ادب میں جاسوسی کہانی کا مقام

Image caption ابنِ صفی کے پڑھنے والوں اور اُردو میں جاسوسی ادب کی تحقیق کرنے والوں کے لئے یہ کتاب ایک ناگزیر حوالے کی حیثیت رکھتی ہے

کتاب: ابنِ صفی، شخصیت اور فن

مصنف: راشد اشرف

ناشر: بزمِ تخلیق ادب پاکستان، کراچی

صفحات: 256

قیمت: 400 روپے

پاپولر ادب بمقابلہ ادبِ عالیہ کی بحث اگرچہ نئی نہیں ہے لیکن ابنِ صفی کے تناظر میں اِسے نئی جہت اس لئے مِل جاتی ہے کہ اُن کی شہرت جاسوسی ناول نگار کے طور پر سہی، لیکن وہ اُردو کے ادبِ عالیہ سے بخوبی واقف تھے اور خود بھی ایک غزل گو شاعر تھے۔

ابنِ صفی کے فن اور شخصیت پر اُن کی وفات کے بعد سے اب تک گاہے گاہے تبصرے وغیرہ شائع ہوتے رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا کی بدولت گذشتہ تین چار برس کے دوران اُن کی ناول نگاری، غزل گوئی اور ایک انسان کے طور پر اُن کے روزمرہ برتاؤ پر بہت سا مواد سامنے آیا ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ اس مواد کو کاٹ چھانٹ کر اس کا وقیع اور قابلِ مطالعہ حصّہ سنجیدہ قارئین کے لیے مرتب کیا جائے۔

جواں سال محقق اور ابنِ صفی کے شیدائی راشد اشرف نے ترتیب و تدوین کا یہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ سنجیدہ ناقدینِ ادب کے یہاں سے جاسوسی ادب کے بارے میں مواد بھی ڈھونڈھ نکالا اور یوں پہلی بار ایک پاپولر ادیب کے بارے میں ایک سنجیدہ تنقیدی مقالہ منظرِعام پر آیا۔

راشد اشرف نے کتاب کی ابتداء ابنِ صفی کے ذاتی حالات اور خاندانی پس منظر سے کی ہے۔ الہ آباد میں اُن کے ابتدائی ایام اور تعلیم کا ذکر کرنے کے بعد اُن کی ناول نگاری کے آغاز کا تذکرہ کیا ہے کہ کس طرح الہ آباد کی ایک ادبی نشست کے دوران ہونے والی بحث میں اسرار احمد نامی ایک نوجوان نے یہ چنوتی قبول کی کہ عریانی اور فحاشی کی مدد لیے بغیر بھی مقبولِ عام فکشن تخلیق کی جا سکتی ہے۔۔۔ اور یوں 1952 میں ابنِ صفی کے قلمی نام سے اُن کا پہلا ناول’دلیر مجرم‘ منظرِ عام پر آیا۔ اُسی سال ابنِ صفی پاکستان منتقل ہو گئے اور کراچی آکر بھی اپنے جاسوسی ناولوں کے مسودے الہ آباد بھیجتے رہے۔

’1953 میں جب ان کی عمر صرف پچیس برس تھی وہ برِصغیر میں اردو پڑھنے والوں کے حواس پر چھا چکے تھے۔ لوگ بے چینی سے ہر ماہ اُن کے ناول کا انتظار کرتے اور نو (9 ) آنے قیمت کا ناول کئی گنا قیمت پر خریدنے کو تیار ہو جاتے‘۔(صفہ 51 )

ابنِ صفی کے کام کو درست تناظر میں دیکھنے کے لیے راشد اشرف نے ایک پورا باب اُردو ناول اور اردو کے جاسوسی ادب پر تحریر کیا ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ابنِ صفی سے پہلے بھی اردو کا پاپولر ادب جاسوسی قصّوں سے خالی نہیں تھا بلکہ سِرّی ادب دو واضح ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے، اوّل: ظفر عمر اور اُن کے ہم عصروں کا دور اور دوم: تیرتھ رام فیروز پوری کا دور۔ راشد اشرف کے بقول آج ہم جاسوسی ادب کے تیسرے دور میں زندہ ہیں جو کہ بِلا شک و شبہہ ابنِ صفی کا دور ہے۔

جو لوگ نوجوانی میں’آنہ لائبریری‘ سے ابنِ صفی کے ناول حاصل کرتے رہے ہیں انھیں ایک اور نام بھی یاد ہوگا: اکرم الہِ آبادی۔ حمید اور فریدی کی طرح اُن کے کردار خان اور بالے بھی بہت مقبول ہوئے۔۔۔لیکن پھر اچانک اکرم الہ آبادی منظرِ عام سے غائب ہو گئے۔ آج نصف صدی کے بعد راشد اشرف کی کتاب کے ذریعے اکرم الہ آبادی کی گمشدگی کا راز بھی فاش ہوگیا۔

وہ لکھتے ہیں کہ’اکرم الہ آبادی طباع اور ذہین تھے لیکن علمی پس منظر کی کمی اور ادب سے لگاؤ نہ ہونے کے باعث اُن کے فن میں نہ تو بلندی پیدا ہوسکی اور نہ ہی رچاؤ‘۔

راشد اشرف نے ابنِ صفی کے ہندی اور انگریزی میں ہونے والے تراجم کا جائزہ بھی لیا ہے اور مصنف کی فلمی دنیا سے مختصر وابستگی کا ذکر بھی کیا ہے۔

ابنِ صفی کے لازوال کرداروں میں عمران، فریدی اور حمید کے نام سےتو سبھی واقف ہیں لیکن راشد اشرف نے پہلی بار جوزف مگونڈا، سِنگ ہی، تھریسا اور قاسم کے کرداروں کا بھی تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔

ابنِ صفی کی شاعری اور اُن کے طنز و مزاح کے لئے مصنف نے دو الگ ابواب مختص کیے ہیں اور ابنِ صفی کے نظریہء حیات پر بھی ایک پورا باب رقم کیا ہے۔

بعد میں آنے والے محقیقین کی سہولت کے لیے راشد اشرف نے جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے تمام تر ناولوں کی مکمل فہرست، تاریخِ اشاعت کے ساتھ درج کر دی ہے اور کتاب کے آخر میں ابنِ صفی کے فن اور شخصیت پر ہونے والے اُس قومی سمینار کی روداد بھی ایک ضمیمے کے طور پر شامل کر لی گئی ہے جو کہ گذشتہ برس دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں چودہ سے سولہ دسمبر تک منعقد ہوا تھا۔

ابنِ صفی کے پڑھنے والوں اور اُردو میں جاسوسی ادب کی تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک ناگزیر حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ تحقیق و تنقید کے جدید اصولوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مصنف نے ہر باب کے اختتام پر مفصل کتابیات فراہم کی ہیں جس سے کتاب کی افادیت سہ چند ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں