لے مزیرابل کی کوریائی پیروڈی کی مقبولیت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 فروری 2013 ,‭ 11:14 GMT 16:14 PST

’لے ملیٹیرابل‘ جنوبی کوریائی سپاہیوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے بنائی گئی ہے

جنوبی کوریا کی فضائیہ نے یوٹیوب پر لے مزیرابل فلم کی ایک ویڈیو پیروڈی نشر کی ہے، جس میں برف پھینکتے ہوئے ایئرمین، ایک محبت کا مارا رنگروٹ اور ایک ضرورت سے زیادہ سخت گیر افسر دکھایا گیا ہے۔

اس ویڈیو کا نام ’لے ملیٹریرابل‘ رکھا گیا ہے، اور منگل کے بعد سے اسے یو ٹیوب پر چار لاکھ سے زیادہ دفعہ دیکھا جا چکا ہے۔

لے مزیرابل فرانسیسی ادیب وکٹر ہیوگو کا شہرۂ آفاق ناول ہے جو 19ویں صدی کے فرانس میں انقلاب اور رومان کے موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ جنوبی کوریا میں اس کی پیروڈی ایک ایئرفورس بیس پر فلمائی گئی ہے۔

لے مزیرابل پر حال ہی میں ایک میوزیکل فلم بھی بنائی گئی ہے جس نے نہ صرف اچھا بزنس کیا ہے بلکہ اسے آٹھ آسکر ایوارڈوں کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا میں بنائی گئی پیروڈی میں فلم کے گیتوں ’نیچے دیکھو‘ اور ’میں نے ایک خواب دیکھا ہے‘ کو بھی استعمال کیا گیا ہے، اور اصل بولوں کو کوریائی زبان سے بدل دیا گیا ہے۔

ویڈیو کا آغاز ایک وردی پوش ایئرمین سے ہوتا ہے، جو بھاری برف گرنے کے بعد رن وے کو صاف کرنے کی مشقت سے گزر رہا ہے۔ اس دوران ’نیچے دیکھو‘ نغمہ ’کھودو، اور کھودو، اور برف صاف کرو ۔۔۔ اس برف کی کوئی انتہا نہیں ہے۔‘

اس کے بعد ڈرامے کے ہیرو ژاں ویل ژاں پر توجہ مرکوز کر دی جاتی ہے جو برف گرانے سے بھاگ کر اپنی محبوبہ کوسیت سے ملنے کی کوششیں کرتا ہے۔

اصل لے مزیرابل کے محبت، انا اور انقلاب کے مشہور موضوعات کو ڈرامے میں نظرانداز کیا گیا ہے اور اس میں ناول کے پلاٹ سے مشابہت سرسری ہے۔

لے مزیرابل فلم باکس آفس پر ہٹ ثابت ہوئی تھی

ناول میں ژاں ویل ژاں اپنی منھ بولی بیٹی کوسیت کا سرپرست اور نگہبان ہوتا ہے۔ لیکن کوریائی ڈرامے میں ویل ژاں اپنے سخت افسر سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جس کا اصرار ہے کہ ویل ژاں ایک گھنٹے کے اندر اندر لوٹ آئے۔ اس کے بعد محبت کرنے والے جوڑے کو ساتھ گزارنے کے لیے مختصر وقت ہی ملتا ہے۔

اس منصوبے کے خالقین میں سے ایک میجر چیون میونگ نیونگ ہیں۔ انھوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ہم نے یہ ویڈیو فوجیوں کے حوصلے بلند کرنے کے لیے بنائی ہے، جنھیں اس سال معمول سے زیادہ برف گرنے سے نمٹنا پڑا۔‘

کوسیت کا کردار ادا کرنے والی خاتون کو چھوڑ کر فلم کے تمام اداکار رنگروٹ ہیں۔

جنوبی کوریا میں تمام صحت مند مردوں کے لیے دو سالہ فوجی نوکری لازمی ہے۔ جنوبی کوریا شمالی کوریا کے ساتھ تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔