شاہ رخ خان کے خلاف محکمہِ صحت کی تفتیش

کیا بالی وڈ کے اداکار شاہ رخ خان اور ان کی بیوی کو معلوم ہے کہ ان کے یہاں بیٹا پیدا ہونے والا ہے؟ اگر میڈیا کی خبروں کو مانیں تو پیدائش سے پہلے ہی انہیں اس بات کا علم ہے۔

لیکن بھارت میں پیدائش سے قبل چونکہ بچے کی جنس کی شناخت پر پابندی عائد ہے، اس لیے اس خبر کی بنیاد پر محکمہ صحت کے افسران اس معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

ریاست مہاراشٹر میں وزیر صحت سریش شیٹی نے افسران سے کہا ہے کہ وہ شاہ رخ خان سے متعلق اس معاملے کی چھان بین کریں۔

حکومت نے ملک میں بچیوں کے جنین کے قتل کے بڑھتے واقعات کو دیکھتے ہوئے مادر رحم میں بچوں کے جنس کی جانچ کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

شاہ رخ خان کے پاس ایک بیٹا اور ایک بیٹی پہلے سے ہیں اور خبروں کے مطابق شاہ رخ خان اور ان کی اہلیہ گوری کو ایک اور اولاد سروگیٹ مدر یعنی کرائے کی ماں سے ہونے والی ہے۔

میڈیا کی خبروں کے مطابق شاہ رخ خان نے کا کہنا ہے کہ اُن کا بیٹا ہوگا۔

ایک میڈیکل ایسوسی ایشن نے وزارت صحت کو اس بارے میں خط لکھ کر اس کی تفتیش کا مطالبہ کیا۔ لیکن شاہ رخ خان اور ان کی بیوی کی طرف سے حمل یا جنس کے ٹیسٹ سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں آیا ہے۔

سریش شیٹی نے تصدیق کی ہے کہ ان کی وزارت کو انڈین ریڈیولوجی اینڈ امیجنگ ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک ای میل کی گئی جس کے بعد انہوں نے اپنے اہلکاروں کو تفتیش کرنے کو کہا ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو اس معاملے میں ’مناسب کارروائی‘ کی جائے گی۔

انڈین ریڈیولوجی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’ہم تفتیش کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ سچ سامنے آئے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کس نے کس سے کیا کہا۔‘

شاہ رخ خان اور ان کی بیوی گوری اب تک میڈیا کی ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق ہو سکتا ہے کہ میڈیا کی یہ خبریں غلط ہوں یا پھر شاہ رخ اور ان کی اہلیہ نے ایسے کسی ملک میں الٹراساؤنڈ کرایا ہو جہاں یہ غیر قانونی عمل نہیں ہے۔

اسی بارے میں