لیڈیا ڈیوس نے پانچواں مین ُبکر پرائزجیت لیا

Image caption لیڈیا ڈیوس 1947 میں امریکی ریاست میساچوسٹس میں پیدا ہوئیں

پانچویں عالمی مین بُکر انعام کے لیے چھیاسٹھ سالہ امریکی مصنفہ اور مترجم لیڈیا ڈیوس کو منتخب کیا گیا ہے۔

یہ انعام ہر دو سال کے بعد دیا جاتا ہے۔اس انعام کے لیے دنیا بھر سے دس ادیبوں کو فائنل کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

ان میں لیڈیا ڈیوس کے علاوہ پاکستان اور اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور ناول نگار انتظار حسین اور ان کے علاوہ دیگر آٹھ ادیبوں میں ہندوستان کے یوآرآننتھ مورتی، اسرائیل کے اہرن ایپل فیلڈ، چین کے یان لیان کے، فرانس کی ماری این جائے، کینیڈا کے جوزف نواکوچ، امریکہ کی میریلین روبنسن، روس کے ولادی میر سوروکن اور سوئٹزر لینڈ کے پیٹر سٹام شامل تھے۔

عالمی بُکر 2013 کس کے مقدر میں ہو گا؟

لیڈیا ڈیوس سے پہلے 2005 میں شروع ہونے والا یہ مین بُکر کا یہ عالمی انعام البانوی فکشن نگار اور شاعر اسمائیل کادرے کو 2005 میں اور ان کے بعد 2007 میں نائجیریا کے چینوا اچیبے کو، 2009 میں کنیڈین افسانہ نگار ایلس منروکو اور 2011 میں امریکی ناول نگار فلپ روتھ کو دیا جا چکا ہے۔

مین بکر انٹرنیشنل پرائز ان لکھنے والوں کو بھی دیا جاتا ہے جو دوسری زبانوں میں لکھتے ہیں لیکن اب تک اسماعیل کادرے واحد ادیب ہیں جو انگریزی کی بجائے اپنی زبان میں لکھتے ہیں۔ لیکن ہر دوسرے سال مقابلے کے فائنل میں پہنچنے والے زیادہ ادیبوں کی تعداد انھی ادیبوں کی ہوتی ہے جو اپنی اپنی زبانوں میں لکھتے ہیں۔

لیڈیا ڈیوس 1947 میں امریکی ریاست میساچوسٹس میں پیدا ہوئیں اور اب نیویارک کے صدر مقام آلبنی کی یونیورسٹی میں تخلیقی تحریر یعنی کری ایٹیو رائٹنگ کی پروفیسر ہیں۔

وہ دو میدانوں میں اپنی مہارت کے لیے مشہور ہیں لیکن انھوں زیادہ نام اور احترام پہلے فرانسیسی سے فلابیئر کے ناول مادام بواری کے نئے ترجمے اور مارسل پروست کے ناول ’سوانز وے‘ کی پہلی جلد کے ترجمے سے کمایا۔

اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے بڑی تعداد میں افسانے لکھے ہیں اور امریکی افسانے کو ایک نیا پیرایہ دیا ہے۔

ان کے افسانے کم سے کم محض ایک سطر کے اور زیادہ سے زیادہ چار صفحے کے ہوتے ہیں۔انھیں خود اپنے ہی ایجاد کردہ اس انداز کا ماہر تصور کیا جاتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کا انداز پروست اور فللابیئر کے انداز کا ردِ عمل ہے۔

ان کے افسانوں کی کلیات 2009 میں شائع ہوئی جس میں ان کے افسانوں کے تمام مجموعوں میں شامل کہانیوں کو اکٹھا کر دیا گیا جس کے بعد ان کے افسانوں کا صرف ایک اور مجموعہ ’دی کاؤز‘ کے نام سے 2011 میں شائع ہوا۔

لیڈیا ڈیوس کو انعام کے طور پر 60 ہزار پاؤنڈ ملیں گے۔

اردو میں ان کی کم و بیش بیس کہانیاں حال ہی میں کراچی سے شائع ہونے والے کتابی سلسلے ’دنیا زاد‘ کی 38 ویں اشاعت میں شائع کی گئی ہیں۔

پانچویں عالمی بکر کے لیے فائنل میں آنے والے ادیبوں میں امریکی مصنفہ میریلین روبنسن واحد تھیں جو اس سے پہلے بھی اسی انعام کے لیے نامزد ہو چکی تھیں۔

اسی بارے میں