گلوکار منّا ڈے کی حالت نازک

Image caption گلوکار منّا ڈے سنہ 1919 میں مغربی بنگال کے شہر کولکاتہ میں پیدا ہوئے

بھارت کے معروف گلوکار منّا ڈے کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور ان کو سینے میں تکلیف کے بعد بنگلور کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ ان کی حالت سنگین ہے اور سینے میں انفکشن کے سبب کئی طرح کی دوسری طبی پیچیدگیاں آ گئی ہیں۔

ہر طرح کے نغموں کو آسانی کے ساتھ گانے کا ہنر رکھنے والے منّا ڈے کا شمار بالی وڈ کے اہم پلے بیک سنگروں میں ہوتا ہے۔

ویسے تو مناڈے نے ہر طرح کے گیت گائے ہیں، لیکن ان کی خاص شہرت اور مہارت کلاسیکی انداز کی گائیکی تھی اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ جیسے مہارت انھیں کلاسیکی گائیکی پر تھی، وہ بالی وڈ کے کسی اور مرد گلوکار کو حاصل نہیں ہوئی۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ 94 سالہ گلوکار اپنی بیگم کی یاد میں ایک گیت ریکارڈ کرانے والے تھے لیک اس قبل ان کی طبیعت خراب ہو گئی اور کلیان نگر میں ان کو گھر پر ہی طبی سہولیات فراہم کی جانے لگیں لیکن ان کی طبیعت بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوتی گئی تو انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔

ابھی حال ہی میں یکم مئی کو انھوں نے اپنا یوم پیدائش منایا تھا اور ان کے مداحوں کے ساتھ ساتھ گلوکارہ لتا منگیشکر اور بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی نے بھی انھیں مبارک باد پیش کی تھی۔

منّا ڈے اپنے گیتوں’لاگا چنری میں داغ‘ یا پھر ’پوچھو نہ کیسے میں نے رین بتائی‘ کے علاوہ ’اے مری زہرہ جبیں‘، ’پھول گیندوا نہ مارو‘، ’کون آیا میرے من کے دوارے‘ یا ’یہ دوستی ہم نہیں چھوڑیں گے‘، ’تو پیار کا ساگر ہے‘، ’یاری ہے ایمان میرا یار میری زندگی،‘ ’اے بھائی ذرا دیکھ کے چلو،‘ ’تجھے سورج کہوں یا چندا‘، ’یہ رات بھیگی بھیگی‘، جیسے گیتوں کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔

Image caption منّا ڈے کو اپنی زندگی میں پدم بھوشن کے لیے درجنوں اعزازات سے نوازا گیا

منّا ڈے کو لوگ پیار سے منّا دا کہتے ہیں۔ وہ بنگال میں پیدا ہوئے۔ جب ممتا بینرجی نے انھیں مخصوص ’مہا سنگیت‘ اعزاز سے نوازا تو اس کے ساتھ ہی ممتا بینرجی نے ان سے اپنی آبائی ریاست آنے کی درخواست بھی کی تھی۔

منّا ڈے نے مختلف زبانوں میں ہندی، اردو، بنگالی، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، کنّڑ، آسامی فلموں کے لیے گیت گایا۔

کلاسیکی موسیقی سے انہیں رغبت تھی اس لیے انہوں نے استاد امان علی خان اور استاد عبدالرحمٰن خان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی اپنی مادری زبان بنگالی میں انہوں نے کئی گیت گائے۔ سچن دیو برمن کے ساتھ انھوں نے معاون کے طور پر میوزک کمپوز بھی کیا تھا۔

منّا ڈے کی آواز کے رینج کو فلمی دنیا میں کافی سراہا جاتا تھا۔ وہ محمد رفیع، طلعت محمود، کشورکمار اور مکیش جیسے بڑے گلوکاروں کے زمانے میں اپنی مخصوص پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔

بہت سے فلم ناقدین کا کہنا ہے کہ بالی وڈ نے منّا ڈے کی صلاحیت سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا اور ان کے پورے رینج کا استعمال نہیں کیا۔

منا ڈے یکم مئی 1919 میں کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے انہیں بنگالی فلم نشی پدمو میں گیت کے لیے پہلی بار قومی اعزاز دیا گیا۔ اسی سال انہیں فلم میرے حضور کے لیے بہترین پلے بیک سنگر کا ایوارڈ بھی ملا۔

منّا ڈے اور راج کپور کی جوڑی نے گیت اور گلوکاری کا ایک نیا رنگ اور آہنگ پیش کیا۔ 1971 میں انہیں ’میرا نام جوکر‘ کے گیت ’اے بھائی ذرا دیکھ کے چلو‘ کے لیے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

انہیں حکومت ہند نے پدم شری اور پدم بھوشن جیسے اعزازات سے نوازا جب کہ سال 2011 میں انھیں فلم فیئر نے لائف ٹائم اعزاز تفویض کیا۔

اسی بارے میں