سوات میں پہلی آرٹ کی نمائش

Image caption مقامی آرٹسٹ ناصر شین کا ایک فن پارہ

خیبر پختو نخوا کے ضلع سوات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ رنگونہ کے نام سے ہنر کدہ کے زیرِ اہتمام سیدو شریف کے سرینہ ہوٹل میں ایک بڑی نمائش کا انعقاد کیا گیا جس کا افتتاح کور کمانڈر پشاور کی اہلیہ مسز خالد ربانی نے کیا۔

ایک ہفتے تک جاری رہنے والی اس نمائش میں سوات کے چار مقامی اور راولپنڈی کے ایک آرٹسٹ کے فن پارے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ ان فن پاروں میں لینڈ سکیپ، خطاطی اور لکڑی پر کیے جانے والے کام کے نمونے شامل ہیں۔

سوات کے معروف مقامی آرٹسٹ ناصر شین نے اس نمائش میں لکڑی کے فن پاروں کے ذریعے پشتون کلچر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پختون مہذب اور پرامن قوم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی مہمان نوازی کے وجہ سے دنیا میں مشہور ہیں اور اپنے اس فن پاروں کے ذریعے انھوں نے یہی دکھانے کی کوشش کی ہے۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی آرٹسٹ بشریٰ ذیشان نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اسلامی خطاطی پر کام کیا ہے اس کے مطابق اس نے اپنے فن پاروں میں اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’دنیا بے راہ روی کا شکار ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ ہم اس آرٹ کے ذریعے لوگوں کو اللہ کی طرف راغب کرسکتے ہیں۔‘

نمائش میں شریک سوات کے مقامی صحافی رشید اقبال نےسوات میں آرٹ کی سرگرمیوں کے آغاز کو سوات کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آرٹ سلجھے ہوئے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے دنیا کو ایک مثبت پیغام دیا جائے گا اور انہیں باور کرانے کی کوشش کی کی جائے گی کہ اب یہاں امن ہے۔

اس نمائش کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس میں رکھے گئے آرٹ کے ان نمونوں کو دیکھنے کے لیے مقامی لوگوں کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد سوات کا رخ کرر ہی ہے۔

آرٹسٹوں نے بتایا کہ آرٹ سے لگاؤ ہی سوچ کو مثبت رویوں پر مائل کرسکتا ہے ان کے مطابق جس تعداد میں مرد، بچے اور خواتین یہاں آئے ہیں اور وہ جس شوق سے آرٹ سے محظوظ ہو رہے ہیں وہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

اسی بارے میں