بستی: وقت کا فوٹوگراف البم

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 مارچ 2013 ,‭ 20:51 GMT 01:51 PST

’بستی‘ کا ترجمہ امریکی پروفیسر فرانسس پریچٹ نے کیا ہے

انتظار حسین کا ناول بستی اب انگریزی میں نیویارک ریویو بکس نے شائع کیا ہے۔انتظار حسین کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں۔ وہ اب اردو فکشن کیا ادب لکھنے والے سرفہرست چند میں سےایک ہیں۔

اردو کے اس ناول کو صرف انگریزی میں پڑھ سکنے والوں تک پہنچانے کی یہ کوشش فرانسس ڈبلیو پریچٹ نے کی ہے۔ اردو میں لکھی جانے والی تحریروں کو انگریزی پڑھنے والوں کی رسائی میں لانے کی نہ تو پریچٹ کی یہ پہلی کوشش ہے اور نہ ہی اس نوع کی۔ آپ روایتی انداز میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس کی بھی ایک روایت ہے۔

مجھے ترجمے کی اصطلاح پر اعتماد نہیں اور میں اس سلسلے میں ہسپانوی زبان کے عظیم ادیب خورخے بورخیس کی اس بات کا قائل ہوں۔

بورخیس کہتا ہے، ’کوئی دو زبانیں ، ایک دوسرے کے متبادل مترادفات کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ حقیقت کو دیکھنے اور مرتب کرنے کے دو ممکنہ طریقے ہیں۔‘

لیکن آسانی کے لیے یہی اصطلاح استعمال کرتا ہوں۔

انتظارحسین نے یہ ناول کوئی لگ بھگ 33 سال پہلے غالبًا 1979 میں مکمل کیا تھا۔ میرے پاس اس ناول کا جو ایڈیشن ہے اسے سنگِ میل لاہور نے 2010 میں شائع کیا تھا۔ اس ایڈیشن میں ’بستی‘ کے پہلے ایڈیشنوں کا کوئی ذکر نہیں۔ اردو کے کم و بیش تمام ہی ناشر ان ضروری تفصیلات کی مجرمانہ نظر اندازی کو غالبًا کارباری مفادات کا لازمی جز خیال کرتے ہیں۔ پریچٹ کا ترجمہ کیے ہوئے اس ناول کا یہ انگریزی ترجمہ پہلی بار 1995 میں شائع ہوا تھا۔

اردو اور انگریزی متن کے تقابلی جائزے کے بغیر بھی ان کے ترجمے کو ممکن حد تک بہتر کہا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس ترجمے میں شمش الرحمٰن فاروقی کی مدد بھی حاصل رہی ہے اور خود مصنف کی بھی۔ فاروقی کی مدد یقینًا اہم ہے۔ وہ نہ صرف اردو زبان، ادب اور انتظار حسین کو دوسرے بہت سوں سے کہیں زیادہ بہتر طور سمجھنے کی قابلِ اعتماد صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ انگریزی میں سمجھانے کی بھی۔

اگرچہ جس بات کی طرف بورخیس اشارہ کرتا ہے اسے سمجھنے کے لیے ایک چھوٹی سے مثال ضرور دیکھ لیں:

’بی اماں! یہ پچھلی جمعرات کی بات ہے۔ دونوں وخت مل رئے تھے۔ چوپال کے پاس سے گزری تو ایسے لگا جیسے کوئی عورت رو رہی ہو‘۔

“Bi Amma! Last Thursday it happened, just at twilight. When I passed by the village hall, I thought I heard a woman sobbing.”

ذرا ’وخت‘ ’رئے‘ اور’چوپال‘ کے مترادفات دیکھیں، اور سوچیں کہ اُس انگریزی قاری کو کیا پہنچے گا جو بے وضاحت کرداروں اور ناول پر محیط معاشرت سے مانوس نہیں ہو گا۔ اور یہ معاملہ ناول میں جگہ جگہ ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی مترجم اس کا کچھ کر سکتا ہے۔ اگر اٹالک کا استعمال کر کے وضاحتوں کا طریقہ اختیار کیا جائے تو ناول جتنی ایک اور ضخامت درکار ہو گی۔

اردو فکشن کے اچھے پڑھنے والوں میں بہت سوں کی رائے ہے کہ انتظارحسین کو کہانیاں لکھتے ہوئے اسلوب اور بیان پر جو دسترس اور قابو حاصل ہے وہ انھیں ناول میں حاصل نہیں رہتا۔ اس نوع کے بیانات اضافی نوعیت کے ہوتے ہیں کیونکہ خالصتًا داخلی اورمحسوساتی ہوتے ہیں اسی لیے انھیں حقیقی قضیوں کے درجے پر فائز نہیں کیا جا سکتا۔ یوں بھی ایسے ناول کم ہی ہیں جن کے وقت اور بنیادی کہانی کو تقسیم نہ کیا جا سکے جیسے جوائس کا یولیسس ہے۔ اور بھی ہو سکتے ہیں لیکن مجھے اپنی کم علمی کا اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں۔

بستی کے بارے یہ تو قدرے اعتماد سے کہا جا سکتا ہے کہ 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے گرد ختم ہوتا ہے۔ پیچھے کہاں تک جاتا ہے اور کیوں جاتا ہے یہ معاملہ بہت تفصیل طلب ہے۔ اس لیے اسے نہ تو تاریخی ہونے کے زمرے میں بند کیا جانا چاہیے اور نہ ہی تاریخ کی تشریح کا ذریعہ بنانا چاہیے۔

مائیکل آرتھوفر نے بستی کے لیے کیا مناسب کہا ہے: ’تسلسل پر مرتکز ایک بیانیے سے زیادہ فوٹوگراف البم۔‘

پھر بھی کچھ ناول کی کہانی کو بھی دیکھ لیتے ہیں:

ناول بظاہر روپ نگر گاؤں میں ذاکر کے بچپن سے شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح آسانی کے لیے ذاکر اور صابرہ کو ناول کے مرکزی کردار کہا جاسکتا ہے لیکن آسانی کے لیے ناول میں نہ تو مقام ہی مقام کا پابند ہے نہ ہی وقت، وقت کا۔ اسی لیے کہانی بھی تسلسل سے ماورا تسلسل اور تلازمات میں سفر کرتی ہوئی 16 دسمبر پر ختم ہوتی ہے جو 14 ستمبر 1857 بھی ہے۔

ماضی میں سفر کرتا ہوا ناول

ناول میں حال حال نہیں ماضی بھی ہے۔ اس حوالے سے اردو شاید بہت سی زبانوں سے مختلف اور متنوع ہے، اس کا کل ماضی بھی ہے اور مستقبل بھی۔ لیکن ناول یہاں تک نہیں جاتا۔ اس میں حال ماضی ہے اور ماضی حال۔ ناول وہاں ختم ہوتا ہے جہاں کل مستقبل کے سامنے کھڑا ہے۔

ذاکر کے ساتھ صابرہ اور تو سب کھیل تو کھیلتی ہے لیکن دولھا دلھن کا نہیں۔ وہ بچپن ہی میں اپنی اپنی قبریں بناتے ہیں اور آخر تک ان میں رہتے ہیں۔ ذاکر خاندان کے ایک حصے کے ساتھ نقل مکانی کر کے بھی اور صابرہ نہ کر کے بھی۔ آپ چاہیں تو اسے ناول نگار کا ذاتی قضیہ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن پھر سوال ہو گا کہ غیر ذاتی کیا ہوتا ہے؟ ہوتا بھی ہے یا نہیں؟ ناول میں حال حال نہیں ماضی بھی ہے۔ اس حوالے سے اردو شاید بہت سی زبانوں سے مختلف اور متنوع ہے، اس کا کل ماضی بھی ہے اور مستقبل بھی۔ لیکن ناول یہاں تک نہیں جاتا۔ اس میں حال ماضی ہے اور ماضی حال۔ ناول وہاں ختم ہوتا ہے جہاں کل مستقبل کے سامنے کھڑا ہے۔

اب بتائیں کیا انگریزی کے اُن پڑھنے والوں کو اس ناول کو پوری طرح سمجھنے میں بڑی کوشش نہیں کرنی پڑے گی جو برِصغیر کی تاریخ اور متنوع معاشرت سے واقف نہیں ہوں گے؟ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس ناول سے لطف اندوز نہیں ہو سکیں گے۔ یعنی یہ ناول اپنے کسی بھی قاری کا اولین تقاضا پورا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن اسے مائیکل آرتھوفر کی بات ضرور ذہن میں رکھنی ہو گی۔

اگلے مرحلے کے لیے ناول کے شروع میں دیا گیا آصف فرخی کا تعارف یقینی طور پر کچھ مدد گار ہو سکتا ہے لیکن زیادہ نہیں کیونکہ یہ تعارف ایک ایسے مداح کا ہے جو مصنف کو ضرورت سے زیادہ جانتا ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔