ہندوستانی سینما میں مزاح

جانی واکر
Image caption جانی واکر کو فلموں میں گرو دت لائے تھے۔

’سر جو تیرا چکرائے یا دل ڈوبا جائے۔۔۔‘ تو پھر جانی واکر کیوں نہ یاد آئے۔ یا پھر ’مری جان اپنے عاشق کو ستانا کس سے سیکھا ہے‘ کے بندہ دین گھائل کی پینگیں نظر میں کیوں نہ سمائیں۔

ہندوستانی فلموں کے سو سالہ سفر پر اگر سرسری نظر بھی ڈالیں تو کامیڈی کا میدان انتہائی شوخ دلچسپ اور سرسبز نظر آتا ہے۔ یہاں ہمیں ہر طرح کی کامیڈی بیک وقت نظر آتی ہے مگر ان میں رومانوی کامیڈی کا ہر دور میں تسلط رہا ہے۔

سچ پوچھیں تو ہندوستانی سنیما مزاح کی غذا پر پلا بڑھا اور پروان چڑھا ہے۔ یہاں تک کہ سنجیدہ فلموں میں بھی مزاح کی گنجائش پیدا کی جاتی ہے اور ایک طرح کا کامک ریلیف دیا جاتا ہے۔

اپنی خوشی کے ساتھ مرا غم نباہ دو - اتنا ہنسو کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑے

اسی بات کو بیان کرتے ہوئے معروف اداکار امیتابھ بچن نے ایک بار ہندوستانی فلموں کے بارے میں کہا تھا کہ جب ہم فلم دیکھ کر نکلیں تو ہماری آنکھیں پرنم ہوں اور زیرلب تبسم ہو۔

ہندوستانی سنیما ایک ایسے سماج کا عکاس ہے جس میں ہر طرح کے ماحول میں تقریبات، تفریحات اور نشاط کا عنصر تلاش کر لیا جاتا ہے۔

Image caption کشور کمار کی بیشتر فلمیں کامیڈی ہی تھیں ان کی مدھو بالا کے ساتھ کئی معروف فلمیں ہیں

واضح رہے کہ ہندوستان میں پہلی فلم بنانے والی شخصیت اور سرکردہ ہدایتکار دادا صاحب پھالکے اور دھیرندر ناتھ گنگولی کی فلموں میں کامیڈی کے عناصر کافی نظر آتے تھے۔

بطور ہدایت کار گانگولی کی پہلی ہی فلم لیڈی ٹیچر‘ موضوع کے اعتبار سے ہی ہنسانے کے لیے کافی ہے۔ ان کی چند فلمیں ’دا میرج ٹانک‘، ’چنتا منی‘، ’نائٹ بر‘، ’ایکسکیوز می سر‘، اور ’کارٹو‘ اپنے نام سے ہی مزاحیہ ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔

کامیڈین گوپ اور یعقوب تو اپنے زمانے میں فلموں کی جان ہوتے تھے۔ گوپ نے فلم ’انسان یا شیطان‘ سے اپنی اداکاری شروع اور دلیپ کمار اور مدھوبالا کی فلم ترانہ میں منفی کردار کو بھی مزاحیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ کراچی میں پیدا ہونے والے گوپ کی فلموں میں ’ہندوستان ہمارا‘، ’پتنگا‘، ’مرزا صاحبان‘ اور ’چوری چوری‘ جیسی مقبول ترین فلم شامل ہے۔

پہلی گویا فلم ’عالم آرا‘ کے بعد کے زمانے میں نور محمد چارلي اپنی برش جیسی مونچھوں کے ساتھ بھارت کے چارلي چیپلن سمجھے جاتے تھے۔ ان کی مشہور فلموں میں ’پریمی پاگل‘، ’طوفان میل‘، ’کالج گرل‘، ’رات کی رانی‘ اور ’سیکرٹری‘ وغیرہ شامل ہیں۔

ہندوستانی سنیما میں کامیڈی کی خوبی یہ ہے کہ ہیرو ہیروئن والی اصل کہانی کے ساتھ ساتھ کامیڈینز کی اپنی کہانی بھی متوازی سطح پر چلتی رہتی ہے۔ ان میں کیریکٹر ایكٹر یا کامیڈین ایسے ہوتے ہیں جو عام طور پر دیکھنے میں ہی عجیب الخلقت ہوتے ہیں۔

Image caption مدھوبالا نے کئی فلموں میں مزاحیہ کردار کیے ہیں ان کی فلموں میں مزاح کے پل ملتے ہیں۔

ایسے ہی انتہائی مقبول لوگوں میں سے ایک بدرالدين جمال الدین قاضی یعنی جانی واکر ہیں جنہوں نے گرو دت کی بہت سی فلموں جیسے ’آر پار‘، ’مسٹر اور مسز 55‘ میں کامیڈین کا کردار ادا کیا ہے اسی طرح ’پیاسا‘ اور ’کاغذ کے پھول‘ جیسی سنجیدہ فلموں میں بھی وہ کافی مقبول رہے۔ انھوں نے دلیپ کمار جیسے سنجیدہ اداکار کو کنٹراسٹ پیدا کر کے مزید سنجیدگی عطا کی اور ان پر محمد رفیع جیسے بڑے گلوکار کی آواز میں گیت بھی فلمائے گئے۔

دیگر مزاحیہ اداکاروں میں آئی ایس جوہر شامل ہیں جو کہ بین الاقوامی فلموں کے کام کرنے والے بھارت کے چند پہلے اداکاروں میں سے ہیں۔ اسی طرح بہت چھوٹے قد کے مقری ہیں جو کہ فلموں میں پٹائی کھانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

محمود، جگدیپ، اسرانی اور کیشٹو مکھرجی کا اپنا ایک دور رہا ہے۔ محمود نے بہت سی فلموں میں لیڈ رول کیا ہے اور ان کی فلموں ’پڑوسن‘، ’دو پھول‘، ’جنی اور جانی‘ وغیرہ شامل ہیں۔

کامیڈینز کے علاوہ اہم اداکاروں نے بھی مزاحیہ کردار نبھانے کی کوشش کی ہے اور ان میں سے ایک راج کپور ہیں جنہوں نے چارلي چیپلن کے ہی انداز میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ انھوں نے ’میرا نام جوکر‘، ’اناڑی‘، جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘ جیسی فلمیں دی ہیں۔

ہندوستانی فلم کی تاریخ میں کشور کمار زبردست صلاحیت کے مالک ہیں وہ اپنے گیتوں میں ہر قسم کے جذبات کو پیش کرنے کی صلاحیت تو رکھتے ہی تھے لیکن جب وہ اداکاری کرتے تھے تو عام طور پر مزاحیہ کردار ادا کر رہے ہوتے تھے۔ ان کی فلمیں چلتی کا نام گاڑی‘ اور ’پڑوسن‘ ہندی سنیما کی چند سب سے مزاحیہ فلموں میں شامل ہیں۔ وہ مختلف قسموں کے ہنسی مذاق، دھونگ، سوانگ، ٹھگی، بھانڈ، سب طرح کے کردار ادا کر سکتے تھے اور اپنی حاضر جوابی اور نغمگی سے لیس مزاح کے لیے کافی مشہور ہوئے۔

Image caption دلیپ کمار نے ہر قسم کے کردار نبھائے ہیں شہزادے سے لے کر گنوار تک

ٹریجڈي کنگ دلیپ کمار نے فلم ’رام اور شیام‘ میں اپنی مزاحیہ اداکاری سے سب کو حیران کر دیا، ان میں یہ جوہر فلم ’آزاد‘، ’گوپی‘، ’کوہ نور‘ میں بھی نظر آتا ہے۔ امیتابھ بچن نے بھی اچھی مزاحیہ اداکاری کی ہے اور ان کی مزاحیہ فلموں میں ’امر اکبر اینتھوني‘، ’مسٹر نٹورلال‘، ’قلی‘، ’نمک ہلال‘، ’ستے پہ ستا‘ وغیرہ شامل ہیں۔

انیس سو نوے اور 2000 کی دہائیوں کےسب سے مقبول مزاحیہ اداكاروں میں گوندا آتے ہیں وہ ہر قسم کی تفریح کا سامان بہم پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی زیادہ تر فلموں کی ہدایت ڈیوڈ دھون نے دی ہے۔ گووندا کے کردار کو اکثر قادر خان کے مکالموں اور برجستہ جملوں کا سہارا ملتا رہا ہے۔

آج بہت سارے ایکشن ہيرو بھی کامیڈی کی جانب كاميابي کے ساتھ آئے ہیں ان میں اکشے کمار بھی شامل ہیں جنہوں نے ’سنگھ از کنگ‘، ’ہاؤس فل‘، ’بھول بھلیياں‘ میں مزاحیہ اداکاری کی ہے۔ فلم انڈسٹری کے کچھ بڑے ذہین اداکاروں جیسے پریش راول، انوپم کھیر، بومن ایرانی وغیرہ نے بھی کامیڈی کی مقبولیت کے پیش نظر ادھر کا رخ کیا۔ یہاں تک کہ اوم پوری اور نصیرالدین شاہ جیسے سنجیدہ اداکار بھی کامیڈی کی راہ پر چل پڑے۔

سلمان خان کو بنیادی طور پر ایک ایکشن ہیرو کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن 1994 ء میں آنے والی فلم ’انداز اپنا اپنا‘ میں انہوں نے کامیڈی کی ہے۔ ان کی فلموں میں ایكشن، رومانس کے ساتھ ساتھ کامیڈی بھی ہوتی ہے جن میں ’دبنگ‘ شامل ہے اور وہ باکس آفس پر کافی كامياب ہیں۔ اس کے علاوہ شاہ رخ خان کی زیادہ تر ہٹ فلمیں رومانوی کامیڈی کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں۔

Image caption راج کپور نے میرا نام جوکر تو بنائی ہی لیکن وہ اپنے چارلی چیپلن انداز کے لیے جانے جاتے ہیں

شاید آج کے زمانے میں مزاحیہ اداکاری کے بغیر ہندی فلم سٹار بننا ناممکن ہے اور وہ بھی ایسی مزاحیہ اداکاری جو پہلے سے موجود نہ ہو۔

ہندوستانی سنیما میں کامیڈی بنیادی طور سے مردوں پر مبنی ہے اور کامیڈی کرنے والی بہت ہی کم خواتین ہیں۔ رومانوی مزاحیہ اداکاراؤں میں مینا شوري یعنی ’لارا لپپا‘، گیتا بالی، مدھوبالا، ہیما مالني (سیتا اور گیتا) اور سری دیوی وغیرہ ہیں۔ فلم ’مسٹر انڈیا‘ میں شري دیوي نے اپنی مزاحیہ اداکاری کا جوہر دکھایا۔ اوما دیوی یعنی ٹٹن اور منورما اپنے مضحکہ خیز تصور کے ساتھ فلموں میں کامیڈی لاتی ہیں۔

فرح خان نے ہندی فلموں میں جنس کی لکیر کو توڑا ہے اور انہوں نے ایک ہدایت کار کے طور پر’اوم شانتی اوم‘ جیسی فلم دی ہے جس میں ہندی فلم میں موجود ہر طرح کے مزاح کی نقل پیش کی گئی ہے۔

کئی ہدایت کاروں کی فلموں میں مزاح کے کچھ پل ہیں لیکن ریشیکیش مکھرجی کو ان کی ہلکی - پھلکی کامیڈی کے لیے کافی پسند کیا جاتا ہے، چاہے وہ راج کپور کو ’اناڑی‘ میں ہدایت دے رہے ہوں یا دھرمیندر کو ’چپکے چپکے‘ کے ہندی بولنے والے واہن چالک (ٹیکسی ڈرائیور) کے لیے ان کی فلم ’گول مال‘ میں امول پالیكر نے ہنسا ہنسا کر مار ڈالنے والا ڈبل رول کیا ہے۔

سي پرانجپے کی فلم ’چشم بددور‘ کامیڈی میں میل کا پتھر مانی جاتی ہے اور یہ 80 کی دہائی میں فلموں میں آئی نئی لہر میں بھی کافی مقبول رہی تھی۔ اسی زمانے میں کندن شاہ کہ زبردست کامیڈی فلم ’جانے بھی دو یارو‘ آئی جس میں یورپی فلم کی طرز پر طنز اور سوانگ کا مخلوط رنگ نظر آتا ہے اور اس فلم میں مہابھارت کا سوانگ رچايا گیا تھا۔

Image caption اکشے کمار کی جوکر زیادہ بزنس نہیں کر سکی۔

گزشتہ دو دہائیوں میں باکس آفس پر ہٹ ہونے والی اہم فلموں میں بہت سی کامیڈی ہیں خاص طور سے ڈیوڈ دھون کی فلم جس میں گوندا اور پريہ درشن نے ان کے ساتھ کام کیا ہے۔ سنیل شیٹی، اکشے کمار اور پریش راول کی کامیڈی ’ہیرا پھیری‘ اور اس کے سیکوئل کو کون بھول سکتا ہے۔

راجکمار ہیراني تو فلموں میں ایک خاص مقصد کے تحت مزاح لائے ہیں۔ انہوں نے ہندی سنیما کو منّا بھائی جیسا کردار دیا ہے۔ یہاں بھی ہم ایكشن ہیرو کو مزاحیہ اداکار بنتے دیکھتے ہیں جس میں سنجے دت منّا بھائی ہیں اور ارشد وارثی سرکٹ کے طور پر ان کا میاں خوجی ہے۔ ہیراني کی فلم ’تھری اڈيٹس‘ سدا بہار فلموں میں سے ایک ہے جو کہ سماجی پیغام کے ساتھ ایک مزاحیہ فلم ہے اور اس میں عامر خان نے اداکاری کی ہے۔ عامر خان نے ابھی حال ہی میں دو کامیڈی فلمیں پیش کی ہیں جن میں ’پيپلي لائیو‘ اور ’ڈیلی بیلی‘ شامل ہے. پيپلي براہ راست میڈیا پر طنز ہے۔

غرض کہ ہم شروع سے آج تک اگر سرسری نگاہ بھی ڈالیں تو ہمیں ہندی فلموں کا گلشن ترنم کے ساتھ ساتھ تبسم سے پر نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں