صابر ظفر کا اکتیسواں شعری مجموعہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 مارچ 2013 ,‭ 00:25 GMT 05:25 PST

صابر ظفر کا اب زیادہ سے زیادہ ہر چھ ماہ میں ان کا ایک نیا شعری مجموعہ تیار ہو جاتا ہے

نام کتاب: پلکوں میں پروئی ہوئی رات

مصنف: صابر ظفر

صفحات: 128

قیمت: 180 روپے

تقسیم کار: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید سکوائر، اردو بازار، کراچی

کہتے ہیں کہ شعر میں اسلوب نامی چیز بھی ہوتی ہے جس کے ذریعے شاعر کی ایسی شناخت ہوتی ہے کہ اسے دوسروں سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ایک کرم فرما اس شناخت کو شاعر کا انگوٹھا قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں ہر زمانے میں بے انگوٹھا شاعروں کی ایک کھیپ ہوتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ ایسے شاعر بھی آتے کہ جن کے انگوٹھوں کے نشان کچھ دنوں دکھائی دینے کے بعد مدھم اور اتنے دھندلے پڑ جاتے کہ ماہر بھی بڑی تگ و دو کے بعد انھیں ان کے ہم عصروں سے الگ کر پاتے ہیں۔ لیکن پکی شناخت والے ایسے ہوتے کہ جہاں انگوٹھا لگاتے ہیں وہاں دوسروں کے پر جلنے لگتے ہیں۔

اگر کوئی ان کے انگوٹھے سا نشان بنانے کی کوشش کرتا ہے تو دیکھنے والے فورًا بتا دیتے ہیں کہ نشان کس کا ہے۔ جیسے غالب، اقبال، راشد، ناصر کاظمی، منیر نیازی، فیض احمد فیض اور کسی حد تک مجید امجد۔

کلِک صابر ظفر کا تیسواں مجموعہ:گردش مرثیہ

جہاں تک میر تقی میر کا تعلق ہے تو اردو شاعری میں سب سے بڑی تعداد انھی کے پیروکاروں کی ہے۔ شاید اس لیے بھی کہ وہ اردو غزل کے پہلے بڑے شاعر ہیں اور جو معتقدِ میر ذرا سمجھ دار ہوتے ہیں وہ ان کے انگوٹھے کے بڑی لکیروں کے درمیان کہیں کوئی جگہ ڈھونڈ کر نشان لگانے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ جب کوئی لکیروں کے درمیان تک پہنچے تو ان کے نشان کی الگ پہچان بھی نظر میں آ جائے۔ ہمارے ناصر کاظمی اسی کی کامیاب مثال ہیں۔

اس تمہید کی اور تفصیل کسی اور وقت، آئیے صابر ظفر کی بات کریں۔

صابر ظفر کا یہ 31واں مجموعہ ہے۔107نئی غزلوں پر مشتمل۔ ان کی شعر گوئی چالیس سے زیادہ سالوں پر پھیلی ہے۔ اس عرصے کو دیکھیں تو اوسط ہر تیسرے چوتھے دن ایک غزل کا نکلتا ہے۔ لیکن اب ان کی رفتار کچھ زیادہ ہو گئی ہے۔

اب زیادہ سے زیادہ ہر چھ ماہ میں ان کا ایک نیا شعری مجموعہ تیار ہو جاتا ہے۔ رفتار اور اعتماد کے اس امتزاج میں صابر ظفر کی ہنر مندی بھی ہے اور گویائی کی قوت بھی۔ اس میں کون سی قوت زیادہ ہے اس کا فیصلہ آسان نہیں۔

پچھلے دو سال میں آنے والے ان کے مجموعے موجودہ مجموعے ’پلکوں میں پرائی ہوئی رات‘ کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ان میں فاصل حد آسانی سے دریافت کرنا مشکل ہے۔

اس کا سبب ان کی زود و بسیار گوئی میں تلاش نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی ان کی نام کے آخر نصف میں۔ نہ ہی اسے ان دو ظفروں میں رفتار کا مقابلہ سمجھنا چاہیے۔

صابر ظفر کا یہ 31واں مجموعہ ہے

صابر ظفر ذہین ہیں اور پڑھنے والوں کی اُن ممکنہ دشواریوں کا انھیں بھی اندازہ ہے جن میں سے کچھ کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ شاید اسی لیے انھوں نے اپنے کچھ دوستوں کو مجموعے کے ساتھ کر دیا ہے کہ کہیں کوئی دشواری ہو تو وہ ان پڑھنے والوں کی مدد کر سکیں اور بتا سکیں کہ کہاں کہاں ان کے اپنے نشان کی لکیریں واضح اور الگ ہوتی ہیں۔

ویسے تو وہ یہ خوش اخلاقی کم و بیش ہر مجموعے میں ہی کرتے ہیں اور اسے اپنے قاری پر بے اعتباری نہیں کہا جانا چاہیے۔ شاید بہت سے لوگوں کی طرح وہ بھی یہ سمجھتے ہوں کہ قاری ہر طرح کے ہوتے ہیں اور ان کی مدد کرنے میں کوئی ہرج نہیں اور یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں۔

پھر یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ قاری کا حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے اور اسے پچھلی باتیں بھول جاتی ہیں تو ایسے میں کیا برا ہے کہ پہلے کی کچھ آرا کا خلاصہ کر دیا جائے اور یاددہانی کرا دی جائے۔

ہماری مدد کے لیے صابر ظفر کے رفیقوں میں پرتو روہیلہ بھی ہیں اور ان کے پیش لفظ کے علاوہ مجموعے کے آخر میں ان آرا کے اقتباس بھی ہیں جو احمد ندیم قاسمی، وزیر آغا، ڈاکٹر سہیل احمد، منیر نیازی، عبید اللہ علیم، قمر جمیل، فہمیدہ ریاض، محمد علی صدیقی، شہزاد احمد، سلیم کوثر، شاہدہ حسن، غلام حسین ساجد، حنیف فوق، طاہر نظامی، اسلم انصاری، حبیب جالب، محمود شام، رئیس امروہی، آفتاب اقبال شمیم، تبسم کاشمیری، خورشید رضوی، ساقی فاروقی، فہیم شناس کاظمی، احمد ہمیش، سرمد صہبائی، آصف فرخی، تحسین فراقی، سحر انصاری، سلیم راز، غالب احمد، ریاض مجید، جلیل ہاشمی، فراست رضوی، قاضی اختر جونا گڑھی، عبداللہ جان جمال دینی، نادر شاہ عادل، جمیل جالبی، افضال احمد سید اور مرزا حامد بیگ نے وقتًا فوقتًا ظاہر کی ہیں۔

ایک ہجرتِ دائم کا رنگ

منیر نیازی کی بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایک آدرش کے ہجر کا رنگ مسلسل صابر ظفر کے اشعار کو رنگین کرتا رہتا ہے، ایک ہجرتِ دائم کا رنگ، جس میں کچھ کھو دینے کا افسوس اور کچھ پا لینے کی امید کے رنگ شریک ہیں۔

یہاں گنجائش ہوتی تو میں مذکور محترم ہستیوں کے ارشادات کو لفظًا لفظًا نقل کرتا اور آپ دیکھتے کہ انھوں نے کیا کیا کہا ہے۔ خیر کتاب ضرور دیکھیں، آپ کو بالکل بھی خسارے کا احساس یا گھاٹے کا سودا نہیں لگے گا۔ اتنی قیمت میں اتنی اچھی چھپی ہوئی کتاب اور صابر طفر کی۔ اور کیا چاہیے؟

احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا کہ صابر ظفر کی غزل کلاسیکی روایت سے پھوٹی ہے۔ غیر کلاسیکی روایت کے معاملے کو چھوڑتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صابر ظفر نے نئی روایت کی داغ بیل پڑنے کا امکان بھی پیدا کر دیا ہے۔ اگر انھی کی بات سچ ہو گئی تو کچھ کم نہ ہو گا۔

لیکن منیر نیازی کی بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایک آدرش کے ہجر کا رنگ مسلسل صابر ظفر کے اشعار کو رنگین کرتا رہتا ہے، ایک ہجرتِ دائم کا رنگ، جس میں کچھ کھو دینے کا افسوس اور کچھ پا لینے کی امید کے رنگ شریک ہیں۔

لیکن جو انھوں نے اس اقتباس کے شروع میں کہا ہے وہ نسبتًا زیادہ توجہ چاہتا ہے کہ صابر ظفر شعر کے ہم عصر اسلوب اور تنقید سے آزاد اور بے نیاز ہو کر ایک مبتلا آدمی کی طرح شاعری کیے جا رہا ہے۔

آپ اس مبتلا آدمی کا یہ اکتیسواں مجموعہ پڑھیں اور اپنی رائے بنائیں مجھے یقین ہے کہ آپ جگہ جگہ رکیں گے اس کے بعد ان کے شعر آپ کے ساتھ کہاں تک چلتے ہیں اس کا فیصلہ بعد میں ہو گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔