محبت کیسے کی جائے؟

Image caption اس فلم کو بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں، شاید اور بھی مل جائیں، لیکن کیا یہ فلم تھیٹروں میں جا سکے گی؟

نیویارک میں جدوجہد کرتے ایک نوجوان مصور ڈین ڈیگسٹینو (نیٹ ڈشکو) کی محبوبہ ازابیلا روزی (لنڈسی گرونسن) جو کولمبیا یونیورسٹی میں میتھ کی سٹوڈنٹ ہے، مبینہ طور پر خود کشی کر چکی ہے۔ اس کے جاننے والوں کا خیال ہے کہ ازابیلا ذہنی طور پر غیر متوازن اور جذباتی لڑکی تھی، اس لیے اس کا ایک بلند عمارت سے کود کر خود کشی کر لینا کوئی ایسی حیران کُن بات نہیں۔

ڈین ازابیلا کے بارے میں ایسی میں کسی بات کو قبول نہیں کرتا، وہ سمجھتا ہے کہ ازابیلا ایک ذہین ترین طالبہ تھی اور کوئی بات ایسی نہیں تھی جو اُسے خود کشی پر مجبور کر سکے۔ ازابیلا تو میتھ کی مشکل سے مشکل ایکویشن کا حل نکالنے میں سر تا سر منہمک رہتی تھی۔

کہانی کے اولین منظر میں ڈین اپنی آنسرنگ مشین پر پیغامات سُن رہا ہے جس کے ذریعے اس کی بد حالی سامنے آتی ہے۔ اسی میں اس میں ڈین اور ازابیلا کی مشترک دوست سوزینا مینسچ (ڈیبری لین ٹوٹن) کا پیغام بھی ہے، اسی دوران سوزینا خود بھی ڈین کے دروازے پر آتی لیکن ڈین اس کے لیے دروازہ ہی نہیں کھولتا۔

بعد میں وہ خود سوزینا کے پاس جاتا ہے، جو ایک گیلری میں کیوریٹر ہے اور اصرار کرتا ہے کہ ازابیلا نے خود کشی نہیں کی۔ ساتھ ہی ڈین اُسے اپنی وہ ڈرائنگز دکھاتا ہے جو اس نے ازابیلا کی تحریک پر بنائی ہوتی ہیں۔

سوزینا کو یہ ڈرائنگز سمجھ نہیں آتیں اور وہ ڈین کو ایک نفسیاتی ماہر کے پاس بھیجتی ہے، اُس کا خیال ہے کہ نفسیاتی ماہر اُسے اس کی ڈرائنگز کے معنی بھی سمجھا سکتا ہے۔

نفسیاتی ماہر کے پاس جا کر ڈین پر کھلتا ہے کہ اُس ماہر نفسیات کے پاس ازابیلا بھی آتی رہی ہے۔ لیکن ڈاکٹر اُسے یہ بتانے سے انکار کر دیتا ہے کہ ازابیلا اُس سے کس سلسلے میں ملتی تھی۔

اسی کے بعد ڈین کو خود اپنے ہی گھر کی ایک دراز سے ازابیلا کی وہ نوٹ بُک مل جاتی ہے جس میں وہ میحتھ اکویشن حل کرنے کے نوٹس بنایا کرتی تھی۔ وہ اُسے لے کر ازابیلا کے ڈیپارٹمنٹ جاتا ہے، جہاں اسے ایک طالبہ نوٹ بُک دیکھ کر بتاتی ہے کہ یہ نوٹس اُس میتھ اکویشن کے بارے میں ہیں جے اُن کے ڈیپارٹمنٹ کے ایک طالب علم نے حل کر لیا ہے۔ وہ اسے نوٹس بورڈ پر اُس کا نام بھی دکھاتی ہے۔

ڈین اس سے ملتا ہے تو ساری کہانی کا رخ بدل جاتا ہے اور ثابت ہو جاتا ہے کہ ڈین کا اندازہ درست تھا اور ازابیلا نے خود کشی نہیں کی تھی۔

کہانی کو خوبصورتی سے فلمایا گیا ہے۔ انجام کو غیر متوقع بنانے کے لیے بہت موثر الجھاوے بھی پیدا کیے گئے ہیں۔ مصوری اور میتھ کو محبت کے ذریعے سے جوڑا گیا ہے۔ ڈین اور ازابیلا کے جسمانی تعلق کو بھی نہ تو چھپایا گیا اور نہ ہی بہت دکھایا گیا ہے۔

ساری کہانی میں ڈین بہت سرگرم ہے جب کہ مرکزی کردار ازابیلا جس کے گرد ساری کہانی گھوم رہی ہے، صرف دوسرے کرداروں کے تصورات اور خیالات کے حوالے سے دکھائی گئی ہے۔

ڈین کے سوا تمام لوگ ازابیلا کو انتہائی موڈی، پاگل، جذباتی، مایوسی کی شکار، اداسی کا مارا قرار دیتے ہیں لیکن ڈین اُسے انتہائی ذہین، متجسس اور پُرکشش لڑکی سمجھتا ہے، اس سارے قضیے کو بہت اچھی طرح دکھایاگیا ہے۔

کہانی کہتی ہے کہ جب جب تخلیقی انہماک کسی کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو اس کے لیے، دو اور دو چار پر اصرار کرنے والا حسابی علم بھی محبت کا مربع بن جاتا ہے Art = (Love)² اور فن تو ہے ہی محبت کا مربع۔ لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس محبت کے گرد قوسین (بریکٹس) ہیں۔

فلم میں کینوس پر رنگوں کے بہاؤ کو بڑے تخلیقی انداز سے استعمال کیا گیا ہے، وقت اور مرکزی کردار کے جذبات کو ایک جگہ پھلوں کے سڑنے کے امیج بہت طاقتور انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اور اس میں فلم کے ڈائریکٹر فوٹوگرافی برائن پرزیبک کو یقیناً سراہا جائے گا۔

فلم میں کئی جگہ لگتا ہے کہ اُسے اس کی رو میں جانے سے روکا گیا۔ لگتا ہے کہ جیسے مصنف اور ڈائریکٹر کو جو ایک ہی ہیں، ذرا ڈر لگنے لگا ہو کہ فلم ناقابلِ فہم نہ ہو جائے۔ اس سے فنکارانہ جمالیات تو متاثر ہوتی ہے لیکن ڈرنا بجا بھی تھا۔

Image caption فلم میں کینوس پر رنگوں کے بہاؤ کو بڑے تخلیقی انداز سے استعمال کیا گیا ہے

جب تک آپ کے کھاتے میں تجارتی بنیادوں پر کامیاب، یا کم از کم کسی حد تک کامیاب فلم نہ ہو آپ کے اندر بے خطر آگ میں کودنے والا اعتماد پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔

ممتاز اس سے قبل بالترتیب، مولانا جلال الدین رومی پر ’ان سائیڈ یو‘ کے نام سے، غلام عباس کی کہانی اوور کوٹ پر پُش بٹن، بٹر فلائی سکرین، سول آف سولائیزیشن، اور یہ میرا پاکستان بنا چکے ہیں۔

ان کی اس فلم کو بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں، شاید اور بھی مل جائیں، لیکن کیا یہ فلم تھیٹرز پر جا سکے گی، یہ بات بہت اعتماد سے نہیں کی جاسکتی۔ تھیٹر کی دنیا میں تو محسن حامد کے سیاسی تناظر سے بھر پور ناول ’ری لکٹنٹ فنڈامینٹلسٹ‘ پر بننے والی فلم تک رک نہیں پا رہی۔

اس فلم کو دیکھنے کے بعد مجھے گوند نہلانی کی 1984 کی فلم پارٹی بھی یاد آئی، لیکن ایک حد تک۔ نہلانی نے فلم کے لیے ابسن کے اِسی نام سے لکھے جانے والے ڈرامے ’پارٹی‘ کو بنیاد بنایا تھا۔

لیکن اس فلم کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ یہ فلمسازوں کو ممتاز حسین کے بارے میں بتائے گی کہ ان میں فیچر فلم بنانے کی بھرپور صلاحیت ہے اور ان پر پیسے لگائے جا سکتے ہیں۔

ممتاز حسین نے این سی اے لاہور اور برطانیہ سے مصوری کی اور نیویارک میں رہتے ہوئے مختلف کالجوں میں اپنی پسند کے لوگوں سے فلم سازی کے مختلف پہلوؤں کی تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ اردو میں کہانیاں بھی لکھتے ہیں۔

وہ کل وقتی مصور ہیں، کیا وہ فلم کے لیے خود کو اُسی طرح تج سکتے ہیں جیسے انھوں نے مصوری کے لیے اپنے والدین کی بات بھی نہیں مانی تھی؟ ایسا نہیں کریں گے تو کیا وہ ویسے ہی فلم ساز بھی بن سکیں گے جیسے وہ مصور ہیں؟

ممتاز حسین کی یہ فلم سنیچر کو کراچی میں ٹی ٹو ایف میں دکھائی گئی اور پیر کو فرانسیسی کلچر سینٹر میں دکھائی جائے گی۔

اسی بارے میں