اب مزدوروں پر مبنی فلمیں کیوں نہیں؟

دو بیگھہ زمین
Image caption دو بیگھہ زمین میں رکشہ چلانے والے مزدور کے مسائل پیش کیا گیا ہے

ہندوستانی سینما میں اوسطاً ہزار فلمیں سالانہ بنتی ہیں لیکن ان میں مزدوروں پر مبنی فلم نہ کے برابر ہوتی ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

فلم ’دو بیگھہ زمین‘ کے شمبھو مہتو کو سواری پیسوں کا لالچ دیتی ہے اور وہ اپنے رکشے کو مزید تیزی سے کھینچتا ہے مزید پیسوں کا لالچ دیا جاتا ہے اور وہ مزید کوشش کرتا ہے۔

ہدایت کار بمل رائے اور اداکار بلراج ساہنی کی اس فلم نے ایک مزدور کی جدوجہد اور اس کی مجبوری کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔

بي آر چوپڑہ کی ’نیا دور‘ سے لے کر راکیش روشن کی ’کوئلہ‘ تک مزدوروں کے حالات اور مسائل کو کبھی سنجیدہ سنیما تو کبھی کمرشل فلم کے ذریعے دکھایا جاتا رہا ہے۔

لیکن گزشتہ کچھ سالوں کے صفحات پلٹیں تو مزدوروں پر مبنی مین سٹریم فلمیں تقریباً نہ کے برابر نظر آتی ہیں۔

شہنشاہ جذبات کے نام سے معروف دلپ کمار نے اپنے کریئر کی کئی فلموں میں مزدور کا کردار ادا کیا ہے۔ خواہ وہ ’پیغام‘ ہو یا پھر ’نیا دور‘ یا چائے کے باغات میں کام کرنے والا سگينہ مہتو ہو یا پھر مزدور فلم کا کردار ہو۔

لیکن کیا یہی توقع آج کے نامور اداکاروں سے بھی کی جا سکتی ہے؟

رنبیر کپور یا سلمان خان کو کبھی قلی یا رکشہ چلانے والے رول کیوں نہیں ملتے اور اگر ملیں بھی تو کیا وہ اسے ادا کر پائیں گے؟

’دو بیگھہ زمین‘ میں رکشا کھینچنے کے کردار کے لیے بلراج ساہنی نے کلکتہ جاکر رکشہ چلانا سیکھا۔ یہاں تک کی ہاتھ سے رکشہ چلانے والوں سے بات کرکے انہیں یہ بات سمجھ آئی کہ فلم کی کہانی، اصلیت کے واقعی قریب ہے۔

ایک بار بی بی سی سے بات چیت میں شو مین کہے جانے والے راج کپور نے یہ بات تسلیم کی تھی کہ کاش انہوں نے دو بیگھہ زمین جیسی فلم بنائی ہوتی۔

راج کپور نے کہا تھا: ’اس فلم کو دیکھنے کے بعد میں نے سوچا کہ میں یہ کیا سر کے بل کھڑے ہو کر ناچ گانے جیسی فلمیں بناتا ہوں، میں کیوں ایسی فلمیں نہیں بناتا؟‘

Image caption نیا دور میں دلیپ کمار تانگہ چلانے والے ہیں اور مزدور اور مشین کی دوڑ فلم میں پیش ہے

بمل رائے اور ستیہ جیت رے جیسے ہدایتکاروں کی طرف سے كاشتکاروں اور مزدوروں کے مسائل پر جس طرح سے فلمیں بنائی گئیں اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا فی الحال ایسے حساس فلمساز اور فنکاروں کی کمی تو نہیں؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے معروف سکرپٹ رائٹر سلیم نے کہا: ’پہلے کے فلم والے قابل ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم یافتہ بھی ہوتے تھے پھر وہ ابرار علوی ہوں یا پھر ساحر لدھيانوي جیسے نغمہ نگار۔ پہلے ہاتھوں میں کتاب ہوتی تھی، اب ہدایت کار ڈی وی ڈی لے کر گھومتے ہیں۔ مزدوری جیسے موضوع کی سمجھ کہاں سے آئے گی؟‘

فلم ساز شیام بینیگل کا کہنا ہے ’اب مزدور کے مسائل اہم نہیں رہے۔ اس زمانے میں جن مسائل پر فلمیں بنا کرتی تھیں اب وہ رہ کہاں گئے؟ ترقی کے ساتھ موضوع بھی بدل گئے ہیں۔‘

سنہ 1970 کی دہائی میں امیتابھ بچن جیسے سپر اسٹار کو لے کر ’قلی‘ بنائی گئی تھی جو ایک ہٹ فلم ثابت ہوئی لیکن یہ امیتابھ کے کردار پر زیادہ مرکوز تھی اور قلیوں کے مسائل فلم کے پس منظر کا حصہ بن کر رہ گئے تھے۔

موجودہ کی فلموں میں مزدوری جیسے پیشے سے کہانی کو آگے بڑھانے والے کردار کم ہی دکھائے جاتے ہیں۔

Image caption فلم قلی میں امیتابھ بچن نے ایک قلی کا کردار نبھایا ہے

ماہر سماجیات پروفیسر پشپیش پنت کے مطابق: ’کھیتی سے بے دخل ہو کر راجستھان، بہار سے شہروں میں آ کر تعمیر کے کام میں لگے مزدوروں کو آپ نظر انداز کردیتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے شہروں پر ایک بدنما داغ سمجھا جاتا ہے۔ آپ اس پر ایک خوبصورت چست فلم بنا تو سکتے ہیں لیکن اسے دیکھے گا کون میلےكچیلے مزدور کی طرف کوئی دیکھنا ہی پسند نہیں کرے گا کیونکہ یعنی محنت کا وقار جیسی چیز اب بچی ہی کہاں ہے۔‘

فلم ناقد اندو میراني بھی مانتی ہیں کہ ’ہندی فلموں کو دیکھنے والا ایک بہت بڑا طبقہ بیرون میں رہتا ہے جنہیں خوش کرنے کے لیےاگر مزدور دکھایا جائے گا تو یہ چل نہیں پائے گا۔ آپ اس میں گلیمر تو دکھا نہیں سکتے، وہ فلم چمکدار نہیں ہوگی، اسے انتہائی عام طریقے سے دکھانا پڑے گا جس سے تعریف تو مل جائے لیکن پیسے نہیں کمائے جا سکتے۔‘

مجموعی طور مزدوری شوق سے نہیں کی جاتی ہے لیکن فلم تو شوق سے ہی بنتی ہے مجبوری سے نہیں۔

اسی بارے میں