چین سے برطانیہ تک، حنان عباسی کاسفر نامہ

سابق نگراں صوبائی وزیر، کالم نگار اور اینکر آغا مسعودحسین نے کہا ہے کہ بات چیت کے ذریعے مقاصد کے حصول کی ڈپلومیسی کا طریقہ ہمیں چین سے سیکھنا چاہیے۔ جس نے کسی بھی عسکری محاذ آرائی کے بغیر ہانگ کانگ کو برطانیہ کے طویل قبصے سے واپس حاصل کر لیا۔

وہ نوجوان مصنف ، کالم نگار، صحافی اور اینکر حنان علی عباسی کے سفر نامے ’چین سے برطانیہ تک‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ تقریب جمعہ کو گوئتھے انسٹی ٹیوٹ کراچی میں ہوئی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ اور فاطمہ ثریا بجیا تھے جب کہ ممتازسماجی کارکن رمضان چھیپا نے خاص طورپر شرکت کی۔ گوئتھے انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کہ لیے یہ انتہائی خوش کن بات ہے کہ وہ اور جرمن ثقافتی مرکز پاکستانی نوجوانوں کے میزبان ہیں اور اس تقریب میں بزرگ بھی شریک ہیں۔

آغا مسعود نے کہا کہ حنان علی عباسی انتہائی با صلاحیت نوجوان ہیں اور وہ ان کی بہت سی صلاحیتوں کا مشاہدہ ایران کے ایک مشترکہ دورے کے دوران کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم چین کے پس منظر میں پاکستان کو دیکھتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے سامنے یہی بات آتی ہے کہ دونوں ملک کم و بیش ایک ہی دور میں آزاد ہوئے لیکن دونوں کی ترقیوں اور ترقیوں کے انداز اور رفتار میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔

Image caption رونمائی، (دائیں سے بائیں) محمد رمضان چھیپا، حنان علی عباسی، فاطمہ ثریا بجیا، ڈائریکٹر گوئتھے انسٹیٹوٹ کراچی اور نعمت اللہ خان

انھوں نے کہا کہ حنان عباسی اپنی کتاب میں صرف چین سے برطانیہ تک کے سفر کے بارے میں بتاتے ہیں بلکہ چیزوں کو پس منظر میں رکھ کر پاکستان کے بارے میں سوچتے ہیں اور اس طرح یہ کتاب ہمیں پاکستان کے بارے میں ایک نئی طرح سوچنے پر آمادہ کرتی ہے۔

نعمت اللہ خان نے کہا کہ حنان ایک نوجوان ہیں اور وہی ایک ایسی کتاب لکھ سکتے ہیں ، جس میں نوجوان چین اور عمر رسیدہ چین کا امتزاج ہو سکتا ہو، جیسے اس تقریب میں ان کا اور میرا موجود ہونا ایک امتزاج پیدا کر رہا ہے۔ جیسے انھوں نے کتاب لکھی ہے اور میں اس پر بات کر رہا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے اس کا ایک اندازہ اس کتاب سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ چینی قیادت جو کہتی ہے وہ کرتی ہے اور یہی ان کا اور ہمارا فرق ہے جس نے چین کو ایک سپر طاقت بننے کے قریب پہنچا دیا ہے۔

فاطمہ ثریا بجیا نے جو اپنا علالت کے باوجود تقریب میں آئی تھیں کہا کہ انھوں نے جب ہوش سنبھالا تو اپنے خاندان اور آس پاس کے لوگوں کو برطانیہ کے خلاف دیکھا ۔ پھر وہ برطانیہ چلا گیا اور اب اس کتاب میں وہ برطانیہ کچھ اور بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ کتاب بہت اچھی لگی ہے اور انھیں اس کتاب میں ایک روشنی دکھائی دیتی ہے ، ایک ایسی روشنی جس کی آنے والے وقت میں ہمیں بہت ضرورت ہو گی اور اسی لیے انھیں یہ کتاب بہت اچھی لگی ہے ۔ انھوں نے یقین ظاہر کیا کہ جو بھی اس کتاب کو پڑھے گا اسے یہ کتاب بہت اچھی لگے گی۔

ممتاز سماجی کارکن محمد رمضان چھیپا نے کہا کہ جہاں تک انھوں نے اس کتاب کو پڑھا ہے، اس سے انھیں یہ انتہائی حوصلہ افزا کتاب محسوس ہوئی ہے۔ یہ کتاب اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کے لکھنے والے ایک نوجوان ہیں۔ اور اب وقت آ گیا ہے کہ نوجوان آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ہی امید کی کرن ہیں۔ چھیبا نے کہا کہ وہ سماجی کام کرنے والے ہیں۔ وہ نوجوانوں کو صرف یہ بتا سکتے ہیں کہ 1987 میں انھوں نے تنہا کام شروع کیا اور اب ان کا کام ایک ادارے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کسی کام پر لگ جائیں تو پھر آپ ایک نہیں رہتے۔

کتاب کے مصنف حنان عباسی نے کہا کہ ان کے پیش نظر ایک امید کا امکان ہے۔ میں نے جب سفر کی ابتدا کی تو میرے ذہن میں واضح تھا کہ میں سرکاری خرچ پر سفر کر رہا ہوں اور اب میری ذمے داری دُہری ہے۔ مجھے اس سفر کے دوران سیکھنا ہی نہیں ہے اپنے ملک کی نمائندگی بھی کرنی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں ہر قدم پر اور ہر بات پر پاکستان یاد آتا رہا اور ان کا دماغ ہر چیز کا پاکستان سے موازنہ کرتا رہا۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے پاکستان میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سینکڑوں اجلاس دیکھے ہیں لیکن جو انھوں نے برطانیہ میں دیکھا وہ یہاں پاکستان میں کبھی نہیں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی ایوانِ نمائندگان میں چھ سو ارکان ہیں اور ساڑھے چار سو نششتیں ہیں اور طریقہ یہ ہے کہ جو اجلاس میں دیر سے آتا ہے وہ پیچھے کھڑا رہ کر اجلاس میں حصہ لیتا ہے۔

انھوں نے تقریب میں شرکت پر مہمانوں اور میزبانی پر تقریب میں گوئتھے انسٹی ٹیوٹ کراچی کے ڈائریکٹر کا بھی شکریہ ادا کیا۔ حنان علی عباسی دولت مشترکہ کی یوتھ کا اعلیٰ ترین اعزاز کا من ویلتھ ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں اور انھوں نے ملک بھر میں نیشنل یوتھ اسمبلی کو بھی منظم کیا ہے ۔

تقریب میں نیشنل یوتھ اسمبلی کے کراچی چیپٹر کے نوجوان ارکان بھی موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی یہ کتاب ’ چین سے برطانیہ تک‘ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے شائع کی ہے۔

اسی بارے میں