فلمی شاعری اور موسیقی پر نایاب معلومات

فلم کے نغمہ نگار
Image caption زخمی کانپوری کی تین کتابوں کے ٹائٹلوں کے عکس

نام کتاب: فلم کے نغمہ نگار

مصنف: زخمی کانپوری

صفحات: 431

قیمت: 600 روپے

ناشر: سٹی بک پوائنٹ، نوید سکوائر، اردو بازار۔ کراچی

E-mail:citybookurdubazaar@gmail.com

زخمی کانپوری کی یہ کتاب عجیب ہے۔ عجیب ان معنوں میں کہ یہ انتہائی غیر متوقع ہے۔ بظاہر فلمی نغمہ نگاری کو کوئی خاص ادبی اہمیت حاصل نہیں ہوتی اور یوں بھی فلمی شاعری کو مشاعروں سے بھی کم تر شاعری تصور کیا جاتا ہے۔ یہی خود میرا بھی تاثر تھا۔ اسی وجہ سے میں دوسری کتابیں پڑھتا رہا اور اس کتاب کو ٹالتا رہا۔

آخر اس کتاب کا نمبر بھی آگیا۔ سب سے پہلے بیک ٹائٹل دیکھا۔ زخمی کانپوری کی تصویر کے سامنے شعر تھا: آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا / جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا، مہدی حسن کی آواز میں یہ غزل ایک زمانے کی مقبول ترین غزل تھی اور اب بھی کہیں بج رہی ہو تو دھن اور بول خود بخود اندر سے امڈنے لگتے ہیں۔ عبید اللہ علیم میرے انتہائی عزیز سینئر دوست تھے لیکن مجھے یہ علم نہیں تھا کہ یہ غزل ان کی لکھی ہوئی ہے۔

اسی انکشاف نے مجھے کتاب پڑھنے پر اکسایا۔ جیسے جیسے پڑھتا گیا حیران ہوتا گیا۔ کتاب کے ہر صفحے پر ایسی کوئی نہ کوئی بات موجود ہے جس کا مجھے علم نہیں تھا یا تھا تو درست نہیں تھا۔ یہ ساری باتیں صرف فلموں کے لیے گانے لکھنے والوں کے بارے میں ہی نہیں ہیں بلکہ موسیقاروں اور خود فلمی صنعت کے بارے میں بھی ہیں۔

جہاں اور بہت سی بدنصیبیاں میرے ساتھ رہی ہیں وہاں یہ بھی رہی ہے کہ فلمیں دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ پہلی فلم بچپن میں دیکھی تھی۔ نام تو یاد نہیں لیکن منظر یاد ہے، بہاولنگر کے ایک میدان میں، ٹینٹ لگا کر بنائے گئے سنیما ہاؤس میں۔ اس رات ہوا بھی کچھ زیادہ تھی، نہ صرف ٹینٹ کی چھت اور دیواریں جھول رہی تھیں بلکہ وہ پردہ بھی جس پر فلم چل رہی تھی۔

اُس کے بعد ملتان کے ایک سنیما گھر میں فلم آن دیکھی، شاید یہی بات تب کے حکمرانوں کو پسند نہیں آئی اور انھوں نے ہندوستان سے فلموں کی آمد پر پابندی لگا دی۔ وہ فوجی ڈکٹیٹر ضیاالحق کی پتہ نہیں کیا ضرورت تھی کہ پاکستان میں نہ صرف وی سی آر آیا بلکہ ہندوستانی فلموں سمیت ہر طرح کی فلمیں آنے لگیں۔ لیکن تب بھی مالی حالت ایسی تھی کہ وی سی آر تک رسائی ممکن نہ تھی لیکن ایک چھوٹا سا کیسٹ پلیئر تھا جس پر گانے سننے کا موقع مل جاتا تھا۔ یہ حال ایک میرا ہی نہیں رہا ہو گا اس میں سے تو اکثریت گذری ہوگی۔

زخمی کانپوری کی اس کتاب نے کتنی ہی باتیں یاد دلا دیں۔ وہ کمال کی شخصیت تھے۔ پاکستانی فلمی صنعت پر اب تک ان کی گیارہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ یہ بھی کم از کم میرے لیے ایک انکشاف ہی ہے کہ پاکستانی فلمی صنعت پر، جو اب قصۂ ماضی بن چکی ہے اتنا کچھ لکھا گیا ہو گا۔ انگریزی کی کچھ کتابوں کا تو مجھے علم تھا لیکن اردو میں تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

زخمی کانپوری جن کا اصل نام جمیل احمد تھا، 18 اگست 1938 کو انڈیا کے شہر کانپور میں پیدا ہوے۔ پاکستان بنا تو خاندان کے ساتھ ادھر آ گئے، ایم اے اردو اور ایل ایل بی تک تعلیم حاصل کی۔ پہلے بحریہ میں ملازمت کی اور پھر وکالت کرنے لگے۔ 1987 سے انھوں نے فلموں کے بارے میں لکھنا شروع کیا۔ انھوں نے پانچ سو کے لگ بھگ مضمون لکھے جو روزنامہ جنگ اور ہفت روزہ اخبارِ جہاں میں شائع ہوتے رہے۔

اس کتاب میں آرزو لکھنوی سے یونس ہمدم تک اکیاسی نغمہ نگاروں کے بارے میں مضامین ہیں اور انھوں نے فلم کو ہندوستان، پاکستان میں نہیں بانٹا۔ ان مضامین کے لیے انھوں نے باقاعدہ تحقیق کی، سفر کیے، شاعروں سے انٹرویو کیے اور فلم سے تعلق رکھنے والوں کی باتیں ریکارڈ کیں۔

ذرا بتائیں کیا آپ بھرت ویاس کے بارے میں جانتے ہیں، میں تو نہیں جانتا تھا لیکن مجھے ان کے لکھے ہوئےمقبول گیت یاد ہیں۔

تب سے میرے کانوں میں گونج رہے ہیں جب ریڈیو سیلون، ہر صبح ہر طرف بجا کرتا تھا: آ لوٹ کے آجا میرے میت رے، لتا اور مکیش کا گایا ہوا یہ گیت فلم رانی روپ متی کا ہے، پھر ’ذرا سامنے تو آؤ چھلیے / جوت سے جوت جگاتے چلو/ یہ کہانی ہے دیے کی اور طوفان کی / اے مالک تیرے بندے ہم اور سیاں جھوٹوں کا بڑا سردار نکلا۔ ان گانوں کے لکھنے والے بھرت ویاس مارواڑی تھے، اردو ان کی زبان نہیں تھی لیکن ان کے اردو گیت دیکھیں تو اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

اچھا استاد دامن کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہوں گے لیکن کیا آپ کے علم ہے کہ انھوں نے نہ صرف فلم کے لیے گیت لکھے بلکہ مکالمے بھی لکھے۔ نورجہاں کی آواز میں مقبولیت حاصل کرنے والا یہ گیت کون بھول سکتا ہے: چنگا بنایا ای، سانوں کھڈونا، یہ گیت استاد دامن ہی نے لکھا تھا۔

اس کے علاوہ جن شعرا کے ناموں پر حیرت ہوتی ہے ان میں جوش ملیح آبادی (نگری میری کب تک یونہی برباد رہے گی، من جا من جا بالم من جا نہ ٹُھکرا میرا پیار)، فیض احمد فیض اور منیر نیازی بھی شامل ہیں۔

بلاشبہ یہ کتاب ایک بے بہا خزانہ ہے۔ لیکن اردو میں ہے اور اردو جس ملک کی قومی زبان ہے، وہ اس زبان کے بارے میں ہی سنجیدہ نہیں ہے تو اس زبان میں بننے والی فلموں اور ان کے حوالے سے لکھی جانے والی کتابوں کے بارے میں کیا سنجیدہ ہوگا۔

کتاب کی پروڈکشن اچھی ہے۔ ٹائٹل دیدہ زیب ہے، سٹی بک پوائنٹ کی کتابوں میں پروفنگ کے مسائل تو ان کی شناخت کا حصہ ہیں۔ ممکن ہے وہ سوچتے ہوں کہ ہر بات اچھی ہو گئی تو کہیں نظر ہی نہ لگ جائے۔ لیکن اس کی وجہ سے مواد پر بھی شک ہونے لگتا ہے۔

یہ بھی عجیب بات ہے کہ برصغیر میں فلم کے سو سال کا شور مچا ہوا ہے لیکن ان سو سال پر بات کرنے والوں میں ایک بھی ایسا نہیں جو زخمی کانپوری یا ان کے کام کے بارے میں جانتا ہو۔ کیا کیا جائے کہ اس موضوع پر بھی اکثر بولنے والے میری طرح ایسی کتابوں کو پڑھتے نہیں ہیں اور بولنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اگر یہی کتاب انگریزی میں ہوتی تو پورا سوشل میڈیا اِس کے ذکر سے بھرا ہوتا۔

اسی بارے میں