سلمان خان پر قتل کا مقدمہ چلے گا

سلمان خان
Image caption سلمان خان کو شکار سمیت کئی مقدمات کا سامنا ہے

بالی وڈ کے اداکار سلمان خان پر سنہ 2002 کے ’ہٹ اینڈ رنز‘ معاملے میں غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

اس برس جنوری میں مجسٹریٹ سطح کی ایک عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ اس معاملے میں سلمان پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں۔

اسی نچلی عدالت کے حکم کو سلمان خان نے مارچ میں چیلنج کیا تھا لیکن گزشتہ روز ممبئی کی ایک عدالت نے ان کی اس اپیل کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے سلمان خان کو کورٹ میں پیش ہونے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا ہے۔ اس کیس میں اگر سلمان خان قصوروار پائے جاتے ہیں تو انہیں 10 سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

47 سالہ سلمان پر اس سے پہلے لاپرواہی سے گاڑی چلانے کا مقدمہ درج کیا گيا تھا جس میں زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا ہوسکتی تھی۔

لیکن بعد میں مجسٹریٹ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سلمان پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت ہیں۔

28 ستمبر 2002 کو ایک لینڈ كروذر کار ممبئی کے باندرہ علاقے میں ایک بیکری کے باہر واقع فٹ پاتھ پر سو رہے لوگوں پر چڑھ گئی تھی۔

اس حادثے میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی اور چار دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ اس کار کو مبینہ طور پر سلمان خان چلا رہے تھے۔

اس سے قبل شہر جودھپور کی ایک مقامی عدالت نے اداکار سلمان خان، سیف علی خان، سونالی بیندرے اور تبو کو غیر قانونی شکار کے 14 برس پرانے ایک معاملے میں فروری کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ ریاست کی پولیس نے ان کے خلاف 1998 میں مبینہ طور پر دو کالے ہرن مارنے کے سلسلے میں چار مقدمات درج کیے تھے۔ کالا ہرن اس علاقے میں نایاب ہے اور اس کے شکار پر پابندی ہے۔

اس وقت سلمان خان اپنی فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے سلسلے میں جودھپور میں تھے۔

اسی بارے میں