نصیر احمد ناصر کی شاعری کا مطالبہ

نام کتاب: تیسرے قدم کا خمیازہ

مصنف: نصیر احمد ناصر

صفحات: 184

قیمت: 350 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

E-mail: sanjhpks@gmail.com

نصیر احمد ناصر کی موجودہ کتاب غالباً ان کی سینتیس سال کے دوران کی گئی نثری شاعری کا انتخاب ہے۔ انتخاب اس لیے کہ وہ باقاعدگی سے مسلسل لکھ رہے ہیں اور یہ کہنا غالباً درست نہیں ہو سکتا کہ انھوں نے یہی ستر اکہتر نثری نظمیں لکھی ہوں گی۔

اگر اسے انتخاب نہ کہیں اور یہ سمجھیں کہ انھوں نے 1975 سے 2012 کے درمیان یہی اکہتر نثری نظمیں لکھی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کا نثری نظم لکھنے کا سالانہ اوسط دو نظموں کے لگ بھگ ہے، جو کچھ درست محسوس نہیں ہوتا۔

یہ بات میرے ذہن میں شاید اس لیے آئی ہے کہ جب شاعری کے کسی طالبِ علم کے سامنے کوئی ایسا شعری مجموعہ آتا ہے تو اس کا ذہن شاعر کے ہاں شعری نمو کے انداز کو بھی سمجھنا چاہتا ہے یعنی یہ کہ اگر اس کی شاعری سینتیس سال پر پھیلی ہوئی ہے تو ان برسوں کے دوران اس کی محسوسات اور بیان کے انداز میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں۔ اس کے ہاں زبان کا برتاؤ کیسے کیسے بدلا۔

وہ شاعر سے نظم کی ایڈٹنگ سیکھنے کی بھی خواہش کر سکتا ہے۔ لیکن اس مجموعے میں نصیر احمد ناصر ایسے پڑھنے والوں کو کوئی سہولت نہیں دیتے۔

مجموعے میں شامل پہلی نظم ’رات زندگی سے قدیم ہے‘ سے ’نظمیہ‘ تک بلکہ نظمیں کو بھی چھوڑ دیں، ’انتم سمے کی بات‘ تک، یکسان مہارت اور اظہار محسوس ہوتا ہے۔ ہم بالکل اندازہ نہیں لگا سکتے کہ نظم کی ساخت میں شاعر کا سفر کن مراحل سے گذرا ہوگا۔

اس سفر کے بارے میں جاننا پڑھنے والوں کے لیے کیوں ضروری ہوتا ہے اور اس سے پڑھنے والوں کو کیا مدد ملتی ہے اور یہ مدد خود شاعر اور شاعری کے حق میں کیا اہمیت رکھتی ہے، یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی تفصیل یہاں نہیں کی جا سکتی۔

کتاب کے شروع میں نصیر ناصر نے نثری نظم کے تخلیقی جواز کے بارے میں اپنے اس اداریے کو شامل کیا ہے جو انھوں نے کوئی پندرہ سال پہلے لکھا تھا۔ اس میں انھوں نے کتنا رد و بدل کیا ہے، اس بارے میں بھی ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیوں کہ اس کے لیے ’تسطیر‘ کا وہ شمارے سامنے ہونا چاہیے جس میں یہ اداریہ پہلی بار شائع ہوا تھا۔

اس داریے میں انھوں نے نثری شاعری کی تاریخ کا احاطہ کیا ہے لیکن سینٹ جان پرس کا نام ان کی توجہ حاصل نہیں کر سکا، پرس یقینی طور پر نثری شاعری کا پہلا اور اب تک کا سب سے بڑا شاعر کہا جا سکتا ہے۔ اسے 1960 میں نوبل انعام پیش کیا گیا جس کے پندرہ سال بعد اس کا انتقال ہو گیا۔

سینٹ جان پرس کا نام اس لیے اہم ہے کہ اسے اپنے اظہار کے لیے نثری شاعری کے سوا کوئی اور فارم مناسب محسوس نہیں ہوئی۔ میری ناقص رائے میں اب تک، کسی بھی زبان میں، نثری شاعری کا کوئی ایک بھی اور شاعر ایسا نہیں ہے، جس کا تقابل سینٹ جان پرس سے کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ نصیر ناصر اس اداریے میں نثری شاعری کرنے کے لیے، کچھ ایسی شرائط بھی عاید کرتے ہیں کہ جنھیں اصول کے طور پر قبول کر لیا جائے تو سینٹ جان پرس ہی کو شاعری سے بے دخل کرنا ہوگا۔ کیا تو نہیں جا سکتا لیکن اگر کوئی کوشش بھی کرنا چاہے تو اسے کم از کم پرس کا ہم قامت تو ہونا ہی چاہیے۔ کیا کوئی ہے؟

میرا خیال ہے کہ حدیں جاری کرنے کا کام اگر شعر بلکہ ادبی حدود سے بھی باہر رہے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ آخر کوئی جگہ تو ہو جہاں سانس لینے پر حدود و قیود نہ ہوں۔

یہی آزادی انھیں بھی ہے جو پڑھنے اور پسند و ناپسند کرنے والے ہیں۔

نصیر احمد ناصر کی نظموں کے اس کے علاوہ تین مجموعے، عرابچی سو گیا، پانی میں گم خواب اور ملبے میں چیزیں، کے ناموں سے آ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ایک مجموعہ ’زرد پتوں کی شال‘ کے نام سے آیا ہے، جن میں ہائیکو ہیں اور ایک ’ظرفاب‘ کے نام سے ہے جس میں غزلیں ہیں۔

وہ 1954 میں، پاکستانی گجرات کے ایک دور افتادہ گاؤں میں پیدا ہوئے۔ کچھ عرصہ بیرونِ ملک بھی رہے اور اب راولپنڈی میں رہتے ہیں۔ وہ تسطیر کے نام سے ایک کتابی سلسلہ بھی مرتب کرتے رہے ہیں۔

کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ ان کی شاعری انگریزی سمیت دنیا کی سات سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ ’نصیر احمد ناصر کی نظموں میں نہ صرف روحِ عصر رواں ہے بلکہ ان میں کئی صدیاں سانس لیتی ہیں‘۔

کتاب ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ یہ رائے کس کی ہے۔ اس لیے اب اس کتاب کو پڑھنے والوں کو دیکھنا ہے کہ وہ روحِ عصر اور سانس لیتی صدیوں کو کہاں تک محسوس کر پاتے ہیں۔

لیکن نصیر احمد ناصر کے موجودہ مجموعے کو ساری باتیں اور نظریے بھلا کر پڑھنا چاہیے کیونکہ جب تک آپ، اس شاعری کو ساری باتوں سے آزاد ہو کر نہیں پڑھیں گے، آپ کو اُس شعری مزاج اور ہم آہنگی کا علم ہی نہیں ہوگا جو آپ اور اس شاعری میں مشترک ہے اور اصل بات تو اسی شعری ہم آہنگی کی دریافت ہے۔

نصیر احمد ناصر کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ان چند ایک شاعروں میں سے ہیں جن کے لیے شاعری بذاتِ خود ایک مقصد ہوتی ہے۔

ایک اور اہم بات نصیر ناصر کی زبان ہے۔ ان کی شعری لغت مختلف اور ہندی آمیز ہے، جب کہ ان کی اسی کتاب میں شامل ان کا اداریہ نما مضمون اس آمیزش کے بغیر بھی اظہار پر دسترس کا مظہر ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اور کیسے یہ آمیزش ان کے شعری اظہار کے لیے ناگزیر ہوتی ہے، میں بھی اس کا جواز تلاش کر رہا ہوں، آپ بھی ضروری سمجھیں تو کریں ورنہ انتظار کریں، شاید نصیر ناصر خود کسی وقت ہماری مدد کرنے آمادہ ہو جائیں۔ ہر چند کہ شاعر کسی طور سے اس کا پابند نہیں ہے۔ یہ فرض تو ہم پڑھنے والوں پر ہی عاید ہوتا ہے اور ہمیں بھی کچھ نہ کچھ تیاری تو کرنی ہی چاہیے۔

کتاب کا سرورق سعید ابراہیم نے بنایا ہے، کتاب عمدہ چھپی ہے اور خوش بختی کی حد تک غلطیوں سے پاک ہے۔

اسی بارے میں