محبت کرنے اور مایوس ہونے والے نیرودا

Image caption زاہد امروز خود بھی شاعر ہیں اور 2009 میں ان کا شعری مجموعہ ’خود کشی کے موسم میں‘ شائع ہو چکا ہے

نام کتاب: محبت کی نظمیں اور بے بسی کا گیت

شاعر: پابلو نیرودا

مترجم: زاہد امروز

صفحات: 86

قیمت: 180 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

sanjhpks@gmail.com

یہ جملہ جو عام طور پر فلاں فلاں کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں، یہ دنیا میں اگر کچھ لوگوں کے بارے میں بجا طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے تو پابلو نیرودا ان میں سے ایک ضرور ہے۔ اس جملے میں جو تھوڑا سا شک کا شبہ سا ہے تو اس لیے ہے یہ دنیا ہے اور اس میں ہر طرح کے لوگ ہیں۔

عظیم پرتگالی ادیب ہوزے سراماگو کو جب 1998 میں نوبل انعام پیش کیا گیا تو ایک امریکی مبصر نے ان کے بارے میں لکھا کہ اب دنیا میں لوگ سراماگو کو یقیناً جان جائیں گے اور ان کی کتابوں کی فروخت میں اضافہ ہوگا۔

مجھے یقین ہے کہ اس امریکی مبصر کے لیے دنیا کا مطلب امریکہ ہی ہو گا۔ امریکیوں کی اکثریت یہی سمجھتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سراماگو کی عظمت اس کے جس کام کی وجہ سے ہے اسے وہ نوبل انعام سے خاصا پہلے کر چکا تھا۔ وہ 75 برس کا ہو چکا تھا اور نوبل انعام ملنے بعد اس کی صرف چھ کتابیں ایسی تھیں جن کا انگریزی میں ترجمہ ہوا۔

نوبل انعام سے بہت سال پہلے ہی سراماگو دنیا کے ان ادیبوں میں شامل ہو چکا تھا جنھیں نوبل انعام کا نہ ملنا خود نوبل انعام کی سیاسی مصلحت کوشیوں کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ سراماگو تو ایک کمیونسٹ تھا، ایک ایسا کمیونسٹ جو خود عقیدہ پرست کمیونسٹوں کو بھی قبول نہیں تھا تو دائیں بازو والوں کو کہاں سے قبول ہوتا لیکن نیرودا ایسا نہیں تھا۔

نیرودا بھی کمیونسٹ ہی تھا۔ اسے کمیونسٹ پارٹی چلی نے اپنا صدارتی امیدوار بھی بنایا تھا اور اس پر لینن انعام کی ’تہمت‘ بھی تھی لیکن اس کی شاعری کبھی بھی اُس طرح کی ترقی پسند نہیں ہو سکی جیسی کہ اردو کی ہے اور کچھ تو اپنے ’فیضِ علم‘ کے سبب اب تک کر رہے ہیں۔ لیکن اُن تمام ’عظیم‘ ترقی پسند نقادوں نے کبھی بھی اس مسئلے پر بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، نتیجہ سامنے ہے۔ فیض ان سارے ترقی پسندوں کو جیب میں ڈال کر چل دیے جن کا ڈنکا کبھی ایسا بجتا تھا کہ ان کے برابر فیض کا نام لینا بھی ممکن نہ تھا۔ یہی منٹو کے ساتھ ہوا۔ وہ ایسا ترقی پسند نکلا کہ سارا ترقی پسند اردو فکشن اس کے سامنے پانی بھرتا نظر آتا ہے حالانکہ کہ ترقی پسندوں نے اس کا حقہ پانی بند کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

نیرودا نے شاید یہ بات بہت شروع ہی میں محسوس کر لی تھی کہ ترقی پسندی انسانیت ہے اور انسانیت محبت۔ محبت کی اتنی ہی شکلیں ہیں جتنی انسانوں کی اور اس کا بیان اتنا ہی متنوع ہو سکتا ہے جتنا انسان ہے۔ اس کے ہاں انقلاب سیاسی موقف اور منشور نہیں محبت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے۔

نیرودا کے بارے میں یہ کہنا شاید زیادہ درست نہیں کہ اس نے کچھ سوچ سمجھ کر وضح کرنے کی ضرورت محسوس کی ہوگی۔ اس نے اظہار کے کسی پیرائے کو کبھی غلط یا درست میں تقسیم نہیں کیا۔ یہ تقسیم سیاسی مقاصد سے پیدا ہوتی ہے جب کہ نیرودا کی شاعری سیاسی مقاصد کے لیے کبھی تھی ہی نہیں۔ بس اس کا تصورِ حقیقت مختلف تھا، تصورِ حقیقت کو محسوس کرنے کا انداز جدا تھا، اسی لیے اسے بیان کرنے کا طریقہ بھی۔ ایسا نہیں لگتا کہ اس نے کبھی اپنی شاعری کو عام فہم بنانے یا اس میں نعرے کی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی ہوگی۔

اس کی نظمیں جو زاہد امروز نے اردو میں کی ہیں انگریزی میں Twenty love poems and song of despair کے نام سے شائع ہوئیں۔ اس شعری مجموعے نے پہلی ہسپانوی میں اور پھرانگریزی میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

ان نظموں کی لغت موجودہ اردو سے بہت مختلف ہے۔ موجودہ میں نے اس لیے کہا ہے کہ ہم بتدریج جس ثقافتی گھٹن کا شکار ہوتے جا رہے ہیں اردو بھی اس کی اسیر ہے۔ اس کا سبب غالباً وہ منافقت ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے اس وجود کو چھپاتا چلا جاتا ہے جو وہ ہوتا ہے۔ لیکن نیرودا کا زمانہ اور معاشرہ کم از کم ایسے عذاب سے آزاد تھا، اس لیے اس کی زبان بھی آزاد تھی۔ اسے اپنی محبوبہ اور زمین میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا تھا، اس کے لیے تھا بھی نہیں۔ یہ بات اس کی محبوبہ کی محسوسات کا ہی نہیں اس کے پڑھنے والوں کی محسوسات کا بھی حصہ تھی۔

جہاں تک اس ترجمے کا تعلق ہے یہ پہلے زاہد امروز کی شاعری ہے اور پھر نیرودا کی۔ ترجمے میں متن مترجم کے لیے ایک ایسی حقیقت ہوتا ہے جو اس کے تجربے کا حصہ بنتی ہے اس کے بعد اس ہی وہ اُسے اپنی زبان میں بیان کرتا ہے۔ جیسا بیان کرنے والا ہوتا ہے حقیقت کا اظہار بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔

زاہد امروز تک یہ حقیقت ایک اور زبان اور لکھنے والے کے ہاتھوں سے ہوتی ہوئی پہنچی ہے، آپ چاہیں تو اسے تجربے کے تجربے کے تجربے کا بیان یا اظہار کہہ سکتے ہیں۔

مجھے ان نظموں کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوا ہے کہ زاہد نے پوری آزادی نہیں لی اور انگریزی متن سے قریب رہنے کی کوشش کی ہے اس لیے مجھے رابرٹ فراسٹ کی یہ بات یاد آتی رہی کہ ترجمہ میں جو چیز ترجمے سے باہر رہ جاتی ہے وہ شاعری ہوتی ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ جب آپ یہ نظمیں پڑھیں گے اور اپنی محسوسات کی زبان سے اسے اپنے لیے شاعری بنائیں گے تو اس میں جس نیرودا سے آپ کی ملاقات ہو گی وہ کہاں کھڑا ہو گا اور کہاں ہو گی وہ دنیا جسے ہم نیرودا کی دنیا سمجھتے ہیں۔ لیکن آپ اس کی داد تو ضرور دیں گے کہ زاہد امروز نے آپ کو نیرودا سے ملانے اور اس کی دنیا میں لے جانے کو کوشش تو کی ہے۔ جنھیں ان کی یہ کوشش اچھی نہ لگے وہ اس کام کو خود کر کے دیکھ لیں یہ دروازہ تو ہمیشہ کھلا رہے گا۔

زاہد امروز خود بھی شاعر ہیں اور 2009 میں ان کا شعری مجموعہ ’خود کشی کے موسم میں‘ شائع ہو چکا ہے۔

اسی بارے میں