اردو میں عریانی اور فحاشی کے لیے رہنما

Image caption اس کے علاوہ مدیر نے دہلی کے نوجوان ادیب، تصنیف حیدر اور ممبئی کے وقار قادری کا بھی شکریہ ادا کیا ہے

نام کتاب: کتابی سلسلہ، اثبات، 13-12

مدیر: اشعر نجمی

صفحات: 488

قیمت: 200روپے ہندوستانی

ناشر: اثبات پبلی کیشنز، بی۔ جلا رام درشن، پوجا نگر، میرا روڈ (ایسٹ)، تھانے، ممبئی انڈیا:esbaat@gmail.com

اثبات کا یہ شمارہ، عریانی اور فحش نگاری پر مشتمل خصوصی اشاعت ہے۔ اس میں زیادہ تر مواد ایسا ہے جو پہلے بھی ایک سے زیادہ بار بھی شائع ہو چکا ہے۔ لیکن ایسے ایک جگہ جمع نہیں ہوا ہو گا۔

مدیر و مرتبیں شدید خوف و احتیاط سے دوچار محسوس ہوتے ہیں۔ اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر جغرافیائی طور یا ہندوستان اور پاکستان کے طور پر نہ بھی دیکھا جائے تو بھی، یہ صاف ہے کہ اردو اظہار کے معاملے میں کشادہ ہونے کی بجائے تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ حالاں کہ یہ بات سماجی صورت حال سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

صفائی پیش کرنے کی ابتدا ’بین السطور‘ کے تحت، انماالاعمال نالنّیات کے عنوان سے لکھے جانے والے اداریے ہی سے ہو جاتی ہے۔

اداریہ بتاتا ہے کہ اس خوف کو پیدا کرنے میں کسی اور سے زیادہ شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کا ہاتھ ہے جنھوں نے خوشی کا اظہار تو کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کے کچھ لوگ اسے دوسرا رنگ دینے کی کوشش کریں گے۔ اس مشورے کے بعد، ان پر اعتماد اور اعتقاد رکھنے والے کی اگر روح فنا نہیں ہو گی تو ہوا ضرور خراب ہو جائے گی۔

اس کا اثر آپ ان لفظوں میں دیکھ لیں: ’مشورے کو تسلیم کرتے ہوئے، اس ادبی مسئلے پر نظری تنقید کو مقدم رکھا اور نمونۂ کلام کا حصہ ’مصلحتاً‘ مختصر کر دیا‘۔ یہی نہیں، اس مختصر میں بھی ’فحش نگاری‘ پر ’عریاں نگاری‘ کو ترجیح دی۔

یہی بہت کام کی بات ہے، اگر عریانی کا نام فحاشی ہوتا یا عریانی اور فحاشی ہم معنی ہوتے تو غریب اور بھی واجب القتل ہو جاتے، خاص طور سے مصوری اور مجسمہ سازی کے لیے تو جگہ ہی نہ بچتی۔ لیکن اردو والوں کو ایسی باتوں سے کیا کام۔

لیکن اداریہ کہہ رہا ہے کہ عریانی کا تعلق جمالیات سے ہے اور فحاشی کا تعلق سماجیات سے۔ جمالیات کے جغرافیے اور سماجیات کی تاریخ کا معاملہ اپنی جگہ، یہ اداریہ اپنی جگہ خود اہم تحریر ہے جس کے سارے پہلوؤں پر بات ہونی چاہیے۔

اس اشاعت کے مندرجات کی تفصیل ہی اتنی طویل ہے کہ اس مختصر تبصرے میں ان پر بات نہیں ہو سکتی۔ لیکن ان مندرجات کا جاننا یوں ضروری ہے کہ آپ خود جان لیں اور یہ دیکھ لیں کہ ان کا پڑھنا کتنا لازم ہے۔

پہلے حصے میں، ادب و فن میں فحاشی کا مسئلہ اور نئی شاعری: محمد حسن عسکری، عریانی کے فن کا ازسرِ نو تعین: ہیولاک ایلس، بات عریانی کی: محمد حسن، چوں خمیر آمد ودستِ نانبا: شمس الرحمٰن فاروقی، فحاشی کی تعبیریں اور ادب میں جنس اور زندگی: سلیم اختر، فحش ادب کیا ہے: شہزاد منظر، ادب اور جنس: وزیر آغا، فحاشی مقصود بالذات: احتشام حسین، یااللہ یہ فحش نگاری کیا ہوتی ہے: عصمت چغتائی، فحش کی تشکیل: قاضی افضال حسین، ادب، امرد اور امان اللہ اور جنون اور جنس: میر اور میرا جی: تصنیف حیدر اور فحاشی اور نئی دنیا: مبین مرزا کی تحریریں ہیں۔

اسی ضمنی دوسرے حصے میں صحیح اور غلط کے تعین پر ٹائن بی اور دیسا کوا کیدا کا مکالمہ ہے اور فحاشی اور ادب پر ایک مذاکرے کا ترجمہ ہے جس میں ہیو ہیمفرے، نارمن جے او کانر، رچرڈ ای گیری، مارک ٹینم اور مرے برنیٹ شریک ہیں۔

دوسرے حصے میں جو ’چوں کفر از کعبہ برخیزد‘ کے عنوان سے ہے، نیاز فتح پوری، حسرت موہانی، گیان چند جین، برٹرینڈ رسل، ڈی ایچ لارنس، محمد حسن عسکریت ن م راشد، سلیم احمد، عنایت اللہ مشرقی، علی عباس جلال پوری، مہدی حسن افادی، عطاؤ اللہ پالوی، ابوللیث صدیقی، کلیم الدین احمد، کرشن چندر، سید سجاد ظہیر، سردار جعفری، شبلی نعمانی، آلِ احمد سرور، شمس الرحمٰن فاروقی، مولانا صلاح الدین احمد، جوش ملیح آبادی، شمس بدایونی اور پیٹر سسکائنڈ کی تحریروں سے اقتباسات ہیں۔

تیسرا حصہ ’حزاب الاختلاف‘ کے عنوان سے قائم کیا گیا ہے اور اس میں رشید احمد صدیقی کا مضمون نئے ادب کے تاروپود، عدلیب شادانی کا ادب میں عریانی اور فحاشی اور ابو الاعلٰی مودودی کا مضمون ’نام نہاد ادب‘ شامل ہیں۔

اس کے بعد پھر الطاف حسین حالی، ممتاز شیریں، ممتاز حسین، ماہر القادری اور خواجہ رضی حیدر کے مضامین کے اقتباسات ہیں۔

پانچویں اور چھٹے حصوں میں فراق گورکھ پوری، سعادت حسن منٹو، رفیع احمد خاں، ن م راشد، میرا جی، ممتاز مفتی، خوشونت سنگھ، سلیم اختر، عصمت چغتائی، فہمیدہ ریاض، پروین شاکر، واجدہ تبسم، امرتا پریتم اور کشور ناہید کے اپنی تخلیقات اور تصورِ تخلیق کے بارے میں وضاحتیں ہیں۔

حزب احتساب کے عنوان سے دنیا کے ان دس ممنوعہ ناولوں کے بارے میں پابندیوں کی تفصیلات ہیں جو انتہائی معروف بھی ہوئے۔

یہی نہیں اس شمارے میں اور اتنا کچھ ہے کہ مختصر انداز سے بھی اس کے بارے میں بتانا مشکل ہے۔ یعنی نادر انتخاب، بہترین تراجم اور قابلِ توجہ تخلیقات۔ یعنی چودھری محمد ردولی، محمد حمید شاہد، افتخار نسیل، تیجندر شرما، شاہد اختر اور ممتاز حسین کے افسانے اور ایسے ایسے انتخاب اور تراجم کہ نایاب کہے جائیں گے۔

اس انتخاب کو پڑھتے ہوے مجھے رہ رہ کر محترم علی اقبال کی یاد آ رہی تھی کہ اشاعت کے صفحہ 288 پر اظہارِ تشکر میں ان کا ذکر مل گیا۔ مدیر نے ان کا شکریہ جیسے ادا کیا ہے، اسی سے آپ کو ان کے کام کا اندازہ ہو جائے گا:

’شاید یہ شمارہ اس طرح شائع نہ ہو پاتا، اگر پاکستان کے معروف صحافی علی اقبال کی گراں قدر تالیف ’روشنی کم، تپش زیادہ‘ پر میری نظر نہ پڑی ہوتی، جس میں انھوں نے فحاشی کے موضوع پر بہت سے تحریروں کو یکجا کر دیا ہے۔ یہ اردو میں اپنے موضوع پر پہلا اور بڑا جامع انتخاب ہے۔ میں نے اس کتاب سے کافی استفادہ کیا ہے، جس کے لیے میں صاحبِ کتاب کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘۔

اس کے علاوہ مدیر نے دہلی کے نوجوان ادیب، تصنیف حیدر اور ممبئی کے وقار قادری کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔ شمس الرحمٰن فاروقی تو اس شمارے کی ایسی روحِ رواں ہیں کہ انھیں اس کی ادارت کا لازمی جز ہی تصور کیا جانا چاہیے۔

اردو میں اگر عریانی اور فحاشی کے بارے میں کچھ لکھنا یا فیصلہ کرنا ہو یا اس معاملے کو سمجھنا ہو تو’اثبات‘ کے اس شمارے کو لازماً اولین دستاویز کے طور پر یاد رکھا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں