اداسی کا سفر

آخری وقت اشاعت:  اتوار 24 فروری 2013 ,‭ 15:16 GMT 20:16 PST

ندیم اسلم کا نام آج کل پاکستان کے ادبی حلقوں میں کافی سنا جا رہا ہے۔

ان کی نئی کتاب ’دا بلائنڈ مینز گارڈن‘ فروری میں شائع ہوئی اور ندیم اسلم اسی ماہ پاکستان کے دو اہم ادبی میلوں میں شریک ہوئے، جہاں وہ اپنے منفرد اندازِ بیان اور مخلص و جذباتی لہجے کی وجہ سے شائیقین میں انتہائی مقبول ہوئے۔

’دا بلائنڈ مینز گارڈن‘ (’نابینا کا باغ‘) کی کہانی پاکستان کے صوبے پنجاب میں رہنے والے ایک خاندان کے بارے میں ہے۔ ان کی رہائش ’ہیر‘ نامی جگہ میں ہے۔ خاندان کے سربراہ ایک سابق سکول ٹیچر روہن ہیں جنہوں نے ایک سکول قائم کیا تھا جو اب جہادی رجحان رکھنے والے ایک گروپ کے کنٹرول میں چلا گیا ہے۔

روہن اپنی بیوی صوفیہ کی مغفرت کےلیے فکر مند رہتا ہے کیونکہ مرنے سے پہلے وہ اپنے شوہر کو بتا چکی تھی کہ اس کا ایمان ختم ہو گیا ہے اور اس کو آخرت میں یقین نہیں۔ روہن صوفیہ کی بنائی ہوئی تصاویر اور پینٹگز جلا دیتا ہے اور اس کی مغفرت کے لیے دعا کرتا رہتا ہے۔

روہن کا اکلوتا بیٹا جیو میڈیکل کالج میں پڑھ رہا ہے لیکن افغاسنتان پر امریکی حملے کے بعد وہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ وہاں جا کر متاثرہ لوگوں کی مدد کرے گا۔ اس کا منہ بولا بھائی میکال اس کے ساتھ جاتا ہے لیکن یہ دونوں خاندان کے کسی اور فرد کو اس بارے میں نہیں بتاتے۔

ان دونوں نوجوانوں کی افغانستان روانگی کے بعد خاندان کے لیے ایک اذیت ناک باب شروع ہوتا ہے۔ روہن کے دکھوں میں بیوی کی مغفرت کی فکر کے ساتھ بیٹے کا غم اور اپنی بینائی کے ختم ہونے کی پراشانی بھی شامل ہو جاتی ہے۔ ادھر افغانستان میں ان دونوں لڑکوں پر کیا گزرتی ہے وہ ایک دل دہلادینے والی کہانی ہے۔

یہ کہانی خطے کے ایک انتہائی مشکل دور میں طے پاتی ہے۔ معاشرے میں عدم رواداری، مذہبی انتہا پسندی اور تشدد عروج پر ہیں اور ساتھ امریکی حملے کے نتیجے میں امریکہ اور مغربی ممالک کے خلاف لوگوں کے جذبات میں اضافہ تیز ہو رہا ہے۔ اس سارے میں وہ لوگ پِستے ہوئے نظر آتے ہیں جو صرف پیار محبت و شرافت سے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نفرتیں اور مذہبی جنون معاشرے پر اس طرح چھائے ہوئے ہیں کہ لوگوں کے دل سخت ہو چکے ہیں اور انسانی ہمدردی کو بھلا دیا گیا ہے۔

ندیم اسلم

مصنف ندیم اسلم کراچی ادبی میلے کے افتتاحی تقریب میں

اس ناول میں امریکی حملے اور افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد کا حال قابل ذکر ہے۔ بے وفائی اور دغابازی کا سما ہے۔ جنگی سرادروں کے مظالم کی کوئی روک نہیں اور مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے آنے والے لڑکوں کو ’طالبان‘ کہہ کر امریکیوں کو بیچا جا رہا ہے۔

روہن کے اپنے کنبے کے دکھ اپنی جگہ لیکن ساتھ آئی ایس آئی سے تعلق رکھنے والے کرنل کائرہ نے بھی ان سے دشمنی مول لی ہے اور وہ ان کے خاندان کے خاتمے پر تلا ہوا ہے۔

ندیم اسلم کا کمال یہ ہے کہ وہ اس دردناک کہانی کو بہت خوبصورتی اور ہمدردی سے بیان کرتے ہیں۔ وہ صرف ایک کہانی ہی نہیں بیان کرتے بلکہ اس خطے کے نفسیاتی اور روحانی ماحول اور جذبات کو سامنے لے آتے ہی، جو اس پوری حقیقت کا حصہ ہے۔

ندیم اسلم چودہ سال کی عمر میں پاکستان سے برطانیہ چلے گئے تھے۔ ’دا بلائنڈ مینز گارڈن‘ ان کا چوتھا ناول ہے۔ ان کی پچھلی کتاب ’دا ویسٹڈ وِجل‘ سنہ دو ہزار آٹھ میں شائع ہوئی تھی جس کی کہانی افغانستان میں طے پاتی ہے۔

کراچی کے ادبی میلے کے افتتاحی تقریب میں پیتالیس سالہ ندیم اسلم نے بتایا کہ ان کی پہلی کہانی اردو روزنامہ ’امروز‘ کے بچوں کے سیکشن میں شائع ہوئی تھی جب وہ بارہ برس کے تھے۔ اب جب وہ بین الاقوامی سطح پر شہرت پا چکے ہیں وہ اپنا وقت برطانیہ اور پاکستان کے درمیان گزارتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔