انقلابی شاعر پابلو نیرودا کی قبر کشائی

Image caption نیرودا کی ہڈیوں کو تجزیے کے لیے سان تیاگو لے جایا گیا ہے

جنوبی امریکہ کے ملک چلی میں تحقیقاتی ٹیم نے نوبیل انعام یافتہ شاعر پابلو نیرودا کی قبر کشائی کی ہے۔

نیرودا 1973 میں انتقال کر گئے تھے اور حکام کے مطابق ان کی قبر کشائی کا مقصد اس بات کی تحقیق کرنا ہے کے آیا انہیں زہر دیا گیا تھا یا پھر وہ کینسر کے باعث ہلاک ہوئے تھے۔

فارینزک ماہرین کی ایک ٹیم نے پیر کو اسلا نیگرا میں واقع پابلو نیرودا کے گھر میں ان کی قبر کھود کر ان کی باقیات نکالیں۔

چلی کی میڈیکل لیگل سروس کے سربراہ پیٹریشیو بستوس کا کہنا ہے کہ نیرودا کی لاش کا تجزیہ دارالحکومت سان تیاگو میں کیا جائے گا۔

پابلو نیرودا لاطینی امریکہ کی ادبی دنیا میں ایک قد آور شخصیت تھے اور چلی کے ان دو شہریوں میں شامل ہیں جنہیں ادب کا نوبیل انعام ملا تھا۔

پابلو نیرودا کمیونسٹ پارٹی کے رکن اور صدر سیلوینڈر ایلینڈے کے حامی تھے اور ان کے دور میں بہت سرگرم تھے اور سفیر بھی رہے۔

جب چلی میں آمر آگسٹو پینوشے نے اقتدار پر قبضہ کیا تو اس کے بارہ دن کے بعد ہی نیرودا اچانک انتقال کر گئے۔

Image caption پابلو نیرودا لاطینی امریکہ کی ادبی دنیا میں ایک قد آور شخصیت تھے اور چلی کے دو شہریوں میں سے ایک تھے جنہیں ادب کا نوبیل انعام ملا تھا

انتقال سے قبل نیرودا اپنی خود نوشت سوانح حیات پر کام کر رہے تھے اور ان بارہ دنوں میں انہوں نے اپنی اس خود نوشت سوانح حیات کو مکمل کیا۔

اس سوانح حیات کے آخری صفحات میں انہوں نے جنرل پینوشے کے اقتدار پر قبضے کے بارے میں بہت شدید تنقید کی ہے۔

مگر جب جنرل پینوشے کو دس اکتوبر دو ہزار آٹھ میں لندن میں گرفتار کیا گیا تو اس کے بعد سے ہی ان کی وفات کے حوالے سے مختلف نوعیت کی باتیں سامنے آنا شروع ہو گئی تھیں۔

ان کے خاندان نے اب تک یہی کہا ہے کہ وہ ہسپتال میں مثانے کے کینسر کے باعث انہتر برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

ان کی ہلاکت کے بارے میں تحقیقات کا سلسلہ دو ہزار گیارہ میں اس وقت شروع ہوا جب نیرودا کے ڈرائیور اور ذاتی معاون نے انکشاف کیا کہ انہیں ہسپتال میں مہلک انجکشن دے کر ہلاک کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں