سارتر: افسانے و ڈرامے اور وجودیت کا تعارف

نام کتاب: وجودیت، اثباتِ ذات کا فلسفہ

مصنف: ڈاکٹر افتخار بیگ

صفحات: 128

قیمت: 150 روپے

ناشر: سٹی بک پوائنٹ، ندیم سکوائر، اردو بازار۔ کراچی

E-mail:citybookurdubazaar@gmail.com

اب تو دنیا میں شاید ہی کوئی زبان ہو جس کے ادب اور فنون وجودیت سے متاثر نہ ہوئے ہوں۔ ہر چند کے ستر کی دہائی تک آتے آتے وجودیت کے بارے میں کلیشے کی اصطلاح بھی استعمال ہونے لگی تھی لیکن یہ لیبل بھی وجودیت کے اثرات کے پھیلاؤ کو روک نہیں سکا۔

ادب میں دوستوفسکی، ابسن، کافکا، ژاں ژینے، اندرے ژید، اندرے مالروکس، خود سارتر اور سیمون دی بور کے علاوہ سیموئیل بیکٹ، کنٹ ہمسُن اور یوجین آئینسکو مصوروں اور مجمسے سازوں میں گیاکومٹی، جیکسن پولاک، ارشلے گورکی، اور ویلم ڈی کوننگ اور فلم سازوں جین لیو گودارد، اکیرا کروساوا، انگمار برگمان ستیہ جیت رے صرف چند ایک نام ہیں جو حافظے پر تھوڑا سا بھی زور دیے بغیر ذہن میں آ جاتے ہیں۔

جیسا کے کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہے ڈاکٹر افتخار بیگ نے اسے ذات کا اثبات کرنے والی فکر کے طور پر لیا ہے اور اس کے لیے فلسفے کا لفظ بھی استعمال کیا ہے اگرچہ روایتی فلسفے والوں کو یہ بات اب تک اُسی طرح ہضم نہیں ہوئی جیسے اردو میں اب تک ایسے نقاد ہیں جن کا حاضمہ نثری شاعری کے نام پر خراب ہونے لگتا ہے۔

افتخار بیگ نے اردو کے ساتھ سیاسیات میں ماسٹرس کیا اور اس کے بعد اردو ہی میں ڈاکٹریٹ بھی کی۔ اب وہ لیہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں تنقید کے علاوہ شاعری بھی کرتے ہیں اور ان کا ایک مجموعہ ’کبھی تم سوچنا‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک کتاب ’مجید امجد کی شاعری اور فلسفۂ وجودیت! اور ایک ’بیسویں صدی کی اردو شاعری پر وجودیت کے اثرات‘ کے نام سے آ چکی ہے۔ اس اعتبار سے یہ ان کی چوتھی کتاب ہے۔

اس کتاب کو انھوں نے آٹھ ابواب میں تقسیم کیا ہے: باب اوّل: وجودیت – درونِ ذات کا شعلہ، باب دوم: وجود، باب سوم: موضوعیت اور صداقت، باب چہارم: داخلی وارداتیں، باب پنجم: تصورِ حریت اور ذمہ داری، باب ششم: تصورِ موت اور زمانیت، باب ہفتم: بیگانگی/ مغائرت (Alienation) اور باب ہشتم: مذہبی اور دہری وجودیت۔

ابواب کی تقسیم سے واضح ہے کہ انھوں نے وجودیت کا تعارف کراتے ہوئے سارے پہلو سامنے رکھے ہیں۔ لیکن ان کی کتاب کی ضخامت کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ انھوں نے سمندر کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ سمندر کوزے میں بند تو ہو جاتے ہیں لیکن اتنے ہی جتنے کہ کوزے میں سما سکتے ہیں۔ لیکن ان کے کوزے میں جو سمندر ہے وہ آپ کو سمندر سے متعارف کرانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور یہی شاید ان کا مقصد بھی ہے تا کہ اس کے بعد آپ کا دل چاہے اور حوصلہ بھی ہو تو سمندر میں اتر جائیں۔

نئے پڑھنے والوں کے لیے کتاب عمدہ اور بہت کار آمد تو ہو گی مگر اسے کافی نہیں سمجھنا چاہیے۔ جہاں تک فلسفے کے طالب علموں کا تعلق ہے تو انھیں بہت سی باتیں بحث طلب محسوس ہو سکتی ہیں۔

دوسری زبانوں کے مقابلے میں اردو میں وجودیت پر اور وجودیت کے حوالے سے بہت کم لکھا گیا ہے اس لیے بھی ڈاکٹر افتخار کے کام کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ لیکن اگر وہ اس تعارف میں ان لوگوں کے کام کا حوالہ بھی دیتے جنھوں نے اردو میں وجودیت کے تعارف کی ابتدا کی تو ان کے کام کو زیادہ اعتبار حاصل ہوتا۔

فلسفے کی تخلیقی و ادبی شکل

نام کتاب: سارتر کے افسانے اور ڈرامے

مرتب: فہیم شناس کاظمی

صفحات: 288

قیمت: 400 روپے

ناشر: سٹی بک پوائنٹ، ندیم سکوائر، اردو بازار۔ کراچی

E-mail:citybookurdubazaar@gmail.com

فہیم شناس کاظمی کا نام کم از کم ان لوگوں کے لیے اب خاصا جانا پہچانا ہونا چاہیے جو کتابوں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ اس سے پہلے آٹھ کتابیں دے چکے ہیں جن میں ایک ’سارتر کے مضامین، کے نام سے اِسی ادارے ’سٹا بُک پوائنٹ‘ سے شائع ہوئی ہے۔

نوعیت کے اعتبار سے ان کی یہ کتاب بھی اُسی طرح کی ہے جیسی کے سارتر کے مضامین ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں سارتر کی تین کہانیاں اور تین ڈرامے جمع کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک تعارف ہے کہ جو شناس کاظمی نے ’خاموش احتجاجی لہجے کی خوشبو- سارتر‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ ایک مختصر تمہید ہے، جو محمد حسن عسکری نے تب باندھی تھی جب سارتر کا ڈرامہ ’نو ایگزٹ‘ جس کا ترجمہ ’اندھی گلی‘ کے نام سے کیا گیا ہے، پہلی بار ترجمہ ہو کر شائع ہو رہا ہو گا۔

ژاں پال سارتر نے کُل پانچ کہانیاں اور چھ ڈرامے لکھے۔ اس مجموعے میں شامل کہانی ’قربت‘ اینٹی میسی کا ترجمہ ضمیر الدین احمد نے کیا، ’دیوار‘ دی وال اور ایروس ترے دس کے ترجمے شاہد احمد دہلوی نے کیے ہیں جب کہ ایروس ترے دس کا ہی ترجمہ صغیر ملال نے دوام کے نام سے کیا ہے۔ دی روم اور دی چائلڈہُڈ آف اے لیڈر کے تراجم اب تک نہیں ہوئے۔

اسی طرح سارتر کے چھ ڈراموں میں سے تین کے تراجم اس مجموعے میں شامل ہیں۔ شاہد احمد دہلوی نے نو اگزٹ کا ترجمہ ’اندھی گلی‘ کے نام سے کیا ہے۔ فلائیز کا ترجمہ ’مکھیاں‘ کے نام سے پرویز عالم نے کیا ہے۔ رسپکٹ فُل پراسٹیٹیوٹ کا ترجمہ شریف طوائف کے نام سے سلیم عاصمی نے کیا ہے۔

اس کے علاوہ تین ڈرامے، دی کنڈیمنڈ آف الٹونا، دی ڈیول اینڈ دی گُڈ لارڈ اور ڈرٹی ہینڈز کے تراجم شاید ابھی نہیں ہوئے۔

یہ کتاب اس اعتبار سے غالبًا اہم ہے کہ اس میں اُن تراجم کو جمع کر دیا گیا ہے جو مختلف جگہوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ لیکن اگر اس میں ترجمے کرنے والوں کے بارے میں بھی معلومات دی جاتیں تو بہت عمدہ ہوتا کیوں کہ شاہد احمد دہلوی کے بارے میں تو فرض کیا جا سکتا ہے کہ لوگ انہیں جانتے ہوں گے لیکن صغیر ملال، پروز عالم اور سلیم عاصمی کے بارے میں لوگ اس طرح نہیں جانتے ہوں گے۔

سلیم عاصمی کے بارے میں تو لوگوں کو زیادہ تر صحافت کے حوالے سے علم ہے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انھوں ادب کے ساتھ مصوری سے بھپی دلچسپی لی۔ کتاب میں یہ بتانے کا تکلف تک نہیں کیا گیا کہ یہ کہانیاں کہاں کہاں اور کب کب شائع ہوئیں۔ نہیں کہا جاسکتا کہ اس ادبی ایمانداری پر مرتب کو ادب کے لوگ کیسے کیسے داد دیں گے۔

کتاب میں اگر پروف ریڈنگ پر بھی کچھ زیادہ توجہ دی جاتی تو قیمت کچھ کم تکلیف دہ ہو سکتی تھی۔ ٹائٹل میں ڈراموں کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ لیکن یہ باتیں بھی متن کی اہمیت کو کم نہیں کرتیں۔

اسی بارے میں