کانز فلمی میلہ اور فخر کی بنیاد

بامبے ٹاکیز
Image caption بامبے ٹاکیز کو فلم فیسٹیول میں مدعو کیا گیا ہے اور اس میں نوازالدین صدیقی کا اہم کردار ہے

ان دنوں کانز فلم فیسٹیول کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور اس میں بالی وڈ کی فلم سازوں کی دلچسپیاں بھی خاصی نظر آ رہی ہیں۔

گزشتہ دنوں یہ خبر آئی تھی کہ بالی وڈ کی معروف اداکارہ امیشا پٹیل کی فلم ’شارٹ کٹ رومیو‘ بھی کانز فلمی میلے میں نمائش کے لیے جا رہی ہے۔

اس بابت اميشا نے کہا کہ ’میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ میں کانز میں ہندوستانی سنیما کی نمائندگی کر رہی ہوں۔ میں وہاں کسی برانڈ کے لیے نہیں جا رہی ہوں بلکہ اپنی فلم کے لیے جا رہی ہوں جو ایک بڑی بات ہے۔‘

ادھر ’گینگس آف واسع پور‘ کے ہیرو نوازالدين صدیقی کی بھی تین فلمیں کانز جا رہی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ انہیں خوشی ہے کہ ان کی فلم کانز میلے میں دکھائی جائے گی۔

اس سے قبل بالی وڈ کی اداکاہر ملکا شیراوت اور کئی فنکاروں نے کہا ہے کہ انہیں کانز فیسٹیول کا حصہ بننے پر ناز ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اميشا پٹیل، ملکا شیراوت اور نوازالددین کی فلمیں غیر معمولی یا کچھ خاص ہیں یا پھر اس تقریب کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے اکثر خبروں اور بیانات کی بھیڑ میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟

دراصل دیگر فلمی میلوں کی طرح کانز فلم فیسٹیول کے دوران بھی فلموں کا بازار لگتا ہے جہاں کوئی بھی آکر اپنی فلم کو پرموٹ کر سکتا ہے۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ بازار کانز فلمی میلے کا حصہ نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ تو اس کے سائد لائنز کی منڈی ہے جہاں پیسے دے کر کسی بھی تھیٹر میں آپ اپنی فلم کا پریمیئر کر سکتے ہیں اور اگر کوئی دلچسپی لے تو اسے بین الاقوامی خریدار کو دکھا سکتے ہیں۔

امیشا پٹیل کی فلم ’شارٹ کٹ رومیو‘ اور شرلن چوپڑا کی ’کام سوتر تھريڈي‘ بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔

فلم ناقد اندو میراني کہتی ہیں: ’اگر کوئی اپنی فلم کہیں فروخت کرنے جا رہا ہے تو اس میں فخر کرنے جیسی کیا بات ہے اور یہ کس طرح ہندی یا بھارتی سینما کی نمائندگی ہوسکتی ہے؟ ایسے میں امیشا پٹیل کس بنیاد پر سنیما کی نمائندگی کی بات کر رہی ہیں۔‘

اندو کے مطابق: ’ان فلموں کو کانز فلم فیسٹیول کی جانب سے مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ وہاں آپ اپنی مارکیٹنگ کے لیے خود جا رہے ہیں۔ وہاں بازار میں یہ لوگ اس امید سے اپنی اسٹال لگائیں گے کہ ان کی فلم دیکھنے کے بعد شاید کوئی اسے عالمی بازار کے لیے خرید لے۔‘

صاف لفظوں میں کہیں تو ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے پاس اگر کوئی چھوٹی سی دکان کھولی جائے تو وہ اس ہوٹل کا حصہ تو نہیں لیکن کئی بار بتانے والے اس کا ذکر کچھ اس انداز سے کرتے ہین کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ دکان پانچ ستارہ ہوٹل میں ہی ہو۔

Image caption ایشوریہ رائے عام طور پر ایک برانڈ ایمبسڈر کی حیثیت سے اس میں شامل ہوتی ہیں

یہ تو ہوئی بازار کی بات لیکن کانز فلمی میلے کی بات ديگر ہے جہاں اصل میں دنیا بھر کی بہترین فلموں کو نمائش کی دعوت دی جاتی ہے جن میں سے بعض میلے میں مقابلہ کا حصہ ہوتی ہیں تو بعض فلموں کی خصوصی نمائش کی جاتی ہے۔

سنہ 1946 میں بنی ’نیچا نگر‘ پہلی بھارتی فلم تھی جس نے کانز فلمی میلے افتتاحی سال میں انعام جیتا تھا۔

اس کے بعد فلم ساز اور معروف ہدایت کار ستیہ جیت رے اور بمل رائے نے بھی کانز فلمی میلوں میں بھارتی فلموں کی علیحدہ شناخت دلائی۔

اس سال عالمی سنیما کے کئی بڑے نام کانز کے جیوری میں شامل ہیں جن میں ہالی وڈ کے معروف ہدایت کار سٹیون سپیلبرگ، آنگ لی کے ساتھ بھارتی اداکارہ ودیا بالن کا نام بھی شامل ہے جو کہ بھارتی سینما کے لیے فخر کی بات ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ہندوستانی سنیما کے سو سال پر بنی فلم پر 'بامبے ٹاکیز' کو بھی کانز فلم فیسٹیول کی گالا اسکریننگ کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کئی پراڈکٹس کے برانڈ ایمبسڈر بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔ ایشوریہ رائے ہر سال اس حیثیت سے اس فلم میں شامل ہوتی ہیں اور اسی طرح سونم کپور اور فریڈا پنٹو بھی اپنے اپنے پروڈکٹ کے برانڈ ایمبسڈر کے طور پر وہاں ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں