پانچ فلمیں جن کی ’ہیپی اینڈنگ‘ نہ تھی

پچیس سال پہلے 29 اپریل کو ہندی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ ریلیز ہوئی تھی۔

منصور خان کی طرف سے ہدایت کی گئی اس رومانی ہندی فلم میں عامر خان اور جوہی چاولہ کی جوڑی کو ڈھیر سارے پرستار ملے، ساتھ ہی اس فلم کے المناک آخر نے کئی عورتوں کے آنکھوں میں آنسو بھی لا دیے۔

فلم کے آخر میں دونوں محبت کرنے والوں کی موت ہو جاتی ہے جو رومانٹک فلموں میں اکثر خوشگوار آخر دیکھنے والوں کے لیے ایک دھچکا تھا۔

ہندی سینما میں رومانٹک فلموں کا بول بالا رہا ہے جہاں ’ہیپی اینڈنگ‘ نہ ہو تو ناظرین کو فلم پیسہ وصول نہیں لگتی۔

اس کے باوجود کچھ محبت کہانیاں بنی، جن میں ہیرو ہیروئین کا بچھڑنا دکھایا گیا اور ناظرین نے اسے پچايا بھی۔

مغل اعظم

مغلِ اعظم میں مدھوبالا اور دلیپ کمار کی ہٹ جوڑی تھی۔

1960 میں بنی آصف کی فلم مغل اعظم کا آخر پہلے ہی معلوم ہونے کے باوجود ناظرین کو بہت جذباتی کر دیتا ہے۔

انارکلی اور سلیم کو مبینہ طور پر الگ کرنے کی اکبر کی کوشش کا ذکر تاریخ میں کیا گیا ہے۔

فلم کے آخر میں انارکلی کو دیوار میں چنوا دیا جاتا ہے۔ لیکن پھر یہ بھی بتایا گیا کہ اکبر نے انار کلی کو سلیم سے کبھی نہ ملنے کا وعدہ لے کر پیچھے کی غار سے اسے ہمیشہ کے لیے غائب کر دیا۔

انارکلی بچ گئی لیکن سلیم سے کبھی نہیں مل پانے کا غم ناظرین اپنے ساتھ تھیٹر کے باہر تک لے کر گئے۔

دیوداس

دیوداس ناول پر تین بار ہندی فلم بن چکی ہے۔ شردچدر چٹوپادھيائي کے ناول پر مبنی اس فلم کو ہندی میں تین بار بنایا گیا۔

1936 میں سہگل، 1955 میں دلیپ کمار اور 2002 میں شاہ رخ خان نے دیوداس کا کردار ادا کیا۔

کردار کے لحاظ سے ہر نسل کو اپنے وقت کا دیوداس پسند آتا ہے لیکن جہاں تک فلم کے آخر کی بات ہے تو دیوداس کو پارو کے گھر کے سامنے دم توڑ رومانٹک فلم دیکھنے والوں کے دل میں ہر وقت ایک درد پیدا کرتا ہے۔

ایک دوجے کے لیے

1981 میں کے بالاچدر کی طرف سے بنائی گئی اس فلم میں کمل حسن اور رت اگنہوتري کے درمیان کی كیمسٹري نے پردے پر کمال کر دیا تھا۔

کمل اور رت کی طرف سے ادا کیے گئے کرداروں سے ناظرین بھی محبت کر بیٹھتے ہیں اور شاید اس فلم کے آخر میں جب ہیرو ہیروئین خودکشی کرتے ہیں تو فلم دیکھنے والوں کو محبت کے دشمن، اپنے دشمن لگنے لگ جاتے ہیں۔

صدمہ

کمل حسن کی ایک اور فلم جو 1983 میں آئی تھی جس کے ڈائریکٹر بالو مہندر تھے۔

فلم میں کمل اور سری دیوی کے درمیان محبت کو ڈائریکٹر نے ایک نئے نظریے کے ساتھ دکھایا ہے۔

ایک حادثے میں اپنی یاداشت کھو چکی نیہلتا کو سومو نے سہارا دیا ہے۔ ایک بچے کی طرح ہو چکی نیہلتا کی دیکھ بھال کرتے ہوئے سومو کو اس کی عادت سی ہو گئی۔ لیکن نیہلتا کی یادداشت واپس آتے ہی وہ سومو کو بھول گئی۔

یہ سننے میں جتنا آسان لگ رہا ہے فلم کا آخر اتنا ہی رلا دینے والا ہے۔ ٹرین میں بیٹھی سری دیوی کو اپنی یاد دلانے کی کوشش کرتے کمل حسن کو دیکھتے ہوئے کئی لوگ ابھی بھی جذباتی ہو جاتے ہیں اور آنسو پوچھنے کے لیے ایک رومال بھی کم پڑ جاتی ہے۔

قیامت سے قیامت تک

ہندی رومانٹک فلموں کی بات ہو تو اس فلم کا ذکر ہونا لازمی ہے۔ منصور خان کی اس فلم کے نغمے آج بھی مشہور ہیں۔

عامر خان اور خوبصورت جوہی چاولہ، کالج جانے والے لڑکے لڑکیوں کے دل پر راتوں رات راج کرنے لگے تھے۔

ہیرو ہیروئین کا خاندان ان کی محبت کے خلاف ہے جس کے باوجود دونوں شادی کر لیتے ہیں۔ فلم کے آخر میں جوہی چاولہ کے کردار کو گولی لگتی ہے جس کے بعد عامر بھی خودکشی کر لیتا ہے۔

مکمل سین دیکھتے ہوئے ذہن میں بس ایک ہی بات چلتی ہے کہ بس کیسے بھی کرکے دونوں بچ جائیں۔

ان پانچ فلموں کے علاوہ اور بھی کئی ہندی رومانٹک فلمز ہے جسے دیکھ کر کبھی ناظرین جذباتی ہو گئے تو کبھی خود کی لو سٹوری کو یاد کرنے پر مجبور ہو گئے۔