ہماری کوئی اپنی شناخت نہیں ہے: احمد رشید

Image caption افتتاحی تقریب میں سٹیج پر آصف فرخی (منتظم)، امینہ سید (منتظم) اور کاملہ شمسی (ناول نگار)

پاکستان کے شہروں کراچی اور لاہور میں دھومیں مچانے کے بعد آکسفرڈ ادبی میلے نے اسلام آباد کا رخ کیا اور یہاں بھی اپنا سکہ جما دیا۔ اس دو روزہ ادبی میلے کے پہلے روز ملک بھر کے نامور ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں نے اپنی تخلیقات اور خیالات کا اظہار کیا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے باسیوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان شائقینِ ادب میں ریٹائرڈ فوجی افسر، صحافی، وکلاء، طلبہ اور معاشرے کے دوسرے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے ہر عمر کے افراد، حتیٰ کہ درجنوں غیر ملکی بھی شامل تھے۔

میلے کے ابتدائی اجلاس میں ایک کا عنوان تھا، ’پشتو شاعری کی نئی آوازیں‘۔ اس میں امجد شہزاد، زبیر حسرت، عارف تبسم اور محب وزیر نے شرکت کی۔ سیشن کے صدر راج ولی خٹک نے آغاز میں ایک شعر سنا کر سیشن کا رخ متعین کر دیا:

پھولوں کے باغ بارود میں جھلس گئے ہیںتمھاری کلائیاں گجروں سے عاری ہیں

انھوں نے کہا کہ پشتو شعراء اور ادبا کو اپنے خارج میں اتنے مسائل کا سامنا ہے کہ انھیں داخل کی طرف توجہ کرنے کی فرصت نہیں ملتی۔

نئے پشتو شاعر زبیر حسرت نے بم دھماکوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے پس منظر میں شعر سنایا:

پہلے لاش ہوتی تھی لیکن اسے کفن نہیں ملتا تھااب کفن ہوتا ہے لیکن اسے لاش نہیں ملتی

اس موقعے پر وزیرستان سے تعلق رکھنے والے شاعر محب وزیر اور بلوچستان سے آئے شاعر عارف تبسم نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

میلے کے پہلے دن چھ اجلاس ایسے تھے جن کا ادب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ایسا ہی ایک اجلاس مشہور صحافی اور ’طالبان‘ نامی کتاب کے مصنف احمد رشید کے ساتھ ایک مذاکرہ تھا۔ پہلے دن کے اس کامیاب ترین اجلاس میں حاضرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

احمد رشید نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری کوئی اپنی شناخت نہیں ہے۔ ’حکمران ہمیں بیرونی خطرات سے ڈرا دھمکا کر ملک کی شناخت قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن اس میں اب تک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘

انھوں نے دہشت گردی کے مسئلے کے بارے میں کہا کہ ملک میں صرف دس یا بارہ ایسے مدارس ہیں جہاں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی تربیت دی جاتی ہے، لیکن حکمرانوں اور فوج نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی کوشش نہیں کی۔

انھوں نے معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی اہم جغرافیائی محل وقوع کا فائدہ اٹھا کر توانائی اور تجارت کی شاہراہ بن سکتے تھے، لیکن گذشتہ حکومتوں کی ناقص کارکردگی کے باعث ہم تقریباً دیوالیہ ہو چکے ہیں۔

احمد رشید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان حالات کی ذمے دار بڑی حد تک فوج ہے، لیکن آج تک کسی سویلین سیاست دان کو بھی یہ کہنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ ’جنرل صاحب، یہ نہیں چلے گا‘۔

تاہم آخر میں انھوں نے کہا کہ وہ پوری طرح سے مایوس نہیں ہیں۔ انھوں نے اپنی تازہ کتاب کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ میں نے اس کا نام ’پاکستان کنارے پر‘ (Pakistan on the Brink) رکھا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس اب بھی کنارے سے پلٹنے کا وقت ہے۔

کھانے کے وقفے کا بعد اجلاسوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔

میں نے سنگم ہال کا رخ کیا جس میں حمیدہ کھوڑو، اشرف جہانگیر قاضی، عاصم سجاد اختر اور غازی صلاح الدین سٹیج پر جلوہ گر تھے، اور اجلاس کا عنوان تھا، ’خاندانی سیاست‘۔

حمیدہ کھوڑو اور غازی صلاح الدین نے اجلاس کے آغاز ہی میں کہہ دیا کہ خاندانی سیاست صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں ہے، بلکہ برطانیہ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی کئی خاندان ایسے ہیں جو نسل در نسل سیاست سے وابستہ ہیں۔

غازی صلاح الدین نے کہا کہ عوام کو ایک قابلِ شناخت ہیرو کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کوئی مقبول اور کرشماتی رہنما دنیا سے گزر جاتا ہے تو عوام اس کی تصویر کو اس کے خاندان کے کسی اور فرد کے ساتھ وابستہ کر دیتے ہیں، اور یوں یہ سلسلہ آگے چلتا رہتا ہے۔

انھوں نے ڈرامہ نگار بریخت کے ایک ڈرامے کا مکالمہ سنایا:

ایک کردار سائنس دان گلیلیو سے: کتنا خوش نصیب ہے وہ ملک جس میں آپ جیسا ہیرو ہو۔

گلیلیو: کتنا بدنصیب ہے وہ ملک جسے ہیرو کی ضرورت ہو۔

تاہم اس موقعے پر قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسر عاصم سجاد نے بقولِ شخصے، مشاعرہ لوٹ لیا۔ جب انھوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی خانوادہ فوج ہے تو حاضرین نے بالکل کسی مشاعرے کی طرح تالیاں بجا کر انھیں داد دی۔

پروفیسر عاصم نے کہا کہ کسی سیاسی خانوادے کی جتنی خصوصیات ہوتی ہیں، وہ سب کی سب فوج میں موجود ہیں۔ نہ صرف وہ دوسرے سیاسی خاندانوں کی طرح طاقت اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں بلکہ یہ طاقت اسی ’خاندان‘ کی اگلی نسلوں تک منتقل بھی ہوتی رہتی ہے۔

ایک اور دلچسپ اجلاس پاکستان میں یو ٹیوب کی بندش کے بارے میں تھا۔ اس اجلاس میں عثمان خالد بٹ، رضا رومی، تیمور رحمٰن اور میوزک بینڈ ’بے غیرت بریگیڈ‘ کے علی آفتاب سعید نے شرکت کی۔

عثمان نے کہا کہ یوٹیوب عوام تک پہنچنے کا ذریعہ تھا لیکن اس پر بندش نے ہم سے ہماری زبان چھین لی ہے۔

گلوکار اور سماجی کارکن تیمور نے کہا کہ یورپ میں چھاپہ خانہ پندرہویں صدی میں ایجاد ہو گیا تھا۔ جب یہ ایجاد ترکی پہنچی تو انھوں نے اس پر پابندی لگا دی کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ اسلامی دنیا میں صرف ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابوں ہی کو رہنا چاہیے، چھاپہ خانہ مغرب کی ایجاد ہے اور اس کے ذریعے اسلامی کتابوں بالخصوص قرآن کی اشاعت کفر کے مترادف ہے۔

تیمور نے کہا کہ ترکی میں تین سو سال تک چھاپہ خانے پر پابندی برقرار رہی، اس دوران یورپ تین صدیاں آگے نکل گیا جب کہ ترکی جہاں کھڑا تھا، وہیں رہا۔

تیمور نے اس مثال کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں یوٹیوب پر پابندی بھی بے حد خطرناک ہے کیوں کہ یوٹیوب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اس میں دنیا بھر کا علمی خزانہ بھی محفوظ ہے جس سے ہر کوئی مفت استفادہ کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں