جیمز بانڈ کے ہندی مکالمے کون بولتا ہے؟

Image caption بھارت میں جیمز بانڈ سے لے کر ہر بڑی ایکشن فلم کا ہندی ایڈیشن ریلیز ہوتا ہے

آپ میں سے بہت سے لوگ اس وقت سکول یا کالج میں ہوں گے جب 1993 میں ’جراسك پارک‘ بھارت میں ریلیز ہوئی تھی۔

اس ہفتے ایک بار پھر یہ فلم 3 ڈی میں ریلیز ہو رہی ہے لیکن 1993 میں آپ نے اسے کس زبان میں دیکھا تھا؟ انگریزی یا ہندی میں۔

اگر آپ نے ہندی میں یہ فلم دیکھی تھی تو آپ بھی تاریخ کا حصہ ہیں کیونکہ یہ ہندی میں ڈب ہونے والی پہلی ہالی وڈ فلم تھی۔

اس بات کو اب 20 سال ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں بھارت کی ڈبنگ انڈسٹری میں بھی بہت تبدیلی آئی ہے اور اب تو بہت سی ہالی وڈ فلمیں ہندی اور دیگر زبانوں میں ڈب ہوتی ہیں اور جیمز بانڈ سے لے کر ہر بڑی ایکشن فلم کا ہندی ایڈیشن ریلیز ہوتا ہے۔

گزشتہ 20 سالوں میں ڈبنگ انڈسٹری میں کیا کچھ بدلا ہے اس بارے میں ان لوگوں سے جانتے ہیں جو گزشتہ 20 سال سے یہ کام سرانجام دیتے آ رہے ہیں۔

ان میں سب سے پہلا نام ہے شکتی فلمز کے اشم سامنت کا۔ اشم مشہور فلم ساز شکتی سامنت کے بیٹے ہیں۔ اشم کے سٹوڈیو میں ہی ’جراسك پارک‘ کی ہندی میں ڈبنگ ہوئی تھی۔

اس وقت سے لے کر اب تک ان کے سٹوڈیو میں ’دی لوسٹ ورلڈ‘، ’دی ورلڈ از ناٹ انف‘، ’گولڈن آئی‘، ’مشن امپاسبل‘، ’جي آئي جو‘ اور ’آئرن مین‘ جیسی فلموں کی ڈبنگ ہو چکی ہے۔

پہلی بار ڈبنگ کا موقع کیسے ملا؟ اس سوال کے جواب میں اشم کہتے ہیں، ’ہمارے ایک دوست لندن میں بی بی سی میں کسی کام سے گئے تھے۔ وہاں ان کی ملاقات یونائیٹڈ انٹرنیشنل پكچرز کے ایک اہلکار سے ہوئی۔ باتوں باتوں میں جب انہوں نے ان سے پوچھا کہ بھارت میں کون ہے جو ہالی وڈ فلموں کی ڈبنگ کر سکتا ہے، تو انہوں نے ہمارا ذکر کیا۔ اس طرح يو آئی پي نے ہم سے رابطہ کیا اور ہمیں ’جراسك پارک‘ کو ہندی میں ڈب کرنے کا کام مل گیا۔‘

چونکہ یہ پہلی ہالی وڈ فلم تھی، جو ہندی میں ڈب ہو رہی تھی، اس لیے يو آئی پي نے کچھ شرائط بھی رکھیں جیسے کہ ساؤنڈ مكسنگ ’ڈولبي‘ میں ہونی چاہیے اور اس کے لیے خاص طور پر اشم نے اپنے سٹوڈیو کو ڈولبي سٹوڈیو میں تبدیل کیا۔

اشم کہتے ہیں کہ ’جراسك پارک‘ کے ہندی ترجمے کا کام انہوں نے ہندی ٹی وی ڈراموں کے مشہور مصنف میر منیر کو سونپا۔

میر منیر نے بی بی سی کو بتایا کہ جب اشم نے انہیں پہلی بار اس کام کے لیے کہا تو انہوں نے فلم کا سکرپٹ مانگا جسے پڑھ کر انہیں لگا کہ یہ تو بہت مشکل موضوع ہے۔ پھر انہوں نے فلم بھی دیکھی۔ اس کے بعد بھی انہیں لگا کہ یہ کام شاید وہ نہ کر پائیں۔

لیکن اشم کے کہنے پر انہوں نے یہ کام ہاتھ میں لیا اور سب سے پہلے انہوں نے فلم کا انگریزی سکرپٹ چھ سات بار پڑھا اور تین چار مرتبہ فلم بھی دیکھی۔

میر کہتے ہیں کہ اتنا سب کرنے کے بعد انہیں کچھ کچھ سمجھ آنے لگا کہ فلم کس طرح لکھی جا سکتی ہے۔ ’اس کے بعد ہم نے فلم کا پہلا ڈرافٹ لکھا۔ ڈبنگ میں تو ’لپ سنک‘ سب سے ضروری ہوتا ہے لیکن ہم نے سوچا کہ ایک بار خاکہ تیار ہو جائے، ’لپ سنک‘ کے بارے میں پھر سوچ لیں گے۔‘

انہوں نے کہا، ’خاکہ تیار ہونے کے بعد ہم بس ٹی وی کے آگے بیٹھ کر بار بار فلم دیکھتے تھے، درمیان میں روکتے رہتے تھے، دیکھتے تھے کہ کس نے کیا بولا ہے اور جو ہم نے لکھا ہے وہ اس سے ملتا بھی ہے یا نہیں۔‘

اس کے بعد اصل ڈبنگ کی باری آئی۔ میر منیر کہتے ہیں ’جب ڈبنگ شروع ہوئی تو ہمیں لگا کہ اتنی محنت کے بعد بھی چیزیں مل نہیں رہی ہیں۔ کہیں انگریزی کے مکالمے بہت چھوٹے تھے اور ہمارے ہندی مکالمے طویل ہو رہے تھے تو کہیں اس کا الٹ ہو رہا تھا۔‘

جتنی مشکل میر منیر کو ڈائیلاگ لکھنے میں آئی اتنی ہی مشکل ڈبنگ آرٹسٹ شکتی سنگھ کو بھی ہوئی۔ شکتی سنگھ آج جیمز بانڈ کے ہیرو ڈینیل كریگ سے لے کر جي آئی جو کے بروس ولس تک کی آواز ہیں۔

شکتی سنگھ کا کہنا ہے کہ ’ان 20 برسوں میں بہت کچھ بدلا ہے۔ ٹیکنالوجی تو بہت ہی بدل گئی ہے۔ اس وقت لوپ کٹنگ سسٹم ہوتا تھا۔ تب لپ سنک بھی بہت مشکل ہوتا تھا۔ لیکن اب ٹیکنالوجی اتنا آگے پہنچ گئی ہے کہ اگر آپ ’آؤٹ سنک‘ بھی ہیں تو مشین سب ’سنک‘ کر دیتی ہے۔‘

ہالی وڈ کی ایک بڑی فلم جب ہندی اور کئی دیگر ہندوستانی زبانوں میں ریلیز ہوتی ہے تو ایسے میں فلم میں ایک ڈبنگ آرٹسٹ کی آواز کا کیا کردار ہے؟

اس کے جواب میں شکتی سنگھ کہتے ہیں، ’ڈبنگ آرٹسٹ کی آواز کا کردار ایک اداکار کی ہی طرح ہوتا ہے لیکن بھارت میں ڈبنگ آرٹسٹ کو وہ اہمیت نہیں ملتی جتنی ہالی وڈ میں ملتی ہے۔ یہاں تو پروڈوسر ڈبنگ آرٹسٹ پر پیسے خرچ کرنے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔‘

چاہے ڈبنگ آرٹسٹ کو پیسے کم ملتے ہیں لیکن بھارت میں ڈب فلموں کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے کیونکہ ہالی وڈ کی فلمیں خاص طور پر ایکشن فلمیں بھارتی شائقین میں کافی مقبول ہیں۔