محبت میں احساسِ محرومی اور مایوسی کی دوا

Image caption ذیشان ساحل کی شاعری کی ای بُک بھی بن چکی ہے اور اس کی بہر سے نظمیں انٹرنیٹ کے دریعے بھی دیکھی جا سکتی ہیں

شاعر: ذیشان ساحل

صفحات: 814

قیمت: 750 روپے

ناشر: آج کی کتابیں، مدینہ سٹی مال، عبداللہ ہارون روڈ، صدر کراچی 74400

آج 12 اپریل ہے۔ ذیشان ساحل کو یہاں سے گذرے پانچ سال ہو چکے ہیں۔ یہی ایک بات ہے جو قدرے یقین سے کہی جا سکتی ہے۔ یوں تو یہ بھی یقین سے کہا جا سکتا ہے وہ چالیس سال، تین ماہ اور بارہ دن تک یہاں تھے، ہمارے درمیان لیکن اِس دوران آدھے سے زیادہ وقت اُس نے شاعری کے ساتھ گذارا۔ ساڑھے پانچ سو کے لگ بھگ نظمیں لکھیں اور کچھ غزلیں بھی لیکن اُس کی شاعری کے بارے میں یہ محققانہ تفصیلات صرف اجمل کمال ہی زیادہ بہتر طور پر بتا سکتے ہیں۔

اس کی عدم موجودگی کے پانچ سال کے دوران اس کے نظموں کے آٹھ مجموؤں: ایرینا 1985، چڑیوں کا شور 1989، کہر آلود آسمان کے ستارے 1994، کراچی اور دوسری نظمیں 1995، ای میل اور دوسری نظمیں 2003، شب نامہ اور دوسری نظمیں 2003، جنگ کے دنوں میں 2003، نیم تاریک محبت 2005 کو ’ساری نظمیں‘ کے نام سے اکٹھا کر دیا گیا ہے۔

گنتی میں غلطی نہیں ہوئی تو یہ کوئی چار سو 46 نظمیں ہیں۔ اس کے علاوہ غزلوں کا ایک مجموعہ الگ سے شائع کیا گیا ہے۔

شاید اس کے علاوہ بھی ذیشان کی کچھ نظمیں ہوں گی۔ جو بھی ہوں گی پہلے کی ہی ہوں گی۔ وہ اپنا اکاؤنٹ بند کر چکے ہیں۔

ذیشان کی شاعری میں کچھ کچھ ویسا بھی ہے جو اس کے اُن چند ہم عصروں میں ہے جن میں سے کچھ اس سے کچھ پہلے کے ہیں اور کچھ بعد کے۔

کچھ اردو کے ہیں اور کچھ بہت سے ایسی زبانوں کے جنھیں ہم نے صرف انگریزی کے ذریعے جانا ہے۔

مختلف جغرافیوں، مختلف تاریخوں، مختلف تہذیبوں اور عمروں کے، پھر بھی جیسے وہ ایک دوسرے جیسے ہیں اور ایک دوسرے الگ ہیں ویسے ہی ذیشان بھی ہے، شامل بھی اور الگ بھی۔

ہم ذیشان کو پہچان سکتے ہیں اس کی شاعری کے ایک الگ ماحول میں سانس لے سکتے ہیں۔ اس کے رنگوں کو دیکھ سکتے ہیں اور ان رنگوں کی مہک سے تازہ ہو سکتے ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ اس کلیات میں شامل ذیشان کی تمام کی تمام نظموں پر الگ بات کروں کیونکہ ان میں سے ہر نظم روک کر اپنے الگ وجود کا احساس دلاتی ہے۔

لیکن پھر مجھے خیال آتا ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے پڑھنے والوں کی آزادی میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ پڑھنے والوں کو آزادانہ طور پر پڑھنا چاہیے۔

میں جب کسی کو پڑھتا ہوں تو یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے وکیل اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

Image caption ہم ذیشان کو پہچان سکتے ہیں اس کی شاعری کے ایک الگ ماحول میں سانس لے سکتے ہیں

میں پہلے پڑھتا ہوں۔ چاہتا ہوں کہ لکھنے والے سے میری ملاقات ہو۔ وہ اپنے لفظوں کے ذریعے مجھ سے بات کرے، اگر اس کی کسی بات کو سمجھنے میں مجھے اپنے اندر کوئی کمی محسوس ہو تو میں پہلے اسے دور کروں لیکن شاعری کے لیے ایسا تب ہوتا ہے جب شاعر کو اپنے لیے لغت کی توسیع کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، جب اسے اپنی تہذیب اور ثقافت کے بیان کے لیے دوسری تہذیبوں اور ثقافتوں کے حوالے درکار ہوتے ہیں۔ جب اپنے زمانے کے لیے اُسے دوسرے زمانوں میں جانا پڑتا ہے۔

ذیشان کی بہت سی نظمیں انگریزی میں منتقل کی جا چکی ہیں اور بہت سی اب اور زبانوں میں ہو رہی ہیں اور وہ لوگ کر رہے ہیں جو ذیشان سے کبھی ذاتی طور ملے بھی نہیں، ان کا تعلق اس کی شاعری سے ہے۔

ذیشان کا یہ نیا حلقۂ احباب اس کی شاعری نے بنایا ہے اور وہ بنا سکتی ہے کیونکہ اسے کسی تک پہنچنے کے لیے اور اس تک کسی کو پہنچنے کے لیے نہ تو کسی پاسپورٹ کی ضرورت ہے اور نہ ویزے کی۔

اس کی شاعری کی ای بُک بھی بن چکی ہے اور اس کی بہر سے نظمیں انٹرنیٹ کے دریعے بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

لیکن یہ تمام باتیں اضافی ہیں اور میں صرف اس لیے کر رہا ہوں کہ آپ کو شاعری کی ایک ایسی کتاب کے بارے میں بتا سکوں جس کو خریدنے پر صرف کی جانے والی رقم آپ کو بے جا محسوس نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ میرا خیال یہ بھی ہے کہ ذیشان ساحل کی یہ کلیات، ان کے لیے ضرور اہم ہوگی، جنھیں اردو شاعری کی محبت میں کبھی کبھی احساسِ کمتری یا مایوسی کے دورے پڑتے ہوں۔

ذیشان کے بارے میں بہت سی اور تفصیلات کو میں نے اس لیے نہیں دہرایا کہ آپ اس تبصرے کے ساتھ موجود لنکس کے ذریعے بھی انھیں دیکھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے اگر آپ ضروری سمجھیں۔

ذیشان ساحل کی مختلف نظیمیں

ذیشان ہر چیز کو زندہ کر سکتا تھا

اسی بارے میں