو 2011 میں حاصل ہو چکا ہے۔ اسے کیا کہا جائے کہ اب تک انعام حاصل کرنے والے چار میں سے تین ادیب انگریزی میں لکھتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔